16 نومبر 2018
تازہ ترین

خس کم، جہاں پاک خس کم، جہاں پاک

ہوتے ہیں بہت قیمتی آثار قدیمہ
ہم یوں بھی کسی زخم کو بھرنے نہیں دیتے
(بیدل پانی پتی)
’’مرد حر‘‘ آصف علی زرداری کو منشیات کیس میں سزائے موت دینے کا درپردہ فیصلہ ہو چکا تھا۔ سیشن جج میاں جہانگیر، شریف خاندان کے ملک قیوم تھے۔ ایک مست مجذوب نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کو کہا کہ جج پہلے سے لکھا لکھایا فیصلہ لے آیا ہے۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ انتظار ولی خان مرحوم خود جیالا تھا۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ مست مجذوب کوئی عام آدمی نہیں ہے، جب یہ نانگا پھرتا تھا تب بھی محترمہ بینظیر بھٹو اس کے ہاتھ پاؤں چوم کر اسے رخصت کرتی اور ان کا نہایت ادب کرتی تھیں۔ محترمہ نے جو لباس پہن کر حلف لیا تھا وہ اسی مست نے کسی درویش سے ایک گھنٹے میں سلوا کر دیا تھا۔ محترمہ  فٹنگ دیکھ کر پریشان رہ گئی تھیں۔ کیپٹن عثمان زکریا اے ڈی سی بہت سے واقعات جانتے ہیں۔ مست مجذوب چالیس سال تک خاموش تھا۔ اپنے آپ کو خود ظاہر نہیں کر سکتا تھا، اس نے انتظار ولی کو کہا کہ آج فیصلہ نہ ہونے دو، آج کا دن ٹالنا ضروری ہے بعدازاں کچھ نہیں ہو گا۔ پھانسی کا فیصلہ پاکستان کی چولیں ہلا دے گا۔ انتظار ولی خان نے ایک باقاعدہ پلان بنایا، بابر اعوان کو منصوبے میں شامل کیا گیا۔ عدالت لگی تو طے شدہ پروگرام کے تحت سپرنٹنڈنٹ اور وکیلوں کے مابین شدید جھڑپ ہو گئی، میاں جہانگیر ڈر گیا، سماعت ملتوی ہو گئی۔ آصف زرداری کو کچھ معاملات کی بھنک پڑ چکی تھی، وہ حیران رہ گئے۔ اسی دوران بابر اعوان اور پیر اعجاز کی گڈی چڑھ گئی، کسی نے پیر اعجاز کو آگے کر دیا کہ بزرگوں کو پیش گوئی تھی۔ مست مجذوب ہنستا رہا۔ انتظار ولی خان جس نے مست مجذوب کے کہنے پر سب کچھ کیا، وہ آصف زرداری سے فیض یاب ہوئے بغیر ہی دنیا سے چلا گیا۔ مست مجذوب اب بھی بات سناتا اور ہنستا ہے، کہتا ہے کہ جو مرغی ذبح کیا کرتا تھا، اس کی گڈی چڑھ گئی، باوجود اس کے کہ وہ بھٹو کی پھانسی پر مٹھائی تقسیم کرنے والا تھا۔ چرب زبان وکیل بے نظیر اور آصف زرداری کا قرب حاصل کرتا چلا گیا، یہاں تک کہ وہ ایوان صدر کی آنکھ کا تارا بن گیا۔ اس نے اعتزاز احسن جیسے معتبر شخص کی اپنی ہی حکومت میں چھٹی کرا دی۔ اس نے ایسی ایسی سازشوں کے جال بنے کہ اعتزاز احسن اپنی ہی جماعت کا ناپسندیدہ شخص بن گیا۔ راجہ پرویز اشرف، لطیف کھوسہ اس کے دست و بازو بن گئے، اس کے بغیر کوئی میٹنگ یا مشاورت مکمل ہی نہیں ہوتی تھی۔ اس میں ایک عجیب طرح کا غرور آ گیا، اپنی محرومیوں کا انتقام اپنوں ہی سے لینا شروع کر دیا۔ پھر اس نے اچانک ایک دن افتخار محمد چودھری کی عدالت سے نکلنے کے بعد بڑھک ماری کہ:
’’نوٹس ملیا تے ککھ نہ ہلیا‘‘
افتخار محمد چودھری نے اسے چاروں شانے چت کر دیا، موصوف مرغ بسمل کی طرح تڑپنے لگے۔ ہرکارے دوڑے، انہوں نے سمجھایا کہ آصف زرداری سے دوری اختیار کر لو۔ پھر کیا تھا وہ بہانے تلاش کرتا رہا۔ لوگ تو کہتے ہیں کہ آصف زرداری نے جب ایک دن سخت بازپرس کی تو موصوف غش کھا کر گر پڑے۔ ’’مرد حر‘‘ ہنس پڑا۔ پھر ایک دن آصف زرداری کو ان کی ضرورت پڑی۔ ایوان صدر طلب کیا گیا تو اپنے رابطے کے نمبر بند کر دیے۔ فوزیہ حبیب گھر گئیں تو اس نے موصوف کو دیکھ لیا۔ اس نے گھر سے کہلوا دیا کہ وہ گھر پر ہی نہیں ہے، فوزیہ حبیب نے تمام رپورٹ آصف زرداری کے گوش گزار کر دی۔ آصف زرداری نے اسے راندۂ درگاہ کر دیا، بڑے ظرف کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سے کنارہ کشی کر لی۔ اس سے سینیٹ کی نشست سے استعفیٰ بھی طلب نہیں کیا اور اس نے ایک طویل عرصہ دیا بھی نہیں۔ اپنے لائسنس کی معطلی پر اس نے موقف اختیار کیا کہ روزگار بنیادی حق ہے، اس کا لائسنس بحال کیا جائے۔ افتخار محمد چودھری اس پر ہنس پڑا۔ ایسی ہی صورتحال میں یہی موقف نہال ہاشمی اور راؤ انوار نے بھی اختیار کیا تھا، انہیں بھی ریلیف مل گیا۔ میں نے بھی چیف جسٹس آف پاکستان سے تین رکنی بنچ میں یہی سوال کیا تھا کہ، میں صرف یہ پوچھنے آیا ہوں کہ اس ملک میں بنیادی حقوق کیا صرف بابر اعوان، نہال ہاشمی اور راؤ انوار کے بچوں کے ہیں، ہمارا یا ہمارے بچوں کے کوئی بنیادی حقوق نہیں ہیں؟ میں نے بیروزگار کیے جانے کی مختصر ترین کتھا بیان کی۔ درخواست لے لی گئی، بس پھر درخواست لے لی گئی۔ آدھا سال گزر گیا، میرے ٹی وی والے جو پہلے تنخواہ دینے پر تیار تھے، انہوں نے کہا کہ آپ اب تنخواہ سپریم کورٹ سے ہی لیں۔ ہم تمام کلیئرنس کرا چکے ہیں۔ ’’ہم‘‘ اس لیے لکھا اور بھی لوگ ہیں، بلکہ بچیاں بھی ہیں۔ میں نے انہیں کہا کہ میں نے سپریم کورٹ سے بڑی عدالت میں مقدمہ کر کے دعا کر لی ہے، آپ چاہیں تو آپ بھی کر لیں۔ مگر بچیوں کے واجبات پر مجھے شدید افسوس ہوتا ہے، انہیں بہت تنگ کیا گیا ہے۔ تنخواہیں بھی چھوٹی تھیں، ان کو چھ ماہ سے ذلیل کیا جا رہا ہے۔ ویسے یہاں سب حقوق نسواں کی بات کرتے ہیں۔
خیر بات دوسری طرف جا نکلی۔ ابھی چند دن پہلے ہی تو بابا فریدؒ گنج شکر کے ایک ’’لاڈلے‘‘ نے مجھے کہا کہ وکیل موصوف کو پتا نہیں کیا مسئلہ ہے، اس کے اندر کی ’’کمی‘‘ اس کو پتا نہیں کیوں بے چین کیے رکھتی ہے۔ اس کو کوئی اور نہیں، یہ خود کو عروج سے پاتال میں پھینکتا ہے۔ اس بار بھی اس کا کوئی ایسا ہی موڈ لگ رہا ہے۔ میں چاہتا ہوں، یہ سمجھ جائے اور بچ جائے۔ میں نے بھی جان جمالی کی موجودگی میں موصوف کو سمجھایا اور درخواست کی کہ باباؒ صاحب کے لاڈلے کو تنگ نہ کیا جائے۔ موصوف کسی اور ہی ترنگ میں تھے۔ میں نے ان کے نخوت بھرے رویے پر احتجاجاً ان کی طرف سے آفر کیے جانے والے کھانے سے ’’کنی کترا‘‘ لی۔
میں نے مست مجذوب کو بتایا، انہوں نے کہا کہ ہم سب بابا فریدؒ گنج شکر کے بچے ہیں، کوئی ہمارے بچے کی طرف نگاہ غلط نہ ڈالے۔ وہ پیر کو اسلام آباد آئے۔ ان کے ساتھ آئے ایک اور سید زادے نے پارلیمانی امور میں سورۃ نجم اور دوسری سورۃ قرأت کے ساتھ پڑھی۔ مست مجذوب نے کہا کہ بات دنوں کی نہیں گھنٹوں کی ہے، وقت گننا شروع کر دو۔ گھنٹے دن میں نہیں بدلے تھے، ریفرنس دائر ہو گیا۔ استعفیٰ دیا نہیں گیا، طلب کر لیا گیا۔ نخوت، تکبر، فخر سب خاک ہو گئے۔ وہ جس نے جماعت اسلامی سے پیپلز پارٹی اور اب تحریک انصاف کا حرم آباد کیا تھا، اپنی چالاکیوں کے باوجود اپنا گھر پھر سے برباد کر بیٹھا۔ نندی پور پر ریفرنس دائر ہو چکا ہے۔ جسٹس رحمت حسین جعفری کی رپورٹ ہے، 27 ارب کی لاگت بڑھی۔ وہی مست مجذوب جو عروج کا سبب بنا تھا، اس نے زوال پر فی الحال مہر ثبت کر دی ہے، جیسے اس نے شریف خاندان کو کہا تھا کہ داتاؒ حضور بیٹھ کر اقتدار دیا تھا، وہیں پر واپس لے لیا ہے۔
دیکھنے والا تھا منظر جب کہا درویش نے
بادشاہو، کجکلاہو، تاجدارو … تخلیہ