15 نومبر 2018
تازہ ترین

درخت اور ماحولیاتی نظام درخت اور ماحولیاتی نظام

سب سے پہلے میں مشہور قول کا حوالہ دوں گا ’’جب ارادہ ہو تو راستے خود ہی نکل آتے ہیں۔‘‘ جس طرح ہماری آبادی میں اضافہ ہورہا ہے، اس لحاظ سے ہمیں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کی ضرورت ہے۔ یہ ضرورت تو پہلے بھی تھی لیکن بدقسمتی سے ملک کو سیاست نے برباد کردیا اور دیگر معاملات کی طرح اس پر بھی کسی نے توجہ نہیں دی۔ مجھے یاد ہے 80 کی دہائی میں مشہور ماہر باغبان خان مرحوم نے سخی حسن نالہ کے ساتھ درخت لگائے جس کی وجہ سے پورا علاقہ بہت پُرکشش لگتا تھا۔ پھر کئی برسوں بعد ان کو کسی کی ہدایت پر کاٹ دیا گیا جب کہ وہ تناور درخت بن چکے تھے اور ان کوپانی دینے کی بھی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ نالہ کے ساتھ تھے اور وہیں سے پانی حاصل کرتے تھے۔ ایسا کس نے کیا اور کیوں کیا اورکیا کسی نے ان کے خلاف کارروائی کی؟
مرحومہ بے نظیر بھٹو کے دور میں جب زرداری وزیر منتخب ہوئے تو انہوں نے پورے ملک میں بڑی تعداد میں درخت لگانے کی ہدایت کی اور فیکٹری مالکان کو بھی’’go green policy‘‘ پر عمل کرنے کا حکم دیا۔ پاکستان اسٹیل مِل میں بھی درخت لگانے کی مہم کا آغاز کیا گیاجو اسٹیل مِل سے لے کر جناح ایئرپورٹ تک لگائے گئے، لیکن وقت کے ساتھ سارے درخت غائب ہونا شروع ہوگئے، جس میں حکام کی غفلت شامل ہیں۔کراچی کے سابق ناظم نعمت اللہ خان نے شارعِ فیصل پر کھجور کے درخت لگوائے جس سے شارعِ فیصل کا رستہ بہت خوبصورت لگنے لگا تھا، لیکن پھر نامعلوم وجوہ کے باعث وہ بھی ختم ہوتے گئے اور کچھ عرصہ بعد ان میں سے بمشکل 5فیصد ہی بچ سکے۔
اسی طرح ایک اور سابق میئر مصطفیٰ کمال نے کراچی میں بہت شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور کونوکارپس (Cornocarpus)کے درخت لائے جو پورے شہر کی سڑکوں کی گرین بیلٹس پر لگائے گئے، لیکن افسوس کہ کے ایم سی کے کسی اہلکارنے اور خصوصاً ہارٹی کلچر ڈپارٹمنٹ سے کسی فرد نے یہ مشورہ نہیں دیا کہ کراچی جیسے شہر میں، جہاں پانی کی بے حد کمی ہے، کس طرح کے درخت لگانے چاہئیں، جو ان کی بنیادی ذمے داری تھی۔
طویل عرصہ بعد اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ (Cornocarpus)کے درخت ہمارے ماحولیاتی نظام کو تباہ کررہے ہیں جب کہ ہمارے یہاں زیرزمین پانی کی سطح مزید نیچے جاچکی ہے۔ چنانچہ ان درختوں کو کاٹنے کا فیصلہ کیا گیا جس پر فوری عمل ہوا اور شارع فیصل سے یہ درخت کاٹے جارہے ہیں اور اب ان کی جگہ دوسرے پودے لگائے جارہے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے پورے ڈی ایچ اے میں گرین بیلٹس پر کھجورکے درختوں کو دوبارہ لگانے کا آغاز کیا گیا تھا، لیکن یہاں بھی لاپروائی کا مظاہرہ کیا گیا اوراب یہ درخت کہیں نظر نہیں آتے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان درختوں پر خرچ کی جانے والی کثیر رقم، کے نقصان کی ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے۔
درختوں کے فوائد کے سبب ان کی افزائش کی بڑی مثال دبئی ہے، جہاں ہر طرف گرین بیلٹس بنائی گئی ہیں اور بڑی تعداد میں درخت اور پودے اگائے گئے ہیں، اس کے علاوہ ایک تھیم پارک بھی تیارکیا گیا ہے۔ یہ بہت بڑا کام ہے، اس لحاظ سے کہ ایک صحرائی علاقے میں ہرسو اتنی بڑی تعداد میں سرسبز درخت اور رنگ رنگ کے پھول نظرآرہے ہیں، جس سے آب و ہوا بھی تبدیل ہوگئی ہے۔ یہ ثبوت ہے کہ واقعی اگر کچھ کرنے کا عزم کرلیا جائے تو آپ سب کچھ کرسکتے ہیں۔ 
