24 ستمبر 2018
تازہ ترین

حیرت کدہ کے باسی حیرت کدہ کے باسی

کلام اقبال میں ملتا  ہے ’’مہ و انجم کا یہ حیرت کدہ باقی نہ رہے‘‘،  اشفاق احمد صاحب نے شہرۂ آفاق کتاب ’’حیرت کدہ‘‘ لکھی۔ راشد اشرف نے بھی خودنوشتوں اور ماورائے عقل واقعات کا مجموعہ ’’حیرت کدہ‘‘ مرتب کیا۔ کیا کہیں کوئی حیرت کدہ موجود بھی ہے یا یہ فقط کتابوں میں پایا جاتا ہے اور محض شعراء اور ادباء کی ذہنی اختراع ہے۔ انسانوں کے رنگ و نسل، رہن سہن، لباس اور زبان میں اس قدر تنوع کی موجودگی میں کسی حیرت کدہ کا وجود بعید از امکان تو نہیں۔ تخیل کا دائرہ کار وسیع کرنے میں حرج ہی کیا ہے، اگر چشم تصور سے دیکھا جائے تو حیرت کدہ کے خدوخال کیا ہو سکتے ہیں؟ یقیناً یہ مافوق الفطرت اشیاء کی بستی ہو گی، عقل و دلیل کو پر مارنے کی جہاں اجازت ہرگز نہ ہو گی۔ ممکن ہے حیرت کدہ کے باسی اس بستی میں رہنے کی وجہ سے اب مزید حیرت زدہ ہونے کی صلاحیت سے محروم ہو چکے ہوں، یا شاید حیرت کدہ میں رہنے والوں کی خصوصیت ہی یہ ہو کہ وہ ہر چھوٹی بڑی، معمولی، غیر معمولی چیز پر حیرت کا شکار ہو جاتے ہوں۔ اُن کے اس وصف کے سبب اس بستی کا نام حیرت کدہ مشہور ہو گیا ہو۔
محیر العقل چیزوں پر ششدر رہ جانا انسانی جبلت میں ہے۔ اکثر لوگوں کو متاثر ہی انہونی چیزیں کرتی ہیں، ایسے افراد معمول کی چیزوں سے لُطف اُٹھانے سے محروم ہو چکے ہوتے ہیں۔ یکتا نظر آنے کے خبط میں مبتلا لوگ نفسیاتی عوارض کا بھی شکار ہو جاتے ہیں۔ فی زمانہ آپ دیکھتے نہیں لوگ منفرد نظر آنے کے لیے کیا کیا ستم برداشت نہیں کرتے۔ مونچھ سے ٹریکٹر ٹرالی کھینچنے کے مظاہر کیے جاتے ہیں، گدھا گاڑی پر بارات جانے کی خبریں زیر گردش رہتی ہیں تو کہیں طلائی لباس زیب تن کیے جاتے ہیں۔ نوجوان نسل مختلف اعضاء پر ایسی ایسی کشیدہ کاری کرا لیتی ہے کہ کبھی کبھی اُن پر ترس آنے لگتا ہے۔
آپ کا موقف ہوسکتا ہے کہ یہ تو سب برقی میڈیا کی دَین ہے۔ الیکٹرونک میڈیا بہت زیادہ وقت ایسی خبروں کی تشہیر میں صَرف کرتا ہے، جس سے لوگوں میں ایسے افعال کرنے کی تحریک پیدا ہوتی ہے۔ لیکن 
ٹھہریے! آپ کا تعلق بھی میری طرح کسی نہ کسی چک نمبر 10، نوشہرہ گ ب تحصیل و ضلع ننکانہ صاحب سے رہا ہو گا۔ یقیناً آپ کے دیہات کے درمیان سے بھی کوئی نہر یا کھال گزرتا ہو گا جو دیہات کے رہائشی علاقے اور زیر کاشت اراضی  کے درمیان میں عموماً حد بندی کرتا ہے۔ اسی آبی گزرگاہ کے کنارے پر شام کو سورج ڈھلنے سے گھنٹہ دو گھنٹہ قبل محفل سجتی ہو گی، یا رات گئے تک حقوں کی گڑگڑاہٹ  کے ساتھ جو محفلیں جمتی تھیں، اُن میں بنیادی کردار تو داستان گو کا ہی ہوتا تھا، جس قدر وہ مبالغہ آرائی سے زیادہ کام لیتا اُسی قدر محفل جوان رہتی اور قصہ گو داد وصول کرتا۔ تو صاحب اُس داستان گو کی 
مبالغہ آرائی اور محیرالعقول کہانیوں میں تو الیکٹرونک میڈیا کا کوئی دوش نہ تھا، یہ کہانیاں تو خالصتاً لوگوں کے مزاج کو مدنظر رکھ کر تشکیل دی جاتی تھیں۔
