خبروں پر تڑکے خبروں پر تڑکے

٭وزیراعظم تین کمروں کے سرکاری گھر میں رہائش اختیار کریں گے
مغربی جمہوریت کا کمال یہی ہے کہ حکمرانوں کی رہائشیں سادہ، پروٹوکول نہ ہونے کے برابر اور اخراجات بھی کم ہوتے ہیں۔ عمران مغربی جمہوریت کی بات کرتے رہے ہیں۔ اب وزارت عظمیٰ انہیں ملی ہے تو انہوں نے اپنے اعلانات کو سچ کر دکھایا ہے۔ انہوں نے تین بیڈ کے گھر میں سکونت اختیار کرکے عوام کے ساتھ کیے وعدے کو پورا کردیا ہے۔ اب ان کے لیے آسان ہوگیا کہ گورنرز، وزرائے اعلیٰ اور بیوروکریسی کو بھی چھوٹے گھروں کی طرف مائل کرسکیں۔ اب بڑے گھروں میں رہنے والوں کو چھوٹے گھروں میں رہنے کی عادت ڈالنی ہوگی۔ اربوں ڈالر کے مقروض ملک کے لوگوں کو شاہانہ انداز جچتے بھی نہیں۔ درست فیصلہ ہے کہ وزیراعظم، صدر، گورنرز اور وزرائے اعلیٰ سادہ گھروں میں رہیں گے۔ یہ فیصلہ 20 سال قبل ہونا چاہیے تھا۔
٭خارجہ پالیسی دفتر خارجہ میں ہی بنے گی، شاہ محمود
کئی سال خارجہ پالیسی صدر اور وزیراعظم کے ایوانوں میں بنتی اور بگڑتی رہی۔ دنیا بھر میں خارجہ پالیسی خارجہ امور کے ماہر ہی بناتے اور اسے عملی جامہ پہناتے ہیں۔ ہماری بدقسمتی کہ کئی سال اس ملک میں وزیرخارجہ ہی نہ تھا۔ ایسے میں خارجہ پالیسی کا جو حشر ہوا، سب نے دیکھ لیا۔ خدا خدا کرکے تبدیلی آئی اور اس ملک کو ایک تجربہ کار وزیرخارجہ نصیب ہوا۔ اب خارجہ امور محفوظ ہاتھوں میں ہوں گے۔ دفتر خارجہ کے ماہرین بھی پالیسی سازی میں شامل ہوں گے۔ مغربی ممالک اور امریکا وغیرہ میں دفتر خارجہ میں ہر ملک کا ڈیسک قائم ہوتا ہے اور اس ملک کے ساتھ خارجہ امور اس ڈیسک کے ماہرین کی مشاورت سے ہی طے ہوتے ہیں۔
٭وزیرقانون نے افسروں کے بیرون ملک دورے پر پابندی لگادی
ہم ایک کورس پر اسلام آباد گئے تو ایک سیکریٹری نے اپنے لیکچر میں کہا کہ انہوں نے دنیا گھومی ہے حکومت پاکستان کے خرچ پر۔ اب ان کے دنیا گھومنے پر جو اخراجات عوام کو اٹھانے پڑے ہوں گے، وہ کم تو نہ ہوں گے مگرقوی امکان ہے کہ اس کا فائدہ ملک کو کچھ نہیں ہوا ہوگا۔ اب ایک سیکریٹری اتنا گھومے ہوں گے تو گزشتہ ستر سال میں اندازہ لگایا جائے کہ کیا کچھ ہمارے ساتھ ہوا ہوگا۔ تبدیلی کے نعرے کے ساتھ آنے والی حکومت نے افسران کے بیرون ملک دوروں پر پابندی عائد کردی، جس سے حکومت پاکستان کے اخراجات میں کافی کمی ہوگی۔ ایسے بھی دورے دیکھے گئے کہ ہمارے افسران بنکاک میں پیشہ ورانہ امور انجام دینے جاتے رہے۔ کہا جارہا ہے کہ حکومت کے ان اقدامات سے کیا فرق پڑے گا۔ حالانکہ اس سے بہت فرق پڑتا ہے۔ کم از کم لوگوں کے ذہن تو سیدھے ہوجاتے ہیں۔
٭وزیراعظم اختیارات سے لاعلم، خطاب گمراہ کن ہے، احسن اقبال
