25 ستمبر 2018
تازہ ترین

خوشیاں اور خود کشیاں خوشیاں اور خود کشیاں

انکل سرگم کا کہنا ہے کہ آج کل عوام میں بلڈ پریشر کی بیماری نا صرف عام ہو رہی ہے بلکہ دن بہ دن اس کا پریشر بھی عوامی مزاج کے ٹمپریچر کی طرح بڑھتا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے بلڈ پریشر کی بیماری کی وجہ فضا میں آلودگی یعنی آلودہ ہوا اور ناخالص غذا سمجھی جاتی تھی، پھر ان وجوہات میں آلودہ پانی شامل ہوا اور اب ڈاکٹر کہتا ہے کہ بلڈ پریشر نارمل رکھنا ہے روزانہ بلڈ پریشر کی گولیاں کھایا کرو۔ ہم نے کہا کہ بلڈ پریشر کی گولیاں تو جوانی کے زمانے سے ہم لے رہے ہیں مگر آج تک بلڈ نارمل ہونے کے بجائے ’’بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی‘‘ مصداق کرپشن کی طرح قابو میں ہی نہیں آ رہا۔ پہلے سوچا کہ ہو سکتا ہے اس کی اصل وجہ ناخالص دوا ہو؟ پھر سوچا نہیں، ہم جب بھی بچوں سے ملنے امریکا جاتے ہیں تو وہاں بھی ہمارا بلڈ پریشر اتنا ہی چڑھا ہوتا ہے جتنا کہ اپنے ملک میں ہوتا ہے۔ پہلے خیال آیا کہ امریکا میں ہمارے بلڈ پریشر کے بڑھنے کی وجہ وہاںکی خالص غذا ہو سکتی ہے جس کے کھانے سے خون بڑھتا ہو گا۔ پھر خیال آیا کہ اسکی وجہ وہاں کا قاعدہ قانون ہو سکتا ہے جس کو دیکھ خون کا پریشر اس لیے بڑھ جاتا ہے بلکہ یہ سوچ کر خون کھو ل بھی اُٹھتا ہے کہ مسلمان ہم ہیں اور ہمارے دینی نظام پہ غیر مسلم عمل کر رہے ہیں؟۔ اسی کشمکش میں ہمیں ایک دن ٹی وی دیکھتے دیکھتے بلڈ پریشر بڑھنے کی وجہ اچانک سمجھ میں آ گئی۔ اُس دن سے اب ہمارا بلڈ پریشر اب قدرے نارمل رہتا ہے۔ آپ سمجھ رہے ہوں کہ شاید اسکی وجہ ٹی وی پہ اسلامی چینلز دیکھنا ہو سکتی ہے؟ یا پھر کسی کمرشل حکیم کے پرسنل چینل پہ کسی نے بلڈ پریشر نارمل رکھنے کی کوئی دوا تجویز کی ہو گی؟ مگر ایسا بھی نہیں ٹی وی پہ چند شروع کے نمبروں پہ آنے والے چینلز ہی دیکھ پاتے ہیں کہ ان پہ 
اتنے مزے کی لڑائی اور بدتمیزی ہوتی ہے کہ انہیں انجائے کرتے کرتے ہم اگلے چیینلز پہ شازو نادر ہی جاتے ہیں۔ تو پھر ہماری بلڈ پریشر نارمل ہونے کی اصل وجہ کیا ہو سکتی ہے؟ دوا تو ہو سکتی ہی نہیں کہ وہ ناخالص ہے۔ غذا بھی نہیں ہو سکتی کہ ابھی حال تک ہم بکرے کی قیمت پہ گدھے کا گوشت کھاتے رہے ہیں۔ تو پھر ہمارے آجکل بلڈ پریشر نارمل رہنے کی اصل وجہ کیا ہو سکتی ہے؟ تو اسکا جواب ہے کہ ٹی وی کے نیوز چینلز دیکھنے سے پرہیز کرنا۔ ہم اب ٹی وی کم دیکھتے ہیں اس لیے اب ہمارا بلڈ جو کہ دن بہ دن کی بڑھتی ہوئی آلودگی سے ابنارمل ہو چکا تھا اب نارمل ہونا شروع ہو چکا ہے۔