منفرد باتیں اور چیزیں بھلی لگنا یا اُن میں زیادہ دلچسپی لینا ایسا کوئی معیوب فعل نہیں۔ یہ تفریح کا ذریعہ اور کاروبار زندگی کی تلخیوں کو کم کرنے کے لیے مجرب نسخہ سمجھا جاتا ہے۔ خرابی تو تب پیدا ہوتی ہے جب ایسے کھیل تماشے سنجیدہ معاملات میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ان کی بدترین شکل تب سامنے آتی ہے جب قوم کی اس کمزوری کا فائدہ اہل سیاست اُٹھاتے ہیں۔ اپنی سیاست کے بھی یہی طور ہیں، انتخابات قریب آتے ہی مملکت خداداد ’’حیرت کدہ‘‘ میں تبدیل ہو جاتی ہے، کوئی سائیکل پکڑ لیتا ہے تو کوئی گدھا گاڑی پر بیٹھ جاتا ہے۔ کسی کے ہاتھ میں جھاڑو تو کسی کے پاؤں ننگے ہو جاتے ہیں، کبھی اعداد و شمار کا سہارا لے کر عوام کے دلوں کو لُبھایا جاتا ہے، لیکن دراصل سب کی نظریں اور نشانہ عوام کی نبض و دل پر ہوتا ہے۔ یہ حالات نگراں حکومت کے پورے تین ماہ اچھے سے دیکھے جا سکتے ہیں۔ ہر گلی، محلے میں تماشے کمال عروج پر ہوتے ہیں۔
اسی وقت عوام کے جذبات پر قابو رکھنا اور اہل سیاست کی باتوں کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنا ناگزیر ہو جاتا ہے، لیکن ہم تو من حیث القوم ایسے کھیل تماشوں کے دلدادہ ہو چکے ہیں۔ نئی حکومت اپنی تشکیل کے دور سے گزر رہی ہے اور حیرت کدہ کے باسی محو حیرت ہیں، کیسے کیسے اعدادوشمار کا سہارا لے کر عوام کی حیرت کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔  جان کی امان ملے تو عرض کرنا چاہوں گا، اتنے جذباتی پن اور جلدبازی سے اجتناب ہی بہتر ہے۔ انتخابات سے قبل اور حکومت کے ابتدائی دنوں کے جذباتی نعرے، وعدے اگلے پانچ برس کے لیے ذمے داری بن جاتے ہیں۔ مثلاً نومنتخب وزیراعظم نے وزیراعظم ہاؤس کے ملازمین سے ’’دو‘‘ کرنے والی بات جو کی ہے اس کو لے کر بھی حیرت کدہ کے باسی خوشی سے شادیانے بجا رہے ہیں اور ایسا کرنے میں عوام تو حق بجانب بھی ہیں۔ کیا آزاد میڈیا کی ذمے داری نہیں بنتی کہ وہ عوام کو اُن ملازمین کی تفصیل بتائے کہ اُن میں سے کتنے سکیورٹی کے جوان ہیں۔ مالی، باورچی، اسٹینو، خاکروب، کمپیوٹر آپریٹر، پلمبر، الیکٹریشن وٖغیرہ کتنے ہیں؟ اور وزیراعظم ہاؤس کے لیے کتنے ملازمین نا گزیر ہیں اور کتنے اضافی ہیں؟ یہ تفصیل واضح ہو تو عوام کل اور آج کا موازنہ اچھے سے کر سکتے ہیں۔ لیکن چڑھتے سورج کی پوجا میں قبلہ رخ بدل جاتے ہیں۔ ایسے میں منطقی و عقلی دلائل کہیں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔
عوام کا ضرورت سے زیادہ حیرت میں مبتلا ہونا اور معمولی باتوں سے بھی بڑی امیدیں لگا لینا اُن کے لیے نئے مسائل پیدا کر دیتا ہے، لیکن حکمران اشرافیہ کے بہت سے کام سیدھے ہوجاتے ہیں، ہر آنے والی حکومت ایسے ہی جذباتی حربوں سے عوام کے دل موہ لیتی ہے۔ لیکن کچھ ہی دنوں میں حالات اپنی سابقہ ڈگر پر آ جاتے ہیں اور بہت سے بلندبانگ دعوے عمل سے محروم رہ جاتے ہیں۔ لیکن اب کی بار حالات کچھ مختلف ہیں، خان صاحب کا پہلا موقع ہے اللہ کرے اُن کی باتیں محض لفاظی نہ ہوں، ان پر عمل کر کے وہ عوام کی بہتری کے لیے خاطرخواہ اقدامات کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ اور حیرت کدہ کے سادہ لوح باسی حکمران اشرافیہ کے استحصال کا شکار ہونے سے بچ جائیں۔