20 ستمبر 2019
تازہ ترین

خبروں پر تڑکے خبروں پر تڑکے

٭نواز کا استقبال کرنے والے گدھے ہوں گے، عمران
عمران خان پی ٹی آئی کے سربراہ ہیں مگر پہلے وہ کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے۔ اس دوران وہ کھلاڑیوں کو ڈانٹتے رہتے تھے اور گدھا وغیرہ کہہ لیتے تھے۔ شاید وہ عوام کو بھی ماتحت کھلاڑی سمجھ رہے ہیں اور انہیں بھی گدھا کہہ گئے ہیں۔ اگر یہ لفظ کسی نے مغربی جمہوریت میں عوام اور کارکنوں کو کہے ہوتے تو طوفان کھڑا ہوجاتا۔ اب جن لوگوں نے نوازشریف کا استقبال کیا، چاہے وہ تھوڑے تھے یا زیادہ انہیں گدھا تو نہیں کہا جاسکتا۔ کپتانی کو زندہ رکھتے ہوئے وہ سیاست کی نادانی کرجاتے ہیں۔ وہ سیاستدانوں کو ڈانٹتے ڈانٹتے اب عوام پر بھی چڑھائی کرنے لگ پڑے ہیں۔ 
٭سوفیصد عوام ہم سے خوش نہیں، بلاول کا اعتراف
بلاول کا یہ اعتراف اگرچہ سوفیصد صحیح ہے مگر انہوں نے کہا عجیب انداز سے ہے۔ اس سے ایسے لگتا ہے کہ ہم سے 100 فیصد لوگ خوش نہیں مگر 99 فیصد لوگ ہمیں پسند کرتے ہیں۔ اگرچہ اس میں بھی صداقت نہیں کیونکہ اب تو سندھ کے بیشتر لوگ بھی کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے ہمیں غم ہی دیے ہیں۔ پانی، بجلی اور کچرا ہی دیا ہے۔ اب ایسے میں کتنے فیصد لوگ ان کو پسند کرسکتے ہیں؟ مگر سیاستدان کا یہی کمال ہوتا ہے کہ وہ منفی بات کو بھی خوبی بنادیتا ہے۔ انہوں نے سوفیصد کا لفظ استعمال کرکے ان کو پسند کرنے والوں کی تعداد بڑی دکھانے کی کوشش کی ہے، حالانکہ اس سے فرق تو پڑتا نہیں۔
٭لیسکو کے میٹرریڈرز کا نئے سافٹ ویئر پر کام کرنے سے انکار
لیسکو کے میٹر ریڈرز تو چاہتے ہی پرانا نظام ہیں کہ وہ جتنی مرضی بجلی جس پر بھی ڈال دیں اور وہ خاموشی سے بل ادا کردے۔ نظام کا جدید ہونا تو شاید انہیں برداشت نہیں۔ اس کی وجہ سے ان کی من مانیاں اور موجیں ختم جو ہوتی نظر آرہی ہیں۔ پرانے نظام میں تو جس پر وہ غلطی سے بھی زائد ریڈنگ ڈال دیتے تھے، بے چارے کو ادا کرنے کے علاوہ چارہ ہی نہ تھا۔ اب میٹرز کے نئے سافٹ ویئر پر کام کرنے سے پہلی سی بہاریں نظر نہیں آتیں تو انہیں بے چینی ہورہی ہے۔ پھر اب ان کو کچھ کام بھی تو کرنا پڑتا ہے۔ تصاویر بنانا پڑتی ہیں۔ سچ دکھانا پڑتا ہے۔ اگر غلطی ہوجائے تو پکڑے جانے کا خوف بھی ہے۔ وہ تو عادی تھے آزاد میٹر ریڈنگ کے جہاں صرف ان کی مرضی چلتی تھی۔
٭سیاستدانوں کے احتساب کا نہیں انتخابات کا وقت ہے، زرداری
سابق صدر زرداری کہہ رہے ہیں کہ اب سیاستدانوں کے احتساب کا نہیں بلکہ انتخابات کا وقت ہے۔ ویسے بھی وہ وقت نکالنا خوب جانتے ہیں۔ کبھی صدر بن کر وہ اس غم سے آزاد ہوجاتے ہیں۔ اب انتخابات کے نام پر وقت کو دھکا دے رہے ہیں۔ دوسروں کا احتساب ہو تو اس پر فقرے کستے ہیں مگر خود کو وہ ہر بار بچالیتے ہیں۔ اسی لیے تو کہا جاتا ہے ایک زرداری سب پر بھاری۔ وقت کیسا بھی ہو، اس کو ہینڈل کرنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ ان کی مثال تو ایسے شخص کی ہے جو اپنی طرف آنے والے مصائب کا رخ کسی اور طرف موڑنے کا فن جانتا ہے۔
