23 ستمبر 2018
تازہ ترین

خاندانی جھگڑے اور مسائل خاندانی جھگڑے اور مسائل

اخلاقیات، ہمدردی اور خوف خدا جس معاشرے سے ہجرت کرجائیں، وہ خواہ کتنا ہی ترقی یافتہ کیوں نہ ہو، اس کے پاس اقتصادی، دفاعی یا افرادی قوت جتنی بھی وافر کیوں نہ ہو، وہ سماج ناصرف اپنا وجود ختم کر بیٹھتا ہے بلکہ آئندہ کئی نسلیں صدیوں تک اپنے پائوں پر کھڑی ہونے سے قاصر رہتی ہیں۔ معاشرے کا وجود صرف مال و دولت کی فراوانی پر استوار نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے اپنوں کا احساس، دکھ سکھ میں سانجھ، دوسروں کو آگے بڑھنے کے مواقع کی فراہمی اور انسانیت کی قدر ایسے عوامل تازگی اور تقویت فراہم کرتے ہیں۔ 
اسلام نے خاندانی نظام کی مضبوطی اور رشتے داروں سے انس اور لگائو کا درس اور عزیز و اقرباء کی مدد سب سے پہلے کرنے کا حکم دیا ہے۔ رشتوں میں ماں باپ، بہن بھائی، میاں بیوی، اولاد اور دیگر عزیزوں کے حقوق و فرائض اسلامی معاشرے نے تفصیل سے بیان کیے ہیں۔ 1947 میں قائم ہونے والا ملک جس کی بنیاد ہی اسلامی معاشرے پر رکھی گئی 71 سال بعد بھی اخلاقیات، ہمدردی اور خوف خدا کو عملی طور پر اپنانے سے محروم رہا۔ ہمارے معاشرے میں اس وقت ایسی فنی خرابی پیدا ہوچکی ہے کہ اس نے ہماری نئی نسل کو ذہنی طور پر مفلوج کردیا ہے۔ آج کا نوجوان خودفریبی کے جال میں ناصرف پھنس چکا بلکہ اس سے باہر نکلنے کی کوشش سے بھی قاصر ہے۔ عزیز و اقارب جن کی اہمیت اسلام نے بیان کی، وہ اپنی ذات کو فوقیت دینے کی خاطر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے ایسے حالات پیدا کردیتے ہیں کہ انسان کی تمام زندگی ان گنجلکوں کو سدھارنے میں بیت جاتی ہے، جن کا سوائے زندگی کے خاتمے کے اور کوئی حل سُجھائی نہیں دیتا۔ اگر کوئی زندہ ضمیر ان خرابیوں کا تدارک کرنے کی کوشش کرے بھی تو اس 
کے گرد جمع افراد اسے کہتے ہیں کہ آپ اپنی ذات کی فکر کرو، اپنے بچوں کو دیکھو، کیوں پرائی آگ میں چھلانگ لگاتے ہو، جن کا آپ احساس کررہے ہو، وہی کل کو آپ کے خلاف ہوں گے، لہٰذا جس کو جو سمجھ آتا ہے اسے کرنے دو۔ وہ بے چارہ اپنی زندہ ضمیری کے باوجود بے بسی کی تصویر بن جاتا ہے۔
بزرگوں کا قدیم قول ہے کہ زن، زر اور زمین، سب رشتوں کو برباد کردیتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ان جھگڑوں کی جھلک ہر طرف دکھائی دیتی ہے۔ نوجوان ایک دوسرے کو پسند اور ناپسند کی بنیاد پر گھروں میں ایسا طوفان برپا کرتے ہیں کہ خاندانی نظام کی بنیادیں ہل جاتی ہیں۔ علاقے میں اپنا مقام رکھنے والے بزرگ اولاد کی اس حرکت سے کمتری کی ایسی سطح کو چھونے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ تمام عزیز و اقارب انہیں اچھوت تصور کرنے لگتے ہیں۔ مال و دولت کی حرص انسانوں میں ایسی تقسیم پیدا کردیتی ہے کہ بھائی بھائی کا دشمن بن جاتا ہے، اگر کسی کو اللہ کچھ عطا کردے تو سب اس کھوج میں لگ پڑتے ہیں کہ اس کے پاس مال آیا کہاں سے اور اسے برباد کرنے کے لیے تمام حدیں پار کرلی جاتی ہیں، یہاں تک کہ جو رشتے اسے انتہائی محبوب ہوتے ہیں، انہیں اپنے جال میں بھانس کر بربادی کا سامان اکٹھا کیا جاتا ہے۔
