22 نومبر 2018
تازہ ترین

خبروں پر تڑکے خبروں پر تڑکے

٭پی ٹی آئی نے مشترکہ صدارتی امیدوار کے لیے اعتزاز کا نام دے کر پھر یوٹرن لے لیا، خورشید شاہ
پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ کو فواد چوہدری نے اعتزاز احسن کا نام صدارتی امیدوار کے لیے خواب میں دیا ہوگا۔ ممکن ہی نہیں کہ اپنی جماعت کے رہنما کے بجائے صدارت کے لیے اعتزاز احسن کا نام دے دیا جائے۔ عددی اکثریت تو پی ٹی آئی کے پاس ہی ہے، وہ صدر کے لیے بھی اپنا ہی امیدوار لائیں گے۔ ادھر پیپلزپارٹی والے کہتے ہی رہے ہیں کہ کوئی حکومت ان کے بغیر نہیں بن سکتی۔ اب حکومتیں تو ان کی مرضی کے بغیر بن گئی ہیں۔ شاید وہ صدارت کے لیے امید لگائے بیٹھے ہیں۔ 
٭عامر لیاقت قیادت سے ناراض، واٹس ایپ گروپ سے باہر
پل میں تولہ پل میں ماشہ۔ کبھی ناراض ہوتے ہیں کبھی مان جاتے ہیں۔ عامر لیاقت ایک اینکر بھی ہیں۔ ادھر ناراض ہوتے ہیں اُدھر ٹی وی پر بیٹھ کر اپنی ناراضی کے پول بھی کھول دیتے ہیں۔ پارٹی کو بنانے کے مشورے بھی دے دیتے ہیں۔ اگرچہ پارٹی قائد نے خاموش رہنے کی تلقین بھی کی مگر وہ چپ سادھنے والے کہاں؟ کچھ کہہ بھی گئے چپ رہ بھی گئے کے مصداق وہ ٹی وی پر اپنا خطاب جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مسئلہ شاید وزارت ہی ہے۔ وہ وزارت مانگ رہے ہیں مگر کھل کر نہیں۔ 
٭تحریک انصاف ٹال مٹول نہیں وعدے پورے کرے، چانڈیو
پیپلزپارٹی کی یہی بات اچھی ہے کہ پرانا وعدہ پورا نہیں کرتی اور اگلے وعدوں کا اعلان کردیا جاتا ہے۔ روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کا جو حشر ہوا، وہ سب جانتے ہیں۔ سندھ کی پچھلی دس سالہ حکومت میں وعدوں کو کیا وفا کرنا تھا، اُلٹا سندھ کو تباہ کرڈالا۔ صاف پانی کو نایاب کر ڈالا اور سب سے بڑھ کر میرٹ کو ہلا ڈالا۔ قبضہ مافیا کو پھیلا ڈالا۔ اب پیپلزپارٹی کے لوگ تحریک انصاف کی چند روزہ حکومت کو وعدے پورے کرنے کے حوالے سے راگ الاپ رہے ہیں۔ کیا انہیں یہ زیب دیتا ہے اور جس شان سے وہ پوچھ رہے ہیں وہ تو بالکل ہی موزوں نہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کو 100 دن تو دیجیے کچھ وعدے پورے کرنے کو کچھ لوگوں کو مطمئن کرنے کو اور کچھ شہروں کی صورتحال، تعلیم و صحت اور دوسرے امور درست کرنے کے لیے۔ 
٭میڈیا کا غیر ضروری چیزوں پر زیادہ فوکس ہے، علی محمد
میڈیا کا کام رپورٹ کرنا ہے مگر ہمارے ہاں میڈیا نے اپنی ڈیوٹی ہر معاملے میں ٹانگ اَڑانے کی لگا رکھی ہے۔ بال کی کھال اُدھیڑنے کا فریضہ انجام دیا جاتا ہے۔ اب تو الیکٹرونک میڈیا نے سیاستدانوں کو آمنے سامنے بٹھاکر لڑانے کا وتیرہ بھی اپنا رکھا ہے۔ کہتے ہیں کہ ریٹنگ بڑھانے کے لیے یہ ان کی مجبوری ہے۔ مہذب معاشروں میں ایسے مذاکرے ہوتے ہیں مگر ادب و آداب اور پارلیمانی آداب کے دائرے کے اندر۔ اب ہمارے میڈیا کو بال کی کھال اتارنے کی ایسی عادت آن پڑی ہے کہ اینکر اپنے پروگراموں میں ایسے معاملات کا ذکر ضرور کریں گے جس کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ 
٭فریڈم آف انفارمیشن میں رکاوٹ برداشت نہیں کریں گے، فیاض چوہان
وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ پنجاب انفارمیشن کمیشن کو کے پی کے کی طرز پر چلایا جائے گا۔ صوبۂ پنجاب انفارمیشن کمیشن کے تحت درخواست گزار کو کچھ اطلاع دے دی جاتی تھی۔ کچھ کے بارے میں سیکرٹ کہہ کر روک دیا جاتا تھا اور کچھ کا کہا جاتا تھا کہ اگر ہماری مرضی ہوگی تو دیں گے۔ اگر مرضی نہیں تو معاملہ لٹکادیا جاتا تھا۔ ہمسایہ ملک بھارت میں فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ کے تحت ایک عام آدمی کی رسائی ہر اطلاع تک ہے۔ جس بات کو سرکار نے چھپانا ہوتا ہے، اسے خفیہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ حالانکہ کسی منصوبے کی قیمت یا اس کی تفصیلات تو خفیہ نہیں ہونی چاہئیں۔ ہمارے ہاں میگا پروجیکٹس پر آنے والی لاگت کو بھی خفیہ رکھا جاتا ہے۔ ایسی تفصیلات معاشروں میں چھپائی نہیں جاتیں بلکہ انہیں عام کیا جاتا ہے۔ ہماری حکومتیں بوجوہ منصوبوں کی لاگت چھپارہی ہوتی ہیں۔ کیا یہ فریڈم آف انفارمیشن ہے؟
٭ترک کمپنی کو 3 ارب کی ادائیگی نہ ہوسکی، صفائی کی صورتحال مزید خراب
غیر ملکی کمپنیوں کو بھاری رقوم کے ٹھیکے دے کر کچھ کام کرالینا گڈ گورننس قرار نہیں دی جاسکتی۔ وہی کام جو ملکی ذرائع سے آدھی قیمت پر ہوتا ہو، اس کے لیے گڈ گورننس استعمال کرلی جاتی تو اربوں ڈالر باہر نہ جاتے۔ جو حکومتیں عوامی رائے نہیں لیتیں اور خود کو عقل کل سمجھتی ہیں، وہ کم ہی عوامی مفاد کے فیصلے کرتی ہیں۔ ہماری سابق حکومت بھی ایسے فیصلے کرتی تھی، جس میں عوام کی رائے اور نہ کوئی دانشورانہ سوچ شامل ہوتی تھی۔ چند اضلاع میں دانش سکولوں پر اربوں لگادیے گئے مگر سرکاری سکولوں کی بہتری کو نظرانداز کردیا گیا۔ میٹروبس اور اورنج ٹرین کے منصوبے بنائے گئے لیکن سڑکوں کی کشادگی نہ کی گئی۔ لاہور اور دیگر بڑے شہروں کا ٹریفک جوں کا توں ہے۔ غیر ملکی کمپنیوں کو ایسے کام الاٹ کیے گئے جو قومی لیبر بخوبی انجام دے سکتی تھی۔  گڈگورننس تو وہ ہوتی کہ مقامی لیبر سے کام کرائے جاتے۔
٭لاہور کے 73سکولوں کی عمارتیں خستہ حال 
لاہور کے سکولوں کا یہ حال ہے تو دوردراز کے تعلیمی ادارے کس ڈگر پہ چل رہے ہوں گے۔ ان سکولوں میں بچّے کس خطرے کا سامنا کررہے ہوں گے۔ تعلیم کو ہر حکومت فوقیت دینے کا اعلان کرتی ہے۔ کچھ کام کرتی ہے پھر اور طرف توجہ مرکوز کرلیتی ہے۔ سابق حکومت نے بھی ابتدا میں درجنوں اعلانات کیے۔ سکولوں کی بہتری اور معیار تعلیم بلند کرنے کے دعوے کیے اور بتایا جارہا ہے کہ دس سالہ حکومت کے بعد لاہور کے 73 سکولوں کی عمارتیں خستہ حال ہیں۔ ان کو پھر گراکر کافی تعمیری کام ہوسکتا تھا۔ اگر تعمیر ہی ان کا مقصد تھا تو 73 سکولوں کی تعمیر پر بھی اربوں لگتے۔ کم از کم سکول تو مضبوط ہوجاتے۔ بچوں کی زندگیوں کو تو خطرہ نہ ہوتا۔ یہ خبر بھی خوفناک ہے کہ صرف لاہور کے سکولوں کے ایک لاکھ بچوں کے لیے فرنیچر ہی نہیں۔ 
٭خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی جانچنے کے لیے خفیہ سیل بنانے کا فیصلہ
گڈگورننس کا اصول ہی یہ ہے کہ حکومتوں کی کارکردگی جانچنے کے لیے کوئی طریقہ ہونا چاہیے۔ خفیہ سیل سے زیادہ اہم کوئی چیز نہیں جو حکومتوں کی کارکردگی جانچ سکے۔ ضروری ہے یہ اتنا سیکرٹ سیل ہو کہ اس کے بارے میں کسی کو خبر نہ ہو۔ حکومتوں کے ساتھ اس کے روابط کم ہی ہوں۔ دوسرے تحقیقاتی اداروں کی طرح متعلقہ لوگوں سے مل بیٹھے کے عمل سے عاری ہو۔ اگرچہ یہ اچھا اقدام ہے مگر اس کے اثرات بھی اچھے ہونے چاہئیں۔