21 نومبر 2018
تازہ ترین

خبروں پر تڑکے خبروں پر تڑکے

٭وزیراعظم کا سادگی کے لیے روڈمیپ جاری
مارگریٹ تھیچر نے کہا تھا کہ میں اس کا برا نہیں مناتی کہ میرے وزراء کتنا زیادہ بولتے ہیں۔ جب تک وہ میرے احکامات کے مطابق کام کررہے ہیں۔ اگرچہ ہماری اپوزیشن کا صرف ایک ہی فرض ہوگا کہ ہر بات کی مخالفت کی جائے اور بہتری کی کوئی تجویز نہ دی جائے۔ وزیراعظم عمران خان نے وزراء اور سرکاری مشینری کے لیے جو سادگی کا روڈمیپ دیا ہے وہ عوام کو موثر لگ رہا ہے۔ اس سادگی پر عوام مرمٹ جائیں گے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو اس پر جو اطمینان نصیب ہوگا، اس باعث وہ پاکستان میں ڈالروں کی برسات کردیں گے۔ اس کے واضح اشارے ملنے لگے ہیں۔ وہ ہماری حکومتوں کے شاہانہ انداز اور اللوں تللوں پر زیادہ کڑھا کرتے تھے۔ خاص طور پر جب وہ یورپ، امریکہ کے حکمرانوں اور اشرافیہ کی سادگی دیکھتے تھے۔
٭وزیراعلیٰ پنجاب نے ڈھابے سے چائے پی
آج کے ترقی یافتہ ممالک میں حکمران بھی عام زندگی گزارتے ہیں۔ ہم ورجینیا میں رہا کرتے تھے۔ قریب ہی ایک ریستوران تھا۔ کسی نے بتایا کہ امریکی صدر بھی اس ریستوران میں کھانا کھانے آتے ہیں۔ ایک روز ہم نے خود دیکھا کہ صدر کلنٹن اور ہلیری کلنٹن وہاں کھانا کھا رہے تھے۔ پروٹوکول بھی انتہائی سادہ تھا اور مناسب سیکیورٹی تھی۔ کیا خوب بات ہوئی کہ سینیٹر فیصل جاوید کی دعوت پر وزیراعلیٰ پنجاب نے ایک عام ڈھابے پر چائے نوش کی۔ وزیراعظم عمران خان جس سادگی کا درس دے رہے ہیں، قوم کو اس پر چل پڑنا چاہیے۔ پیسے کا ضیاع مناسب نہیں بڑے لوگوں کو سادگی کی مثال بننا چاہیے۔
٭ایئرپورٹس پر اہم شخصیات کو پروٹوکول دینے پر پابندی
دنیا کے بڑے بڑے ایئرپورٹس پر بڑے لوگ عام لوگوں کی طرح اپنے بیگ اٹھائے نظر آتے ہیں۔ پتا ہی نہیں چلتا کہ عام آدمی کون ہے اور اہم شخصیات کون۔ سب لوگ ہی وی آئی پی ہوتے ہیں اور سب ہی عام۔ ہمارے ہاں رسم ہی عجیب چل نکلی تھی کہ برابر کا کرایہ ادا کرنے والے عام لوگ عملہ کے ہاتھوں رُل رہے ہوتے اور اہم شخصیات کو خاص پروٹوکول سے نوازا جارہا ہوتا۔ معاشروں میں اصلاح بڑے لوگوں سے ہی شروع ہوتی ہے۔ عوام کے لیے یہ بڑا خوشگوار منظر ہوگا کہ سب ایک ہی انداز سے سفر پر نکل رہے ہیں۔ کوئی بڑا کوئی چھوٹا نہیں۔
٭ٹرمپ نے غزہ کو دی جانے والی 20کروڑ ڈالر کی امداد معطل کردی
امریکی صدر ٹرمپ جمہوری ملک کو صدارتی آرڈرز سے چلانے میں لگے ہیں۔ وہ جو فیصلے کررہے ہیں وہ آمرانہ انداز حکومت سے تو میچ کرتے ہیں کہیں سے جمہوری نہیں دِکھتے۔ آمر کی طرح کسی کو امداد دے دی کسی کی روک دی کسی کو  لٹکا کر رکھا، یعنی کٹوتی کر کے تھوڑی بہت دے دی۔ ویسے تو فلسطینیوں کو اسرائیل سے پٹوانے کا کام بھی کیا جاتا تھا اور انہیں زیراثر رکھنے کے لیے امداد بھی دی جاتی تھی، یعنی پہلے ان پر حملے کیے جاویں، ان کی عمارتوں کو تباہ کیا جاوے پھر کچھ پیسے انہیں دوبارہ بنانے کے لیے دیے جائیں۔ صدر ٹرمپ نے پہلے 12 دنوں میں 18 صدارتی احکامات جاری کیے۔ امریکی صدر چار سال میں اتنے آرڈر نہیں جاری کیا کرتے تھے۔ 
