25 ستمبر 2018

خارجہ پالیسی کی بنیاد امن ہونی چاہیے؟ خارجہ پالیسی کی بنیاد امن ہونی چاہیے؟

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان خارجہ پالیسی کو اہمیت دیتے ہوئے ہمسایوں سے بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں۔ ہونا بھی چاہیے کیونکہ سب کچھ بدلا جاسکتا ہے مگر ہمسایوں کو نہیں بدلا جاسکتا اور ان کے ساتھ مستقل کشیدگی بھی نہیں رکھی جاسکتی۔ ایسا ہو تو ایسے مماملک ترقی کر سکتے ہیں اور نہ ہی امن سے رہ سکتے ہیں، پھر غربت جہالت پسماندگی اور بھوک کے بھنگڑے ہر جگہ نظر آتے ہیں ،جرائم کی تعداد بڑھ جاتی ہے، ملک قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے، جس سے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ قرض اتارنے کے لیے مزید قرض لینا پڑتے ہیں اور یہ شیطانی چکر حکومتوں کو بھی کمزور کرنے کا باعث بنتا ہے۔ ہمسائے خصوصاً جن کے ساتھ ہماری سرحدیں ملتی ہوں، ان سے تعلقات اگر خوشگواروپُرامن ہوں تو اس سے ترقی خوشحالی کے دروازے کھلتے ہیں۔ خدا نخواستہ کشیدگی یا دشمنی ہو تو ایسے ممالک کی ترقی اور خوشحالی کی رفتار نا صرف سست ہو جاتی ہے بلکہ ملکی بجٹ کا زیادہ تر حصہ اس دشمنی کی نذر ہوجاتا ہے۔ اس کا فائدہ تو شاید ہی کوئی ہوتا ہو، لیکن نقصان نسلوں کو پہنچتا ہے۔ اس بات کا ادراک بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو بھی تھا، اسی لیے انہوں نے پر امن ہمسائیگی اور بقائے باہمی کی ضرورت پر ہمیشہ زور دیا۔ اس ضمن میں عمران خان کو قائد کے افکار اور خطابات کو دیکھتے ہوئے جو انہوں نے مختلف مقامات پر کیے تھے سے راہنمائی لیتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی کے اصولوں کو آگے بڑھانا چاہیے ۔
 واضح نظر آتا ہے کہ قائد ایک ایسا پاکستان چاہتے تھے جس میں رہنے والے افراد ایک طرف خود باہمی دوستی محبت اور امن کے رشتوں میں پروئے ہوئے ہوں تو دوسری جانب اپنے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعلقات پر امن اور خوشگوار ہوں تاکہ عوام اپنی بہترین صلاحیتیں استعمال کرتے ہوئے خوشحالی کے سفر پر گامزن ہو سکیں۔ پر امن ہمسائیگی کے اصول بیان کرتے ہوئے قائد اعظم نے 15 اگست 1947ء کو ہی پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی نکات اور نقوش واضح کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ہم اندرونی اور بیرونی دونوں سطحوں پر امن بقائے باہمی کے داعی ہیں اور اپنے قریبی ہمسایوں اور پوری دنیا کے ساتھ خوشگوار دوستانہ تعلقات کے خواہاں ہیں۔اسی طرح دوسری دفعہ کہا،ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی محور عدم عداوت اور ہر ایک سے دوستی ہے، بطور گورنر جنرل اگرچہ انہیں کسی بیرونی دورے کا کم ہی اتفاق ہوا مگر قیام پاکستان کے بارے غیر ملکی خبر رساں اداروں اور مختلف ممالک کے نامہ نگاروں سے ان کے انٹرویوز بشمول امریکا اور آسٹریلیا کے سامعین کے لیے ان کے فرمودات آج بھی تاریخی اوراق میں محفوظ ہیں۔اسی طرح غیر ملکی وفود اور اعلیٰ سرکاری عہدے داران سے ملاقاتیں بھی ہوتی رہیں۔ 7ستمبر 1947ء کو شیخ کویت کے اعزاز میں ان کی ایک سرکاری دعوت کا ذکر بھی ملتا ہے جس میں صرف پچاس چوٹی کے اکابر مدعو تھے۔ بھارت کے کشمیر اور جونا گڑھ پر ہٹ دھرمی اور فوجی مداخلت سے غیر قانونی قبضے پر انہیں ہمیشہ تشویش رہی اور اس کے حل کے لیے اقوامِ عالم کے توسط سے کوشاں رہے۔