(ن) لیگ کے رہنما احسن اقبال کہہ رہے ہیں کہ وزیراعظم اپنے اختیارات سے لاعلم ہیں۔ حالانکہ اپنے دور حکومت میں جو 20 سالہ منصوبے احسن اقبال اس ملک کو عطا کرتے رہے ہیں، کیا اس وقت وہ اپنے اختیارات کا علم رکھتے تھے۔ انہوں نے تو مثالی منصوبہ بندی کی کہ وہ ثمرآور ثابت ہی نہ ہوئی۔ گھنٹوں وہ اپنے منصوبوں کو بیان کیا کرتے تھے۔ ایسے سنہرے خواب دکھاتے کہ لگتا تھا کہ ہم یورپ بننے والے ہیں۔ ایک وزیرہوتے ہوئے وہ بڑے بڑے منصوبوں کی سوچ ضرور دیتے رہے، گو عملی جامہ پہنانا ان کے بس میں نہ تھا۔ وزیراعظم عمران خان تو آئے ہی تبدیلی کے نعرے پر ہیں۔ اب وہ اگر عوام کی زندگیوں میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو احسن اقبال کو تو خوش ہونا چاہیے۔ 
٭پیپلزپارٹی نے اعتزاز کو صدارتی امیدوار نامزد کردیا
ڈوبتے کو تنکے کا سہارا۔ اب پیپلزپارٹی نے اعتزاز احسن کو صدارت کے لیے امیدوار نامزد کردیا ہے۔ پیپلز پارٹی (ن) لیگ اور تمام اپوزیشن پارٹیوں کو عرض کررہی ہے کہ صدارت کا ووٹ انہیں دیا جائے۔ یہ زور شاید اس لیے لگایا جارہا ہے کہ صدر مملکت سزائیں معاف کرسکتے ہیں۔ ایسے میں صدر کا عہدہ تو پاس رکھنا بنتا ہے۔ خیال یہی کیا جارہا ہے کہ (ن) لیگ کو بھی یہی بتاکر ووٹ کی درخواست کی جارہی ہے۔ پی ٹی آئی بھی لگتا ہے کہ ان حالات سے بخوبی آگاہ ہے۔ وہ بھی اپنا صدر منتخب کرانے کے لیے سردھڑ کی بازی لگائے گی۔ صدر کے لیے گھمسان کا رن پڑنے کی توقع ہے۔ 
٭عید الاضحیٰ، سبزیوں کی مصنوعی قلت، منہ مانگے داموں فروخت
عید قرباں کے دوران ہر شخص کو وافر گوشت نصیب ہوتا ہے، ہمارے لوگ گوشت کھانے میں مصروف ہوتے ہیں۔ ایسے میں سبزیوں کی طلب بہت کم رہ جاتی ہے، مگر کیا کیجیے کہ مصنوعی قلت پیدا کرنے اور بڑی رقوم بٹورنے والے مافیاز موجود ہیں۔ وہ سبزیوں کو ذخیرہ کرکے ان کے دام آسمانوں تک پہنچادیتے ہیں۔ ایسی سبزیاں (جو اونے پونے بک رہی ہوتی ہیں) مرغی کے گوشت کے بھائو لے جاتے ہیں۔ جدید دور میں حکومتوں کا کام اشیاء ضروریہ بیچنا نہیں بلکہ ذخیرہ اندوزوں کی بیخ کنی اور اجارہ داریوں کی روک تھام ہے۔ اس کام کی انجام دہی کے لیے ایمان دار اور تیز ترین عملدرآمد درکار ہوتا ہے، ورنہ تو ذخیرہ اندوزوں کی چاندی ہی رہے گی۔ تبدیلی کا عمل ان امور پر ہی ہونا چاہیے۔
٭سگریٹ نوش والدین کے بچّے جان لیوا امراض میں مبتلا ہوجاتے ہیں
امریکی تحقیق نے واضح کردیا ہے کہ سگریٹ نوش والدین اپنے بچوں کے لیے مہلک ثابت ہوسکتے ہیں۔ ان کی سگریٹ نوشی کی لت ان کے بچوں کو جان لیوا امراض میں مبتلا کرنے لگی ہے۔ سگریٹ پینے والے باخبر ہوجائیں اور اپنے بچوں کی صحت مند زندگی کی خاطر ہی اس عادت کو ترک کردیں۔ مانا کہ وہ اپنی صحت کی پروا نہیں کرتے اور سگریٹ پینے سے گریزاں نہیں، مگر اب تحقیق کے بعد کہ ان کے بچوں کو موذی مرض لاحق ہوسکتے ہیں، ان کی خاطر ہی اپنی اس عادت کو چھوڑ دیں۔ 
٭وائی فائی سے خفیہ خانوں میں چھپا اسلحہ اور بم پکڑنا آسان
وائی فائی سے حکومتوں کے اخراجات میں بہت زیادہ کمی واقع ہوسکتی ہے۔ دور حاضر کے جدید آلات جن سے یہ کام لیا جاتا ہے، بہت مہنگے ہیں۔ کینیڈا کے سائنس دانوں کی تحقیق سے وائی فائی کے ذریعے سفری سوٹ کیس اور ڈبوں میں چھپائے گئے آتش گیر مواد پکڑنے کا نظام متعارف ہوا ہے۔ اب دنیا کے تمام ایئرپورٹس پر قیمتی آلات کی جگہ وائی فائی اسلحہ پکڑنے کا کام انجام دے گا۔ اس پر تو سائنس دانوں کو ویلڈن کہنا پڑے گا۔