14 نومبر 2018
تازہ ترین

خودکش بمبار خودکش بمبار

پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی کوئی سیاسی جمہوری حکومت تخلیق نہیں ہوئی، جس کو تمام دیدہ نادیدہ قوتوں اور اداروں کی سرپرستی اور تعاون حاصل نہ ہو بلکہ وہ جو دعویٰ کرتے ہیں یہ سب انہی کا فیض ہے ورنہ:
 میں اس کرم کے کہاں تھا قابل
ابھی دو ہفتے بھی نہیں گزرے، ابھی تو میچ شروع بھی نہیں ہوا، ابھی تو صرف کھلاڑیوں کے نام ہی سامنے آئے ہیں۔ میدان میں ’’وارم اپ‘‘ ہو رہا ہے، لیکن کچھ کھلاڑی ایسے ہیں جن کی کپتانی نے فیلڈ میں پوزیشن واضح کر دی ہے۔ ایمپائرز بھی میدان میں آ گئے ہیں، وکٹ ایمپائر، لیگ ایمپائر۔ البتہ تھرڈ ایمپائر میدان سے باہر اپنے روم میں کمپیوٹرز کے ساتھ موجود ہے۔ جب بھی گراؤنڈ ایمپائر کسی کھلاڑی کی اپیل یا پھر ذہن میں کسی کنفیوژن کی بنا پر تھرڈ ایمپائر سے مدد کی اپیل کریں گے تو وہ تکنیکی معاون، موجود وسائل کو استعمال کر کے متعلقہ تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے ری پلے کا سہارا لیں گے۔ اگر معاملہ الجھا نہ ہوا تو صرف ایک ’’ری پلے‘‘ پر ہی فیصلہ آ جائے گا، لیکن اگر کنفیوژن زیادہ ہوئی تو پھر ری پلے بار بار بھی ہو سکتا ہے۔
ظاہر ہے کہ کپتان باؤلر ہیں، انہیں اپنی باؤلنگ پر فخر ہے۔ وہ لائن لینتھ بھی جانتے ہیں ان سوئنگ اور آؤٹ سوئنگ کے ساتھ یارکر اور باؤنسر پھینکنے کا ہنر بھی جانتے ہیں جس کا انہوں نے گزشتہ دنوں میں بھرپور مظاہرہ بھی کیا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ ’’الیکشن ٹاس‘‘ جیت گئے ہیں، اب سب کچھ ان کی صوابدید پر ہے، لیکن نہیں۔ ہمارے خیال میں وہ ٹاس ہار گئے ہیں مخالف ٹیم نے انہیں بیٹنگ کیلئے میدان میں کھڑا کر دیا ہے۔ اوپننگ کرنے والے کھلاڑی پہنچ گئے ہیں۔ ایمپائر بھی اپنی اپنی جگہوں پر کھڑے ہو گئے ہیں۔ اب دفاع بھی کرنا ہو گا اور ’’سکورز‘‘ بھی بنانا ہوں گے، لیکن افسوس کپتان کی ٹیم ابھی تک یہی سمجھ رہی ہے یا پھر جو کھلاڑی سکورز کیلئے میدان میں بھیجے گئے ہیں، وہ ابھی تک خود کو ’’اپوزیشن ٹیم‘‘ سمجھ رہے ہیں۔ ان کا طرز عمل فیلڈ میں کھڑی آسٹریلوی ٹیم جیسا ہے جو بیٹسمین کو پریشان کرنے، ذہنی الجھن میں مبتلا رکھنے، یکسوئی کو منتشر کرنے کو ہر غیر سیاسی اور غیر اخلاقی، غیر پارلیمانی الفاظ سے بھی گریز نہیںکرتی بلکہ ’’بلے باز‘‘ کے آتے ہی اس پر گالیوں کی بارش شروع کر دیتی ہے۔ ہر فیلڈر باؤلر کے ساتھ بھرپور تعاون کرتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب آسٹریلوی ٹیم کی نفسیاتی تربیت ہوتی ہے تو یہ ہنر بھی ایک ’’حربے‘‘ کے طور پر استعمال ہوتا ہے، لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہے، جو بیٹسمین دفاع کیلئے یا پھر مخالف ٹیم کے سامنے سکورز کا پہاڑ کھڑا کرنے آئے ہیں۔ وہ اپنی ہی سیاسی تربیت کے شکنجے میں جکڑے نفسیاتی مریض لگتے ہیں۔ ان کی ذہنی حالت ان ’’حوالاتیوں‘‘ جیسی ہے جن کے جرائم فیصلے کے منتظر ہوتے ہیں۔ ان کی حالت:
’’بک رہا ہوں جنوں میںکیا کیا‘‘
والی ہوتی ہے۔ جسے دیکھو وہ حکمران جماعت کا نہیں اپوزیشن کا کوئی ممبر لگتا ہے۔ ان کی باتیں تو ریکارڈ پر نہیں آتیں مگر وہ جو خصوصی وزارتوں پر فائز ہوئے ہیں جن کا کام تدبر، حکمت اور دانائی سے حکومتی امور کا دفاع کرنا اور ترجیحات کو عوام تک پہنچانا ہوتا ہے۔ وہ لذت کام و دہن سے ابھی تک رہائی حاصل نہیں کر سکے، ان کی تشنہ لبی ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔ پاکستان کی حکومتوں میں سب سے زیادہ وزارتوں کا تجربہ رکھنے والے شیخ رشید کی بذلہ سنجی کسی تعارف کی محتاج نہیں، وہ کسی وقت کوئی بھی گل فشانی کر سکتے ہیں، ان کے بارے کچھ لوگ اس طرح کے خیالات کا اظہار بھی کرتے ہیں۔
مری تعمیر میں مضمر ہے صورت اک خرابی کی
لیکن یہ جو پنجاب کے وزیر اطلاعات سامنے آئے ہیں، وہ پڑھے لکھے ہیں، ان کا اخباری دنیا سے وابستگی کا تذکرہ بھی ہے۔ سنا ہے وہ کالم نویسی بھی کرتے رہے ہیں۔ پنجاب لینگوئج آرٹ اینڈ کلچر کی تقریب میں خواتین کی موجودگی میں جن ارشادات عالیہ سے انہوں نے اپنے سننے والوں کو فیض یاب کیا، اس سے ان کی ذہنی حالت اور سیاسی تربیت کا بخوبی اندازہ ہو گیا۔ بات یہاں پر ہی ختم نہیں، اگلے روز ٹیلی ویژن کی سکرین پر ایک اینکر کے تلخ سوالوں کے جواب میں وہ یوں مشتعل ہوئے کہ کچھ بھی ان کی گرفت میں نہیں رہا اور وہ بھی تلخ نوائی کرنے لگے۔ مان لیجئے اینکر کا رویہ بھی ٹھیک نہیں تھا، لیکن اس کے بالمقابل تحمل، برداشت اور بردباری بھی تو لازم تھی۔ یہی سیاست ہے اور یہی حکومتی منصب کا تقاضا۔ یہی تو عوامی اجتماع اور نجی 
محفل کا فرق ہوتا ہے جس کو سامنے رکھنا پڑتا ہے۔
یہ حسن انتخاب ہے یا شٹر کاک یا پھر چھاتہ بردار، جو ہیلی کاپٹر یا ہوائی جہاز سے اترے ہیں ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں۔ ان کے اعمال و کردار اور گفتار کا جواب تو عمران خان کو ہی دینا پڑے گا، ہمارے نزدیک یہ وہ خودکش بمبار ہیں جو ’’حور و قصور‘‘ کی خواہش میں آتے اور چلے جاتے ہیں۔ ان کے پیچھے صرف لاشیں اور زخمی ہی رہ جاتے ہیں، بکھرے ہوئے، لتھڑے ہوئے۔
بقیہ: پس حرف