ہمارے اکثر نیوز چینلز پہ ایک ایسا پروگرام ضرور دکھایا جاتا ہے جسے دیکھ کر ان پاکستانیوں کا بلڈ ضرور پریشر میں آ جاتا ہو گا جو تھوڑی بہت غیرت رکھتے ہیں۔ ان پروگراموں میں دکھایا جاتا ہے کہ اسلامی جمہوری ریاست میں کس قسم کا کھلم کھلا فراڈ ہوتا ہے، کیسے کیسے گناہ کیے جا رہے ہیں، کیسے کیسے نیم حکیم سادہ اور بیوقوف لوگوں کو مزید بے وقوف بنا کر انکی جمع پونجی لوٹ رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نہ جانے کیوں پاکستان میں رہتے ہیں؟ انہوں نے کیوں اپنے نام اسلامی رکھتے ہوئے ہیں؟ یہ وہ انسان نما حیوان ہیں جو خود زندہ رہنے کیلئے دوسروں کا گلا کاٹتے ہیں، دوسروں کا باقی ماندہ خون چوستے ہیں۔ انکل سرگم کو یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ ایسے لوگوں کے زندہ رہنے کا مقصد کیا ہے؟ ان لوگوں کے زندہ رہنے سے انسانیت کو فائدہ کیا ہے؟ ایسے لوگوں نے معاشرے کو تباہی کے سوا اور دینا ہی کیا ہے؟ انہوں نے نہ تو کوئی اسپرین ڈسپرین بنانی ہے، بلکہ گورے کی بنائی ہوئی اسپرین ڈسپرین بلکہ جان بچانے والی دواؤں میں ملاوٹ ہی تو کرنی ہوتی ہے۔ اب ایسے لوگ جو خود کشی کر نے کے بجائے دوسروں کو خود کشیاں کرنے پہ مجبور کر دیتے ہیں، ان پہ بنے بے تحاشا پروگرام دیکھ کر ایک نارمل انسان کا بلڈ نارمل کیسے رہ سکتا ہے؟ چنانچہ اب ٹی چینلز پہ فراڈ سے بھرپور پروگراموں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کی خود کشیوں کی خبریں بھی سنائی اور دکھائی جاتی ہیں، جنہیں نارمل پریکٹس سمجھ کر نظر انداز یا خبر انداز کر دیا جاتا ہے۔ انکل سرگم کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں چھوٹا بندہ خود کشی کرتا ہے اور بڑا بندہ اسکی مدد کرتا ہے۔ مہنگائی اور ٹیکسوں کی بھر مار سے اگر کوئی غریب زندہ بچ کر پھرتا نظر آئے تو حیرت ہوتی ہے کہ اس نے اب تک خود کشی کیوں نہیں کی؟ کم تنخواہ اور کم آمدنی والے تو ہر دن یہ سوچ کر تیار رہتے ہیں کہ اس پہلی کو تنخواہ لیتے ہی وہ خود کشی کر جائیںگے۔ پہلے زمانے میں نوجوان کو ملازمت ملتے ہی اسکے والدین اور رشتے دار اس سے پوچھنا شروع کر دیتے تھے کہ ’’شادی کب کر رہے ہو؟‘‘ اب پوچھتے ہیں، ’’ملازمت تو مل گئی ہے، خود کشی کب کر رہے ہو؟‘‘ کم آمدنی والے باشندے تو روزانہ آٹے دال، گوشت سبزی کی دوکان پہ کھڑے کھڑے خود کشی کر جاتے ہیں اور دیکھنے والے کو انکی چلتی پھرتی لاش ہی دکھائی دیتی ہے۔ کچھ سیانے قصاب اور سبزی فروش تو گاہکوں کی خود کشی کی تہمت اپنے اوپر لینے سے بچنے کے لیے گوشت سبزی کا بھاؤ لٹکانے کے بجائے دوکان پہ یہ لکھوا لیتے ہیں کہ ’’کمزور دل حضرات دوکان میں داخل ہونے سے پرہیز کریں، گوشت سبزی کا بھاؤ سن کر انکا بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے‘‘۔