٭پٹی قیادت اور چلے کارتوس ایم ایم اے کا مقابلہ نہیں کرسکتے، سراج الحق
درست کہتے ہیں کہ صحیح سیاست حقیقتوں کو نظرانداز کرنے کا نام ہے۔ ایم ایم اے بھی ایسا کارتوس ہے جو کئی بار چل چکا ہے مگر ہر بار نئی یونیفارم پہن کر انتخابات لڑنے آجاتا ہے۔ اب سراج الحق باقی سب لیڈرز کو پٹی قیادت اور چلا کارتوس کہہ رہے ہیں۔ انتخابات کا نتیجہ جب آتا ہے تو پتا چل جاتا ہے کہ پٹی قیادت کون ہے اور چلے کارتوس کون۔ جب تن تنہا کچھ نہیں ہوتا تو ایم ایم اے بن جاتی ہے کہ چلو کچھ سیٹیں تو نکال سکیں۔ دوسری صورت میں تو جب انتخابی نتائج کا اعلان ہوتا ہے تو ایک آدھ سیٹ بھی نتائج میں سے ڈھونڈنی پڑتی ہے۔ اوپر سے ایسے بیانات ہی عوام کو سب کچھ بتا جاتے ہیں۔
٭سوئٹزرلینڈ، دبئی سے اربوں روپے واپس لانا ہوں گے، چیف جسٹس
کرپشن، منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری گلوبل مسئلہ ہے۔ یہ صرف ترقی پذیر ممالک کا مسئلہ نہیں مگر بڑے ممالک کو یہ سہولت ہے کہ منی لانڈرنگ کا رخ ان کی طرف ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں قوانین تو تھے مگر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ پیسہ باہر روانہ ہوگیا۔ شاید یہ وہی پیسہ ہے جو ہم قرض لیتے نہ تھکتے تھے اور بڑے لوگ اسے باہر روانہ کرتے نہ تھکے۔ آج جتنی ہمارے لوگوں کی رقوم باہر پڑی ہیں، ہمارے قرضے شاید اس سے کم ہی ہوں گے۔ لیڈر وہ ہوتا ہے جو راستہ جانتا ہے۔ اس راستے پر چلتا ہے اور اوروں کو راستہ دکھاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے رہنمائوں نے منی لانڈرنگ کا راستہ اوروں کو بھی سکھادیا۔ یوں ہماری بڑی رقوم بیرون ملک پڑی ہیں۔ خدا کرے ان کی واپسی ہو اور ہمارے قرضے اترسکیں۔
٭سڑک پر سی وی بانٹنے والے نوجوان کو دو دن میں ملازمت مل گئی
سڑک پر سی وی بانٹنے والے کو دو روز میں ہی ملازمت مل گئی۔ لندن کے ایک نوجوان نے 100 سے زائد اداروں کو اپنی سی وی بھیجی مگر کہیں سے روزگار کی امید بر نہ آئی۔ شمال مشرقی لندن میں رہنے والے کامران حسین نے ایک معروف ریلوے سٹیشن پر اپنی سی وی تقسیم کی اور دو روز میں ہی اسے اچھا روزگار مل گیا۔ کامران حسین نے نوجوانوں کو نوکری حاصل کرنے کا نیا طریقہ بتادیا۔ ہمارے نوجوانوں کا کام ریلوے سٹیشن پر ہونے سے رہا۔ انہیں تو بڑی بڑی گاڑیوں میں اپنی سی وی تقسیم کرنا پڑے گی۔ 
٭عمران جمہوریت،جمہوریت پکاریں گے، جاوید ہاشمی
کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ جمہوریت ایسا نظام ہے جس میں لوگ ایک ایسے شخص کو چنتے ہیں جو سارے الزام اپنے اوپر لے لیتا ہے۔ جاوید ہاشمی کا کہنا ہے کہ 2018 کے انتخابات کے چھ ماہ بعد عمران خان بھی جمہوریت جمہوریت چلاّرہے ہوں گے۔ اگرچہ جمہوریت ہر ووٹر کو کچھ کرنے کا ایک موقع ضرور دیتی ہے، یہ اور بات کہ ان سے کچھ الٹ ہی ہوجاتا ہے۔ شاید اسی لیے جاوید ہاشمی کہہ رہے ہیں کہ حالیہ انتخابات کے بعد عمران خان بھی ہماری صف میں شامل ہوجائیں گے۔