رشتوں ناتوں میں ایسے ایسے تماشے لگائے جاتے ہیں کہ زندہ شخص سب رشتے داروں کے سامنے دو وقت کی روٹی سے عاجز ہوتا ہے مگر اس کے مرنے کے بعد دولت مند رشتے دار اس کے نام پر انواع کے کھانے تقسیم کرتے ہیں اور لوگوں کو حج اور عمرہ کروانے میں سکون محسوس کرتے ہیں، حالانکہ مرنے والے کی بیوی اور بچے ان کے سامنے کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر تیسرا شہری ذ ہنی تنائو کا شکار ہے۔ اس بیماری کی لپیٹ میں 10 سال سے لے کر 70 سال کے افراد ہیں۔ بظاہر اس کا شکار افراد تندرست و توانا دکھائی دیتے ہیں مگر آہستہ آہستہ یہ بیماری کینسر کی مانند انہیں ذہنی اور جسمانی طور پر مفلوج کردیتی ہے۔ دس سال کا بچہ جب اپنے اردگرد کسی چیز کو دوسرے بچے کے پاس دیکھتا ہے تو اسے حاصل کرنے کے لیے اپنی خواہش کو ضد اور پھر نہ ملنے پر مایوسی میں تبدیل کرلیتا ہے، یہ مایوسی اس کی عمر کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔ دوسری بڑی وجہ شادی ہے جس میں انتخاب سے لیکر اخراجات تک کے تمام مراحل مایوسی اور بگاڑ کا سبب بنتے ہیں اور خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ شریکے اور رشتہ داریوں کی رسہ کشی نے ہمارے معاشرے کی اکثریت کو دکھاوے کی ایسی لت ڈالی ہے کہ دن رات کمانے والے افراد بھی فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔ 
خوشی ہو یا غمی اپنی ناک کٹنے سے بچانے کے لیے قرض پہ قرض اٹھانا لوگوں نے معمول بنالیا ہے۔ قرضوں کے حوالے سے ایسے افراد کی حالت پاکستان سے ذرا بھی مختلف نہیں، انہیں بھی قرض پر سود ادا کرنے کے لیے ادھار اٹھانا پڑتا ہے۔ خواہشات، دکھاوا، مقابلے بازی، ضد اور ہٹ دھرمی نے معاشرے سے اخلاقیات، ہمدردی اور خوف خدا ایسے خیالات کو ناپید کردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر طرف افراتفری، بے چینی اور بداخلاقی کا راج ہے۔ اکثر حالات پر حکومتوں کو قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے مگر ان حالات کا تعلق براہ راست افراد کے اپنے رویوں اور سوچ سے ہے، حکومتیں جتنی مرضی تبدیل ہوجائیں، جب تک معاشرے میں بسنے والے افراد کی سوچ تبدیل نہیں ہوگی، اُس وقت تک یہ بیمار سماج ٹھیک نہیں ہوسکتا۔ اس کے سدھار کے لیے ہر مکتبہ فکر کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس کا حل افراط زر بڑھانے یا میٹرو ٹرینیں چلانے میں نہیں بلکہ اس نظام میں پوشیدہ ہے جو پیغمبر اسلام نے چودہ سو سال پہلے قائم کیا اور خاندانوں، شریکے برادری اور قبائل میں بٹے معاشرے نے انصار اور مہاجرین کو بھائی بھائی بنادیا۔ ایسا سماج ریاست مدینہ کہلایا جہاں، جو اپنے لیے پسند کرو وہ دوسرے بھائی کے لیے بھی پسند کرو، کا پیغام افراد کا نصب العین بن گیا۔ اخلاقیات اور خوف خدا کا یہ عالم تھا کہ اپنے حصے کا کھانا دوسرے کو کھلانے والے کی اپنی بھوک ایسے مٹ جاتی جیسے اس نے معمول سے زیادہ کھالیا ہو۔ ایسی ریاست سے حکیم6ماہ کے بعد یہ کہہ کر رخصت ہوگیا کہ یہاں کوئی بیمار ہی نہیں ہوتا، مگر افسوس کہ ریاست مدینہ کی طرز پر قائم ہونے والی مملکت خدادادکا ہر تیسرا فرد ایسی ذہنی بیماری کا شکار ہے جس کی وجہ خاندانی جھگڑے اور مسائل ہیں۔