24 مارچ 2019
تازہ ترین

خبروں پر تڑکے خبروں پر تڑکے

٭کشمیر آزاد کرانے اور برصغیر میں امن اور ترقی لانے والا نوبل پرائز کا حقدار ہوگا، عمران خان
وزیراعظم نے خود کو نوبل پرائز دلانے کے اعلانات کرنے والوں کو یہ کہہ کر خاموش کرادیا ہے کہ نوبل پرائز تو اسے ملے گا جو کشمیر آزاد کرائے گا اور برصغیر میں انسانی ترقی اور امن کو راستہ دینے والا اس کا حق دار ہوگا۔ اگرچہ عمران نے جنگ کو ٹالنے میں تاریخی کردار ادا کیا اور ان کی خوشامد میں نوبل پرائز کی بات کی جانے لگی مگر عمران کی طرف سے اس کا راستہ روک دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق کشمیر کا حل اور برصغیر میں امن اور ترقی لانے والا ہی نوبل پرائز کا حق دار ہوسکتا ہے۔ 
٭مودی رافیل طیاروں کی خریداری میں تاخیر کے ذمے دار ہیں، راہول
اگر ہمارے پاس رافیل ہوتا تو بھارت یوں ذلیل نہ ہوتا۔ وزیراعظم مودی نے بھارتی طیاروں کی خراب کارکردگی کا الزام اپوزیشن پر ڈال دیا، جس نے مودی کا رافیل میں کرپشن کا پول کھول کر رکھ دیا تھا۔ مودی نے امبانی کو رافیل طیاروں کی پارٹنرشپ دے دی، جس کی کمپنی معاہدے کے چند روز قبل قائم ہوئی تھی۔ مودی کا کہنا تھا کہ فرانسیسی کمپنی نے امبانی کو پارٹر بنایا تھا جب کہ فرانس کے سابق صدر نے مودی کا پول کھول کر رکھ دیا تھا۔ بھارتی ووٹرز اگر اس بار بھی مودی کو چن لیں تو یہ ان کی اذیت پسندی ہی ہوگی۔ اب تو رافیل ڈیل کے پیپر بھی چوری ہوگئے ہیں۔
٭دنیا میں ارب پتی افراد میں کمی
ہماری دنیا میں ارب پتیوں میں کمی واقع ہورہی ہے۔ مطلب کہ اب دنیا کے عام لوگ امیر ہونا شروع ہوگئے ہیں، یعنی غربت میں کمی واقع ہورہی ہے۔ ایک خبر کے مطابق ارب پتی اشخاص کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ کہتے ہیں کہ ہر کوئی کروڑ پتی ہوسکتا ہے مگر ارب پتی ہونے کے لیے کوئی ماہر علم نجوم ساتھ ہونا چاہیے۔ وہ کروڑ پتی کو ستاروں کی چال کے مطابق اس سے کاروبار کراکر اسے ارب پتی بننے میں مدد دے۔ عام لوگوں کا لکھ پتی بننا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ اگر دنیا میں جنگی ماحول ختم ہوجائے اور انسانوں پر رقوم خرچ کی جائیں تو لوگ غربت کی لکیر سے اوپر آسکتے ہیں ورنہ تو اسلحہ سازی اور دیگر خریداریوں پر ہی خرچے ہورہے ہیں۔
٭پاکستان میں 90 فیصد ڈاکٹرز سوداگر بن چکے، ڈاکٹر عامر بندیشہ
ڈاکٹر عامر بندیشہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 90فیصد ڈاکٹرز سوداگر بن چکے ہیں جب کہ ہمارے سوداگر ذخیرہ اندوز اور لیڈر چور لٹیرے بن چکے ہیں۔ اس کے باوجود ہمارے لوگ زندہ ہیں۔ بیمار اگرچہ تجارت کے لیے ڈاکٹرز کے پاس جاتے ہیں مگر جن کے پاس پیسے کم ہوتے ہیں، ان کا معاہدہ طے نہیں پاتا اور وہ اتائیوں سے سودا کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ پرائیویٹ ہسپتالوں کے خرچے فائیوسٹار ہوٹلوں سے بھی زائد ہیں کیونکہ کمرے کے علاوہ ڈاکٹرز کی فیسیں اور اضافی خرچے بھی شامل ہوجاتے ہیں۔ اب اگر ڈاکٹر سوداگر بن چکے ہیں تو وہ علاج کم اور ٹریڈز زیادہ کریں گے۔ 
٭وزیراعلیٰ پنجاب کا دورۂ ڈی جی خان: اضافی سکیورٹی نہ پروٹوکول
سابق حکمرانوں نے شور اور ترقی کے پروپیگنڈے کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی تیزیاں (جسے وہ سپیڈ کہتے تھے) ڈھکی چھپی نہیں رہی ہیں۔ پروٹوکول کا عالم یہ تھا کہ ایک سے زائد سی ایم ہائوس ڈکلیئر تھے۔ لگتا تھا جہاں مقیم ہوئے سی ایم ہائوس بنا ڈالا۔ موجودہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا ایک ہی گھر ہے جو سی ایم ہائوس ہے۔ ان کی سادگی کی مثالیں دی جارہی ہیں۔ ان کے سفری پروٹوکول میں بھی دم خم نہیں۔ اپنے علاقے میں جاکر انہوں نے سادگی کی جو مثال قائم کی ہے، اس سے مہذب ممالک کے حکمران نظر میں آگئے ہیں۔