مسلم امہ پر اغیار کی سازشوں اور نو آبادیاتی جبر و اکراہ پر بھی صدائے احتجاج بلند کر تے رہے۔خاص کر بالفور ڈکلیریشن کے نتیجے میں جب 14مئی1948ء کو برطانوی اور دیگر بڑی طاقتوں کے ایما پر اسرائیلی ریاست کے قیام کو ممکن بنایا گیا۔عربوں کو اس مقدس سر زمین سے نکال کر جس طرح فلسطینیوں کے سیاسی حقوق اور ان کا وطن چھینا گیا۔اس غیر قانونی اور عالمی بے انصافی کے خلاف بھی سینہ سپر رہے اور یوں دنیا میں امن کے پرچار اور فروغ کی باز یافت کی ہر طرح معاونت کی علامت بنے رہے۔ 27نومبر 1947ء کو آپ نے پاکستان کے گورنرجنرل کی حیثیت سے ایک بیان میں پاکستانی قوم سے فرمایا ہمیں جو کچھ حاصل کرنا ہے وہ یہ ہے کہ ہم اپنے عوام کو مجتمع کریں اور اپنی آئندہ نسلوں کے کردار کی تعمیرکریں۔ فوری اور اہم ضرورت یہ ہے کہ ہم اپنے عوام کو سائنسی اورفنی تعلیم دیں تاکہ اپنی اقتصادی زندگی تشکیل کرسکیں۔ ہمیں اس بات کااہتمام کرنا ہوگا کہ ہمارے لوگ سائنس، تجارت، کاروبار اور بالخصوص صنعت و حرفت قائم کرنے 
کی طرف دھیان د یں، لیکن یہ نہ بھولیے کہ ہمیں دنیا کا مقابلہ کرنا ہے جو نہایت تیزی سے اس سمت میں جا رہی ہے۔ 24 دسمبر 1947 کو قائد اعظم نے اردن کے سفیر متعین پاکستان کی اسنادِ سفارت قبول کرتے ہوئے فرمایا ’’ہمارے نزدیک اسلام ہماری زندگی اور بقا کا منبع ہے۔ اس کی وجہ سے ہماری ثقافت اور ماضی کی روایات عالم عرب سے منسلک ہیں۔‘‘ قائد اعظم محمد علی جناح نے 19 فروری 1948 کو آسٹریلوی عوام کے نام اپنے ایک نشری پیغام میں فرمایا تھا ’’ہم اپنے ہمسایوں کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتے۔ ہم صلح اور آشتی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تا کہ عالمی امور میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔‘‘ 21 فروری 1948 کو آپ نے پاکستان کے فوجی افسروں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ’’اس مشینی دور میں جب انسان کی کج رو ذہانت ہرروز تباہی کے نت نئے آلات ایجاد کر رہی ہے آپ کو وقت کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنا ہو گا۔ ہماری اس سے زیادہ کوئی خواہش نہیں کہ ہم خود بھی امن و سکون سے زندہ رہیں اور دوسروں کو بھی امن و سکون کی فضا میں زندہ رہنے کا حق دیں۔‘‘
26 فروری 1948 کو پاکستان میں متعین امریکا کے پہلے سفیر کی اسنادِ سفارت قبول کرتے ہوئے قائد اعظم نے فرمایا ’’ہمیں نازک صورتِ حال کا سامنا ہے، تاہم ہمیں اس اَمر میں کوئی شبہ نہیں کہ ہم آزاد اور امن پسند قوم کی حیثیت سے زندہ رہتے ہوئے مشترک مقاصد اور عزم کی وجہ سے ان مشکلات پر کامیابی کے ساتھ قابو پالیں گے۔‘‘ قائد اعظم محمد علی جناح ایک امن پسند رہنما تھے۔ لہٰذا عالمی امن آپ کو ہمیشہ عزیز رہا۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی شخصیت ہمارے قومی استقلال کا بہترین مظہر تھی اور اس قومی استقلال کے زیرِ اثر جو تعمیری کام پاکستان میں ہوا ہے، وہ دراصل قوم کی جانب سے اپنے قائد کی شخصیت کو ایک بہترین خراج عقیدت ہے۔۔۔ قائد اعظم کا پیغام بالکل واضح ہے۔ بس عمل کی ضرورت ہے۔ یہ آپ کا فرض ہے پاکستان کو معاشی اور صنعتی لحاظ سے مضبوط اور ترقی یافتہ بنائیں تاکہ وہ ہر خطرے کا مقابلہ کر سکے۔ موجودہ حکومت بھی قائد کے ویژن کے مطابق پُرامن ہمسائیگی اور دوستانہ تعلقات کی حقیقت سے آگاہ ہے۔ اس لیے اس کی کوشش ہے کہ باہمی تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں اور ہمسایوں کو مانتے ہوئے مستقبل کی پالیسیاں بنائی جانی چاہیے اور اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ تمام حل طلب مسائل پُرامن بات چیت کے ذریعہ حل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جنگی ماحول سے بھوک، ننگ، غربت، بد حالی اور جہالت کے ساتھ نفرت میں ہی اضافہ ہوا ہے۔ اس لیے خطے کی حکومتوں، سیاسی جماعتوں اور امن پسند حلقوں کو باہمی تنازعات کا پائیدار حل نکالنے کے لیے بات چیت کے لیے میزوں کے دائرہ کار کو بڑھنا چاہیے تاکہ خطے کے ممالک کے عوام بھی خوشحالی اور ترقی کا منہ دیکھ سکیں اور غربت کی بیماریوں اور برائیوں سے بچ سکیں۔
بقیہ: عوام کی آواز