17 اگست 2017
تازہ ترین

حیدر آباد دکن، کشمیر اور سر ظفر اللہ خان حیدر آباد دکن، کشمیر اور سر ظفر اللہ خان

لیفٹیننٹ جنرل سرجیمز ولسن (آنجہانی 2004ء) پاک فوج کے دوسرے کمانڈر انچیف جنرل ڈگلس گریسی کے پرائیویٹ سیکرٹری تھے۔ ان کی خود نوشت غیر معمولی ذمہ داریاں (Unusual Under takings) کا باب 9 پاکستان پر ہے، جس کا ترجمہ لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خاں نے کیا جو کہ قومی ڈائجسٹ میں قسط وار شائع ہوا۔ اس میں حیدر آباد اور کشمیر کے حوالے سے تعجب خیز واقعات اور انکشاف پڑھنے کو ملتے ہیں۔ سرجیمز ولسن لکھتے ہیں: ’’وسط جون 1948ء میں جب مائونٹ بیٹن (بھارت کے پہلے گورنر جنرل) واپس چلے گئے اور ان کی جگہ راج گوپال اچاریہ نے مسند صدارت (دراصل گورنر جنرل کی پوسٹ) سنبھالی تو پٹیل (وزیر خارجہ) اور مینن (وفاقی سیکرٹری) ریاست حیدر آباد دکن کے تنازع سے دو دو ہاتھ کرنے کو تیار ہو گئے‘‘۔ جیمز ولسن کے بقول حیدر آباد کی فوج ایک ڈویژن کے برابر تھی، اس کے ساتھ نیم مسلح مسلمان جتھے (رضا کار) تھے جن کا لیڈر قاسم رضوی تھا جبکہ بھارت نے ریاست کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ حیدر آباد سے جو مہاجرین پاکستان چلے آئے تھے، انہوں نے یہ تاثر دیا کہ حیدر آبادی فوج انڈین آرمی کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ کراچی کے انگریزی روز نامہ ڈان میں اس نوع کے مضامین شائع ہونے لگے۔ ادھر سردار پٹیل اور مینن یہ سمجھتے تھے کہ حیدر آباد پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کرنا بھارت کے سکیورٹی مفادات میں ہے۔
جیمز ولسن کے مطابق ’’مائونٹ بیٹن (آخری وائسرائے ہند) نے نظام حیدر آباد میر عثمان علی خاں کو مشورہ دیا تھا کہ اگر وہ 15 اگست 1947ء سے پہلے بھارت سے الحاق کر لیں تو بہت سی مشکلات سے بچا جا سکتا ہے لیکن نظام کوئی فیصلہ کرنے کے بجائے مہا راجہ کشمیر کی طرح لیت و لعل سے کام لیتے رہے۔ انہوں نے سروالٹر مونکٹن جیسے مشیروں کو یہ فریضہ سونپ دیا کہ وہ بھارتی سرکار سے مذاکرات کر کے ریاست حیدر آباد کے لئے زیادہ پرکشش شرائط پر سمجھوتا حاصل کریں‘‘۔ نظام نے اپنی ریاست کی آزادی کا اعلان کیا تھا اور پاکستان، بھارت، برطانیہ، سعودی عرب وغیرہ سے سفارتی تعلقات استوار کئے تھے اور اقوام متحدہ کی رکنیت حاصل کر لی تھی لیکن بھارت اول روز سے حیدر آباد کو ہڑپ کرنے کی بدنیتی میں مبتلا تھا۔