٭لیگی حکومت نے صوابدیدی فنڈ پہلے ہی ختم کر دیے تھے، خرم دستگیر
یہ اور بات کہ عدالتی فیصلے کے نتیجے میں صوابدیدی فنڈ کا نام بدل کر فنڈ جاری کیے جاتے رہے۔ 2017-18 میں اربوں روپے ترقیاتی سکیموں کے نام پر ارکان اسمبلی کے حلقوں میں دیے گئے۔ اب نام بدلنے سے فنڈز کا حلیہ ہی تبدیل کیا جاتا ہے مگر ضرورت تو پوری کرلی جاتی ہے۔ پنجاب کے ہر ضلع میں ارکان اسمبلی کو  15 کروڑ سے زائد لاگت کی سکیمیں بھی دی گئیں۔ کچھ کام ہوا، کچھ نام ہوا اور کچھ جیب میں بھی جانا ٹھہر گیا۔ صوابدیدی فنڈز کی ضرورت بھی نہیں رہتی جب کرپشن زوروں پر ہو۔ کہنے والے تو کہتے ہیں کہ ترقیاتی کاموں کا پچاس فیصد ہی منصوبوں پر لگ پاتا ہے۔ باقی کہاں جاتا ہے سب جانتے ہیں۔ مقروض ملک کی حکومتوں اور عوام کو سادگی کی مثال قائم کرنی چاہیے۔ 
٭حکومت کا صوابدیدی فنڈ ختم کرنے کا احسن فیصلہ 
حکومتیں اپنے بجٹ سے سب کچھ تو نہیں کرسکتیں لیکن اس کے موزوں استعمال سے ملک کو مالیاتی طور پر مضبوط کیا جاسکتا ہے۔ حکومتوں کے اپنے خرچ کم کرکے اور صوابدیدی فنڈز کے خاتمے سے ناصرف مالی پوزیشن مضبوط ہوتی ہے بلکہ بزنس کمیونٹی اور عوام کو تاثر ملتا ہے کہ ہمارے ٹیکسز کا صحیح استعمال ہورہا ہے۔ ہمارے ہاں سرکاری افسران پر جو خرچ ہوتا ہے ایسا تو ہم نے امریکا میں بھی نہ دیکھا۔ وزراء کے پاس شوفر ڈرائیون گاڑی ضرور ہوتی ہے، باقی تمام لوگ اپنی گاڑیوںیا بس ٹرین پر سفر کرتے ہیں۔ یوں وہ حکومتیں اور عوام امیر ہوتے ہیں۔
٭سبزیاں سرکاری نرخوں سے کئی گنا مہنگی
عید گزر گئی لیکن سبزیوں کی قیمتیں کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔ اگرچہ سبزیاں اور پھل خراب ہونے والی اشیاء ہیں مگر ذخیرہ اندوزوں کو انہیں چھپانے کا فن آتا ہے۔ کولڈ سٹوروں میں رکھ کر عوام سے من چاہے دام وصول کیے جاتے ہیں۔ دو ایک روز کے فرق سے پچاس کی شے سو پھلانگ لیتی ہے۔ امید ہے کہ حکومت اس کھٹارا نظام زر میں بھی تبدیلی لائے گی۔ عوام کو ملک میں پیدا ہونے والی اشیاء مناسب داموں پر دے پائے گی۔ کھیت سے منڈی اور دُکانوں تک سبزیوں اور پھلوں کی برق رفتار سپلائی کو بحال کرے گی۔ ذخیرہ اندوزوں کی بیخ کنی کرے گی۔ کسی کی جرأت نہ ہوگی کہ تہوار کے موقع پر دوگنے دام وصول کریں۔ 
٭حکومت کا سرکاری سکولوں کے اساتذہ کو عزت دینے کا فیصلہ
عزت لو اور عزت دو۔ اگر حکومت نے انہیں عزت دینے کا فیصلہ کیا ہے تو انہیں جواب میں بھی عزت دینی پڑے گی۔ جوابی عزت میں طلبہ کو معیاری تعلیم دینی ہوگی۔ تعلیمی سلیبس سکول کے اوقات میں مکمل کرانے ہوں گے۔ شام کی ٹیوشن کے لیے بچاکر نہ رکھنا ہوگا۔ ہمارے اساتذہ کی بہت زیادہ عزت ہوتی تھی، مگر اس وقت سرکاری سکولوں کا معیار تعلیم بھی مثالی تھا۔ استاد کی کلاس روم میں پڑھانے پر توجہ ہوتی تھی۔ الگ ٹیوشن سے اجتناب کیا جاتا تھا، تاکہ سب بچوں کو برابر کا تعلیمی موقع دیا جائے۔ چنانچہ عزت دو طرفہ ہی ہونی چاہیے۔ اساتذہ کی مانیٹرنگ بھی سخت ہونی چاہیے۔ بچوں کو اکیڈمیوں میں نہ رُلنا پڑے۔ حکومت پہلے اساتذہ کو عزت دے مگر جواب میں بھی ان سے عزت لے۔ ان کی طرف سے عزت معیاری تعلیم ہے۔