22 ستمبر 2018
تازہ ترین

خبروں پر تڑکے خبروں پر تڑکے

٭خراٹے لینا کسی بیماری کا سبب بن سکتا ہے
لگتا ہے کہ ایسے آلات تیار ہوگئے ہیں، جن سے لوگوں کے خراٹوں کو بند کیا جاسکتا ہے۔ انہی آلات کو بیچنے کے لیے اب یہ جدید تحقیق بھی سامنے لائی گئی ہے کہ خراٹے لینا کسی بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔ اب یہ آلات بڑی تعداد میں بکیں گے اور ایسی فرمیں اربوں کمائیں گی۔ دنیا کے لوگ انسانی تاریخ کے ہر دور میں خراٹے لیتے رہے ہیں، مگر انہیں کبھی نہیں بتایا گیا کہ یہ کس قدر خطرناک ہوتے ہیں۔ آج کل تو جدید آلات پہلے تیار کرلیے جاتے ہیں، پھر جدید ترین تحقیق سامنے لائی جاتی ہے۔ اسے کاروبار کا نیا انداز کہیں یا مارکیٹنگ کا نیا طریقہ، اس میں دم تو ہے۔
٭کوئی چیخے یا چلاّئے ملاوٹ مافیا کو نہیں چھوڑیں گے، وزیرخوراک
گزشتہ حکومت میں ملاوٹ مافیا کے بڑے بڑے لوگ پکڑے گئے، ہوٹل، ریستوران سِیل ہوئے مگر اگلے روز ہی وہ بزنس پر ہوتے تھے۔ پکڑ دھکڑ کو معمول بنادیا گیا۔ حالانکہ ملاوٹ مافیا کی پکڑ دھکڑ کے ساتھ بیخ کنی حکومتی فریضہ ہونی چاہیے۔ ملاوٹ مافیا کے خاتمے کا آغاز کیا جائے۔ ان کو صرف چند دن کا بریک دینے کے لیے پکڑ دھکڑ نہ کی جائے۔
٭مولانا فضل الرحمٰن نے کبھی اپنے پلّے سے خرچ نہیں کیا، چلے ہیں صدر بننے، وزیراطلاعات
پاکستانی سیاست میں پلے سے خرچ کرنے کی داغ بیل ہی نہیں ڈالی گئی۔ بعض سیاسی جماعتیں شاید چندے کے بڑے آسرے سے چلتی ہیں۔ دنیا بھر کی سیاسی جماعتیں چندے سے چلائی جاتی ہیں۔ یہ بات الگ کہ وہ کولیکشن خود سیاسی جماعتوں کے ارکان ادا کرتے ہیں۔ ہمارے چندے میں تو اتنی طاقت ہے کہ بڑی بڑی گاڑیاں اور سیاسی جماعتوں کے اخراجات بھی اس میں سے کیے جاتے ہیں۔ 
٭اسلام آباد میں سور، کتوں اور گدھوں کا گوشت بک رہا ہے، وزیرمملکت داخلہ
اسلام آباد میں غیر ملکی سفارت خانوں کے باعث ہوسکتا ہے کہ ایسے گوشت کی ڈیمانڈ ہو اور وہ بک رہا ہو، اگر یہ عام لوگوں میں بھی بیچا جارہا ہے تو اس سے بڑا ظلم کوئی نہیں ہوسکتا۔ ایسے معاشرے میں تبدیلی آنی چاہیے، جہاں جان بچانے والی ادویہ بھی جعلی بک رہی ہوں۔ کتوں، گدھوں اور سور کا گوشت بھی بک رہا ہو اور اس کی اعلیٰ سطح سے نشان دہی بھی ہورہی ہو۔ اب وقت آگیا ہے کہ سخت قوانین بناکر ایسی فروخت کا قلع قمع کیا جائے۔ 
٭محکمہ بلدیات زیادہ سے زیادہ پودے لگائے، سینئر صوبائی وزیر