حیدر آباد کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی بیان کرتے ہوئے سرولسن لکھتے ہیں: ’’1948ء کے موسم گرما کے اواخر میں پاکستان نے حیدر آباد کو قرض دینے کی پیشکش کر دی بلکہ یہ بھی کہا کہ پاکستان کا ایک ایئر بیس حاضر ہے جہاں سے حیدر آباد کو گولہ بارود اور ہتھیار (بذریعہ طیارہ) بھیجے جا سکتے ہیں۔ نیز بھارتی محاصرہ توڑا جا سکتا ہے اور چاروں طرف سے بند ریاست کو مواصلاتی سہولت بہم پہنچائی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں لیاقت علی خاں اور سکندر مرزا پر پریس اور پبلک کا دبائو تھا۔ اس کے باوجود یہ دونوں حضرات پُرسکون اور ثابت قدم رہے۔ کمانڈر انچیف کمیٹی (CCC) نے حکومت کو پہلے ہی مشورہ دیا تھا کہ پاکستان حیدر آباد کی کوئی مدد نہیں کر سکتا۔ پاک فضائیہ کے پاس وہ وسائل نہیں تھے جو حالات پر اثر انداز ہو سکتے۔ جہاں تک پاک فوج کا تعلق تھا تو وہ پہلے ہی کشمیر کی لڑائی میں زیادہ پھیل چکی تھی۔ ایسے میں اگر بھارتی فوج مغربی پنجاب پر حملہ کر دیتی تو پاک آرمی اس کا دفاع بھی بمشکل کر پاتی۔ اس کے علاوہ گریسی نے ایک بار پھر حکومت کو یاد دہانی کرائی کہ اگر یہ حملہ کیا گیا تو برطانوی افسروں کو فی الفور واپس بلا لیا جائے گا‘‘۔
اس کا مطلب یہ تھا کہ پاک افواج کے برطانوی کمانڈر پاک بھارت کشیدگی یا حیدر آباد کے معاملے میں کوئی کارروائی کرنے کے روادار نہ تھے۔ بھارت کے جموں کشمیر پر حملہ (اکتوبر 1947ء) کے وقت بھی برطانوی افسروں کے مستعفی ہونے کی دھمکی دی گئی تھی۔ سرجیمز ولسن مزید لکھتے ہیں: ’’کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت وزیراعظم لیاقت کر رہے تھے۔ ڈیفنس سیکرٹری سکندر مرزا اور وزیر خارجہ ظفر اللہ خاں بھی دفاعی کمیٹی میں موجود تھے جنہوں نے مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ میں پاکستان کی وکالت کرتے ہوئے فصاحت و بلاغت کے دریا بہا دیے تھے۔ مجھے اس کمیٹی کا سیکرٹری ہونے پر فخر تھا۔ اجلاس کا ایجنڈا حسب معمول سکندر مرزا کے سٹاف نے تیار کیا تھا۔ پاک فوج نے اس اجلاس کے لئے جو پیپر تیار کیا تھا وہ جنرل بل کاتھورن کا تیار کردہ تھا۔ پاک بحریہ کے پیپر کے مندرجات صاف اور سیدھے سادے تھے۔ ایجنڈے کی آئٹم نمبر 3 پاک بحریہ کا پیپر تھا جس کا عنوان تھا: ’’حیدر آباد پر بھارتی حملے کی صورت میں پاک فضائیہ کا کردار‘‘ ہمیں ایجنڈے کی جو کاپیاں دی گئی تھیں، ان میں آئٹم نمبر 3 کے سامنے پنسل سے لکھا ہوا تھا: 
’’کیا دہلی پر بمباری کی جا سکتی ہے؟ لیاقت علی نے کانفرنس کا آغاز کرتے ہوئے بتایا : ’’حکومت پر دبائو بڑھ رہا ہے کہ مسلم ریاست حیدر آباد کی مدد کے لئے کچھ نہ کچھ کیا جائے۔ ڈان ہر روز ایک آرٹیکل شائع کر رہا ہے اور بتا رہا ہے کہ حکومت کچھ نہیں کر رہی۔ خود قائداعظم محمد علی جناح بھی پریشان ہو رہے ہیں۔ اگرچہ تینوں کمانڈر انچیف نے مجھے بطور وزیر دفاع سب کچھ بتا دیا ہے، لیکن یہ معاملہ اس کمیٹی میں بھی ڈسکس کیا جائے کہ ہم نے حیدر آباد دکن کی مدد کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا‘‘۔ یاد رہے قائداعظمؒ کی وفات کے تیسرے روز 13 ستمبر 1948ء کو بھارت نے حیدرآباد دکن پر چاروں طرف سے چڑھائی کر دی تھی۔ 