ہمارے ہاں ہر دور میں سرکار اور قدرت نے غریب کی سہولت کے لیے خود کشی کے آسان طریقے رائج کر رکھے ہیں۔ ان میںکچھ تو پرانے اور غیر مؤثر ہو چکے ہیں اور کچھ سستے ہونے کی بدولت اب بھی کار آمد سمجھے جاتے ہیں۔ غریب قاری کی سہولت کیلئے ہم ان میں سے چند طریقے پیش کر رہے ہیں تا کہ سند رہیں اور بوقت خود کشی کام آ سکیں۔
دریا کشی: خود کشی کا یہ طریقہ آسان تو ہے اس پہ کوئی خرچہ بھی نہیں آتا مگر اس کے لیے دریا میں پانی ہونا ضروری ہوتا ہے جو اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ دریا کشی کے بجائے ڈیم کشی بھی کی جا سکتی ہے مگر ملک میں ڈیم پہلے ہی نا ہونے کے برابر ہیں اور اگر ہیں بھی تو خاص علاقوں میں پائے جاتے ہیں اس لیے یہ سہولت سب کو میسر نہیں۔
پنکھا کشی: چھت کے پنکھے سے لٹک کر خود کشی کرنا صرف مڈل کلاس گھرانوں میں ہی پایا جاتا ہے۔ امیر گھرانوں میں چونکہ ایئر کنڈیشنرز ہوتے ہیں اور امیر لوگ ائیر کنڈیشنر سے لٹکنے سے تو رہے لہٰذا امیر لوگ اس طریقہ خود کشی سے محروم ہی رہتے ہیں۔ پنکھا خود کشی کچھ عرصہ پہلے تک مڈ ل کلاس میں خاصا مقبول و کار آمد سمجھا جاتا تھا، مگر اس طریقہ خود کشی پہ سے اب درمیانے طبقے کا اعتماد اٹھ سا گیا ہے۔ اس کی وجہ چھت کے پنکھوں اور بجلی کی قیمتوںمیں اضافے کی بدولت لوگوں میں اب دستی پنکھوں کے استعمال کے رجحان کا بڑھ جانا بتایا جاتا ہے۔ چھوٹے شہروں میں تو لوڈ شیڈنگ کی مدد سے سرکار نے پنکھا خود کشی کے رجحان پہ خاصا قابو پا لیا ہے۔
کنواںکشی: ایک سروے کے مطابق، کنویںمیں کود کے خود کشی کا طریقہ زیادہ تر وہ لوگ اپناتے ہیں جنہیں تیرنا نہیں آتا، چنانچہ کنو یں میں ڈوب کر مرنے کو زنانہ طریقہ کہا جاتا تھا۔ کنواں کشی کسی زمانے میں خاصی مؤثر سمجھی جاتی تھی کیونکہ کنواں تقریباً ہر گھر میں پایا جاتا تھا مگر آجکل کنویں کی حالت زیر زمیں پانی کم ہونے کی بدولت کسی کلرک کی مالی حالت کی طرح خشک ہی رہتی ہے، لہٰذا کنویں میں کود کر مرنا ناقابل اعتبار جانا جاتا ہے۔ پانی کی شدید قلت پیدا ہونے پانی میں ڈوب مرنا خود کشی سے مذاق کے برابر سمجھا جانے لگا ہے۔ جن لوگوں کو مئی جون میں خود کشی کرنا اشد ضروری ہوتا ہے، انہیں سیلاب کے موسم کا انتظار کرنا پڑتا ہے اور سیلاب کے موسم کے انتظار میں کئی حاجت مند تو مایوس ہو کر خود کشی کا ارادہ ترک بھی کر دیتے ہیں۔ ہمارے ایک جلد باز دوست نے ایک بار خود کشی کے لیے دریا میں چھلانگ لگائی اور دریا میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے انکا سر کیچڑ میں جا پھنسا جس سے وہ شرمندہ بھی ہوئے اور زخمی بھی۔ نتیجتاً، اس پہ آجکل اقدامِ خود کشی کا مقدمہ بھی چل رہا ہے اور انکے گھر والے وکیلوں کی فیسیں دے دے کر چوری چھپے اجتماعی خود کشی کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ قارئین اگر آپکو خود کشیوں کے یہ دو تین نمونے پسند آئے تو ہم گاہے گاہے ایسے بیشمار طریقے بتاتے رہیں گے۔