محکمہ جنگلات سے پوچھا جائے کہ گزشتہ دس برسوں میں کتنے پودے لگائے گئے اور کتنے درخت برآمد ہوئے تو وہ اس کی تعداد کروڑوں میں ہی بتائیں گے۔ یہ الگ بات کہ پنجاب میں لگائے گئے پودے شاید جوان نہ ہوسکے کہ یہاں پودوں پر کمیشن کی بیماری لگی تھی۔ یہ مرض اتنا خطرناک ہے کہ ہر پودے کو کھا جاتا ہے۔ اب امید کی جانی چاہیے کہ واقعی شجرکاری کی مہمات کے ذریعے صوبے میں سبز ماحول پیدا کیا جائے گا۔ اب تو جنگی بنیادوں پر اس پر کام کرنا ہوگا تبھی چند برسوں میں نتائج سامنے آئیں گے۔
٭50لاکھ گھروں کی تعمیر، وزیراعظم کی ایک ہفتے میں حکمت عملی بنانے کی ہدایت
عمران خان نے ایک مشن اور عوام کی قسمت بدلنے کے عزم کے ساتھ جدوجہد کی اور وزیراعظم بنے۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ عوام کے ساتھ کیے گئے وعدوں پر کام نہ کریں۔ ہمارا بے صبرا میڈیا تو انہیں ایک دن کی مہلت دینے کو تیار نہیں، حالانکہ 100دنوں کا ہنی مون پیریڈ تو جمہوریت کا تحفہ ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں سخت فیصلوں سے نوازنے والا میڈیا نہیں دیکھا گیا۔ اسی لیے تو ہم ہنستے رہتے ہیں کہ میڈیا ٹرائل ہورہا ہے، جنہوں نے50لاکھ گھروں کا کہا ہے، کسی پلان کے تحت ہی کہا ہے۔ عوام کو خوشخبری ملنے والی ہے۔
٭عالمی مارکیٹ میں سونا سستا، مقامی سطح پر مہنگا ہوگیا
عالمی سطح پر تیل کے نرخ گریں تو حکومتیں ڈھال بن جاتی ہیں اور اپنے ہاں تیل کی قیمت گرنے نہیں دیتیں۔ اب اس کے اثرات دوسری صنعتوں پر شروع ہوگئے ہیں۔ سونے کے نرخ عالمی مارکیٹ میں گریں تو مقامی تجارت کے ستون اس کی قیمت کم نہیں ہونے دیتے۔ حالانکہ قیمتیں تو دنیا کے ساتھ چلتی ہیں، مگر ہم قیمتیں بڑھانے میں خودکفیل ہیں۔ ایسی ڈیمانڈ و سپلائی کی واردات کرتے ہیں یا پھر ذخیرہ اندوزی کی ضرب لگاتے ہیں کہ دنیا سے آنے والے کم نرخ ہم پر اثرانداز ہی نہیں ہوتے۔ دنیا کے ممالک میں تو اشیاء ہی سستے داموں میں درآمد کی جاتی ہیں تاکہ عوام کو فائدہ دیا جاسکے مگر قیمتوں میں خود کفالت کے باعث ہم تو درآمد میں بھی مہنگے دام اشیاء ڈھونڈتے ہیں۔
٭پاکستان کو اتحادی سپورٹ فنڈ کی معطلی برقرار، پینٹاگون
دنیا میں روایت رہی ہے کہ بڑی اقوام اپنا کام نکال کر دوسرے ممالک کو بے یارومددگار چھوڑ دیتی ہیں۔ امریکا نے ہمارے اداروں کے ساتھ تو یہ ہاتھ کئی بار کیا ہے۔ کام کرواکے ہماری اجرت تک مار لینا ان کی پرانی عادت ہے۔ روس افغان جنگ میں بھی یہی ہوا تھا۔ اب کی بار تو خرچ شدہ رقوم تک ادا نہیں کی جارہیں۔ اب امریکا بھی کیا کرے۔ اس کو یہ جنگ اتنی مہنگی پڑی ہے کہ اس کے اپنے حالات معاشی تنگی کے قریب ہوچکے تھے۔ امریکا کو اپنا پہیہ چلانے کے لیے امدادی رقوم روکنا پڑرہی ہیں۔ اپنی سپرپاور کی حیثیت برقرار رکھنا مشکل ہورہا ہے۔ خود امریکا دوسروں کا بھاری مقروض ہے۔ ادھار پر کتنی دیر جنگیں لڑی جا سکتی ہیں۔ اب پرانے اخراجات روک کر Do More والی دُکان بند ہونی چاہیے۔