جیمز ولسن لکھتے ہیں: ’’پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل جیفرڈ نے جن کے معاون کموڈور چودھری تھے، واضح کیا کہ پاک بحریہ خشکی بند حیدر آباد ریاست کی کوئی مدد نہیں کر سکتی جسے کوئی ساحل سمندر نہیں لگتا۔ لیاقت اور سکندر دونوں اس بات سے بخوبی آگاہ تھے کہ بھارت پر کسی قسم کا زمینی حملہ کیا گیا تو یہ پاکستان کی حماقت ہو گی۔ ایک اور پہلو یہ زیر غور آیا کہ کیا کشمیر پر محدود یلغار (Offfensive) کی جا سکتی ہے؟ یہ آئیڈیا خطرناک تھا لیکن خوش قسمتی سے وزیر خارجہ ظفر اللہ جنرل گریسی کی مدد کو آئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس وقت کشمیر میں کسی قسم کی جارحیت کی گئی یا کوئی ایسا اقدام کیا گیا جس کا مطلب یہ لیا جا سکتا ہو کہ پاکستان کشمیر میں جارحیت کا ارتکاب کر رہا ہے تو اس عمل سے اقوام متحدہ میں میرے پائوں کے نیچے سے قالین سرک جائے گا۔ ان کا خیال تھا کہ موجودہ حالات میں پاکستان اپنی پوزیشن کا فائدہ اٹھا سکتا ہے لیکن معاملہ حساس ہے اور ہم کسی ایسی حرکت کے روادار نہیں ہو سکتے جس سے مسئلہ کشمیر زیادہ الجھ جائے‘‘۔
قارئین کرام! دیکھئے آزادیٔ کشمیر کے اس اہم مرحلے میں جبکہ پاکستان گلگت اور بلتستان (سکردو) فتح کر چکا تھا۔ کارگل کی پہاڑیاں اور پونچھ بھی پاکستان کے قبضے میں تھے اور سرینگر پر ایک آخری ہلے کی ضرورت تھی، حکومت پاکستان کے انگریز اور قادیانی اہلکاروں نے کس طرح حکومت اور پاک فوج کو ایک بھرپور ایکشن سے روک دیا۔ انگریز افسران سے تو پاکستان کی خیر خواہی کی توقع ہی نہ تھی۔ دوسری طرف ہمارا قادیانی وزیر خارجہ پاک فوج کی کشمیر میں کارروائی کو جارحیت قرار دیتے ہوئے یو این او میں اپنی چودھراہٹ قائم رکھنے کی فکر میں تھا۔ حالانکہ بھارت گیارہ ماہ سے جموں کشمیر میں جارحیت کا ارتکاب کر رہا تھا۔ لہٰذا قائداعظم کے بقول ’’پاکستان کی شہ رگ‘‘ کو جارح بھارت کی دستبرد سے چھڑانے کیلئے کوئی کارروائی جارحیت ہرگز نہ ہوتی۔ چودھری ظفر اللہ خاں نے یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ پاکستان اس وقت اپنی پوزیشن کا فائدہ اٹھا سکتا ہے، حکومت پاکستان کو مسئلہ کشمیر کے زیادہ الجھ جانے کا ڈراوا دے کر کشمیر میں فیصلہ کن کارروائی سے روک دیا۔ حالانکہ مسئلہ کشمیر پاکستان کے بروقت فوجی کارروائی نہ کرنے سے الجھا۔ پھر تین ماہ بعد بھارت نے اچانک یلغار کر کے پونچھ شہر ہم سے چھین لیا اور اس کے بعد اقوام متحدہ کے ذریعے سے جنگ بندی کرا کر مقبوضہ کشمیر کو اپنے تسلط میں رکھنے کا اہتمام کر لیا۔ دراصل پاکستان کا یکم جولائی 1949ء سے جنگ بندی کو تسلیم کر لینا اس غیر مسلم وزیر خارجہ کی کارستانی تھی۔ کاش! اے کاش! اس نازک مرحلے میں پاکستان کا وزیر خارجہ کوئی محب پاکستان مسلمان ہوتا اور پاک افواج کی کمان انگریز افسران کے ہاتھ میں نہ ہوتی