ہمارے یہاں ایک اور مثال کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کراچی کی ہے جس نے ماضی میں ڈیفنس کے بہت سے گھروں میں پودے مفت تقسیم کیے تھے جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ درخت اگانا تھا جس سے شدید گرمی کی لہر پر قابو پایا جاسکے لیکن شاید ان کو اس کا ادراک نہیں تھا کہ اس علاقے میں پانی کی کس قدر شدید کمی ہے۔ مزید کہ انہوں نے پودوں کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھااور یہ محسوس نہیں کیا کہ پہلے یہاں وافر پانی فراہم کیا جائے اور پھر ڈیفنس کے لوگوں کو پودے لگانے کی ترغیب دی جائے۔ اس طرح سی بی سی بھی اپنے مقاصد میں ناکام ہوگیا اور ان کی تمام کوششیں بے کار گئیں۔
اب وقت آگیا ہے کہ اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور سائنسی طریقۂ کار کے مطابق زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کی مہم شرو ع کی جائے۔ اس سلسلے میں، میں یہاں چند تجاویز پیش کرنا چاہتا ہوں، لیکن اس سے پہلے یہ کہنا ضروری ہے کہ ایک احتساب بورڈ قائم کیا جائے جو نظر رکھے کہ کہیں عوام کا پیسہ غلط طور پر تو خرچ نہیں ہورہا، کیونکہ اس میں سفید کالر کے جرائم کی کافی گنجائش ہے۔
چند کارآمد تجاویز:
(1)ہارٹی کلچر ڈپارٹمنٹ کو ذمے داری سونپی جائے کہ وہ شہروں کے موسمی حالات کی مناسبت سے درختوں کا انتخاب کریں۔
(2)مختلف جگہوں پر سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائے جائیں اور نکاسی کے پانی کو کھلے سمندر اور جھیلوں میں پہنچایا جائے۔ حقیقت یہ ہے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ سے حاصل ہونے والا پانی آبپاشی کے لیے بہترین ہے۔ ایک بڑی مثال یہ کہ کراچی میں کئی لاکھ گیلن میں سیوریج کا پانی بغیر ٹریٹمنٹ کے سمندر میں بہادیا جاتا ہے اور اگر ہم کراچی میں شجر کاری کے لیے مختلف جگہوں پر ایسے ٹریٹمنٹ پلانٹ لگالیں۔ میرے خیال میں اس طرح بہت کم عرصہ میں شہر کا منظر ہی بدل جائے گا اور ہمارا سمندر بھی آلودہ پانی سے محفوظ ہوجائے گا۔ اس کے علاوہ کراچی کے شہریوں کو درخت اگانے کے لیے کم قیمت میں صاف پانی حاصل ہوسکے گا۔
(3)قدرت نے ہمیں ہر موسم کے پھلوں، سبزیوں اور دیگر اجناس کی بڑی ورائٹی عطا کی ہے۔ اگر ہم عوام کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ مختلف طرح کی اجناس کے استعمال کے بعد ان کے بیجوں کو کوڑے دان میں پھینکنے کے بجائے محفوظ رکھیں اور بلدیہ کے ڈپارٹمنٹس ان بیجوں کوگھروں، دکانوں اور مارکیٹس سے جمع کرلیں اور ان کوہیلی کاپٹر کے ذریعہ ایسی جگہوں پر پھیلادیں جہاں کوئی کاشتکاری نہیں کی جارہی تو چند برسوں میں ہی جنگل کا جنگل ہرا نظر آنے لگے گا۔ تعلیمی اداروں میں بھی درختوں کی اہمیت کے بارے میںمعلومات فراہم کی جائیں اور پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے عوامی آگہی کی مہم شروع کی جائے۔
سیاسی گندگی نے تو بہت کچھ برباد کیا ہے، لیکن اب ہم خود متحد ہوکر اس کا سدباب کرسکتے ہیں، تاکہ ہمارا ملک سرسبز وشاداب ہوسکے۔ ایسا قانون بنایا جائے کہ کسی کو بلاوجہ درخت کاٹنے کی اجازت نہ ہو اورہمارے ملک کی خوبصورتی کے نظام کو تباہ کرنے والے کے لیے سخت سزا مقرر کی جائے۔ آخری بات کہ ایسے پودوں کا انتخاب کیا جائے جو انسان دوست ہوں۔ یقین رکھیے کہ ’’جب ارادہ ہو تو راستے خود ہی نکل آتے ہیں۔‘‘