15 نومبر 2018

حکومت کو ’’سیدھے بیٹ‘‘ سے کھیلنا چاہیے! حکومت کو ’’سیدھے بیٹ‘‘ سے کھیلنا چاہیے!

پارسائی بزدلی کا نام ہے
حوصلہ چاہیے خطا کے لیے
چلیں… سید مہدی حیدر صاحب کی ناراضگی دور ہو گئی۔ اپنے اوپر تنقید پر مشتمل رائے کالم کا حصہ بنانے پر، ان کی داد کا مستحق ٹھہرا۔ میری تعریف کر کے مجھے ’’خراب‘‘ کرنے کی کوشش بھی کی۔ ان کی معذرت پر دل بھر آیا۔ یہ کہہ کر ان سے معافی طلب کی کہ ہم ’’سادات‘‘ کے غلام ہیں۔ بہرحال انہوں نے زور قلم اور زیادہ کرنے کی دعا دی جبکہ کالم پھر سے بھجوانے کے احکامات بھی صادر کیے۔
تحریک انصاف کی حکومت نے ’’دھیمے دھیمے‘‘ اپنے نئے سفر کا آغاز کر دیا ہے۔ میرے لیے یہ بڑی خبر ہے کہ پارلیمنٹ سے وہ بجلی، گیس اور نالی کو نکال رہے ہیں۔ وزیراعظم، وزراء اور ممبران پارلیمنٹ کے پاس صوابدیدی فنڈز نہیں ہوں گے۔ چلیں ’’بابوؤں‘‘ کے پاس اب عوام کیلئے کچھ تو وقت نکلے گا۔ ترقیاتی کاموں کی منظوری پارلیمنٹ سے لینے کا اقدام احسن ہے، غیر ضروری غیر ملکی دوروں کی حوصلہ شکنی، بطور خاص غیر ضروری افراد کے دوروں پر پابندی پر دل خوش ہوا۔ اورنج ٹرین منصوبے کو جلد مکمل کرنے اور اس کا فرانزک آڈٹ بہت اچھا فیصلہ ہے۔ ملک بھر میں درخت لگانے اور صفائی کے حوالے سے بڑی مہم بہت ہی اہم ہے، اخراجات کو کنٹرول کرنے اور سادگی اپنانے کا فیصلہ قابل ستائش ہے۔ وزراء کے غیر ملکی دوروں پر پابندی، کرپٹ افسران کی فہرست بنانے کا حکم اچھی شروعات ہے۔ سرکاری بابوؤں کی گاڑیوں کے حوالے سے اپنے احکامات پر جائزہ لینے کی ضرورت ہے، یہاں پر مشاورت کی جانی چاہیے۔ افسران کو گاڑیاں اپنی لے کر دیں یا ان کو پیسے دیں۔ ان کے علاج، گھر اور بچوں کی تعلیم کا اچھا میکنزم بنائیں تاکہ وہ فکروں سے آزاد اپنے کام پر توجہ دیں، ان کی ملازمتوں کا تحفظ اور پوسٹنگ کے دورانیہ تین سال کو 99% یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کی بہترین کیریئر پلاننگ کریں۔ اے سی آر سسٹم میں بہتری لے کر آئیں، یہاں ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ بے حد ضروری ہے۔ اس کو ’’بلیک میلنگ ٹول‘‘ نہ بننے دیں۔ اس کے علاوہ بھی ترقی کا حدود اربعہ طے کریں جبکہ دفاتر میں پروفیشنل اور آئیڈیل ماحول کو یقینی بنائیں۔ یہ لوگ سسٹم کی آنکھ، ناک، ہاتھ، دماغ سمیت سب کچھ ہیں، یہاں جزا و سزا کے نظام کو تیز تر بنائیں۔ 
آپ بیورو کریسی میں مثبت تبدیلیوں کے بغیر نتائج حاصل نہیں کر سکتے۔ پیدائشی بیورو کریٹس موجودہ نظام سے خود تنگ ہیں۔ ’’ذاتی غلامی‘‘ کا طوق وہ خود بھی اتارنا چاہتے ہیں مگر وہ ڈرے ہوئے ہیں، ان کو راستہ دیں۔ بات پھر وہیں، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی آ گئی ہے۔ یہی ہے خرابی کی اصل جڑ، یہاں سے اصل راستہ نکلنا ہے۔ ارباب شہزاد اور ڈاکٹرعشرت حسین کو عمران خان نے آزمانے کا فیصلہ کیا ہے تو آزما لیں، نکلے گا کچھ بھی نہیں۔ قلیل اور طویل المدتی کام ہے۔ ایف پی ایس سی بھی تو عضو معطل ہی ہے، ریٹائرڈ بیورو کریٹس کی آخری پناہ گاہ، مقابلے کے امتحان کا معیار، انٹرویو میں ’’ڈنڈی‘‘ مسلسل لگ رہی ہے۔ جو ’’سٹف‘‘ اس سسٹم سے نکل رہا ہے وہ پھر کیا ڈلیور کرے گا، حضور اس پر نظرثانی کریں۔ انٹرویو نالائقوں کو آگے اور لائق لوگوں کو کم تر گروپوں میں پھینک دیتا ہے۔ کوٹہ سسٹم پر نظر ثانی کریں۔ ’’فدوی‘‘ کی رپورٹ پر افسران کے کیریئر تباہ نہ کریں، اگر الزام ہے تو اس کی تحقیقات کرائیں، سزا دیں۔ آدھا تیتر آدھا بٹیر کی پالیسی سے اب تائب ہو جائیں۔ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پی سی ایس، پولیس اور دوسرے سول انٹیلی جنس اداروں کے معیار کو اوپر لے کر جائیں۔ پولیس میں عوام کو ڈیل کرنے والے افراد تو آنے ہی گریڈ 17 میں چاہئیں، باقی لوگوں کو صرف فورس کے طور پر رکھیں۔ ان کا مقدمے کی تفتیش، 
مقدمے کے اندراج اور جھگڑے وغیرہ کو نبٹانے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہونا چاہیے۔ منشی اور محرر، وڈے اور چھوٹے تھانیدار کا چکر ختم کریں۔ 
یہاں پر یہ صورتحال ہے کہ سپیشل برانچ اسلام آباد میں کوئی پُرسان حال نہیں ہے۔ نہ کوئی سہولت ہے اور نہ ہی جدید آلات، یہاں ایماندار ترین اور انتہائی پروفیشنل لوگوں کی ایک لاٹ ہے، جنہوں نے اپنے بچوں کو حق حلال کھلانے کیلئے وردی اتار کر سفید شلوار قمیض پہن لی۔ یہاں تو دکھ کی بات یہ ہے کہ اے آئی جی سپیشل برانچ کے پاس کسی جوان کو انعام دینے کیلئے سرے سے کوئی فنڈ ہی نہیں ہے۔ حضور، زمانہ بدل گیا ہے بجلی، گیس کا میٹر تو سادہ کاغذ پر لگنا چاہیے، پہلے بل میں تمام واجبات وصول کر لیں۔ آپ کس دنیا میں رہ رہے ہیں، ایڈوانس بلنگ پر آئیں۔ ایک ارب سے دو ارب ڈالر اکٹھے کرنا کونسا مسئلہ ہے۔ بجلی اور گیس کی مارکیٹنگ کمپنیوں کو ڈیمانڈ اینڈ سپلائی پر کام کرنا چاہیے۔ پہلے بھی لکھا ہے، پھر کہہ رہا ہوں کہ وزارت توانائی کا ایک وزیر اور ایک سیکرٹری لے کر آئیں، ایڈیشنل سیکرٹریز کی تعداد چاہے بڑھا لیں۔ اس شعبے میں جو تباہیاں آئی ہیں، اگلے چند دنوں میں یہ بم بھی پھٹنے والا ہے۔ ۔اس لیے انتظامیہ میں جن لوگوں نے ڈلیور کیا ہے، انہیں رکھیں باقیوں کی چھٹی کرائیں۔ 
پی ایس او، سوئی سدرن، پی پی ایل اور او جی ڈی سی ایل میں مکمل تطہیر کی ضرورت ہے۔ سوئی ناردرن میں بہت بہتر کام ہوا ہے۔ پی ایم ڈی سی، پارکو، انٹرا اسٹیٹ گیس کمپنی، ایل این جی کمپنی، ایل این جی ٹرمینل کمپنی میں اقربا پروریوں کی انتہا ہے۔ سوئی سدرن کمپنی میں انتظامی سطح پر میرٹ کی اشد ضرورت ہے ۔ سیندک میٹل میں بہت بہتر کام ہوا ہے، نیچے ڈائریکٹوریٹس میں میگا سکینڈل ملیں گے۔ ان لوگوں نے ملکی تیل اور گیس کی پیداوار کو تباہ کیا تاکہ ایل این جی کا جواز پیدا کیا جا سکے۔ آپ نے اگر سسٹم بہتر کرنے ہیں تو اچھی شہرت کے لوگ سامنے لے کر آئیں، ہومیو پیتھک نہیں، سرجری کی ضرورت ہے۔ آپ سرکاری اداروں میں جو بھی اٹھا کر دیکھیں گے آپ کو ’’لال‘‘ ہی ملے گا۔
ابھی میں کالم لکھ ہی رہا تھا کہ وفاقی بیورو کریسی میں اہم تبدیلیوں کی خبریں آنا شروع ہو گئیں۔ میاں  اسد حیاالدین کو سیکرٹری پٹرولیم لگایا گیا ہے۔ وہ ایوب خان کے سی جی ایس جنرل حیا الدین شہید کے صاحبزادے ہیں، ان کے والد او جی ڈی سی ایل کے پہلے چیئرمین تھے۔ ’’جرگہ‘‘ سٹائل میں کام کرنے والے حیا الدین بیورو کریسی میں تیز رفتاری اور نیک نیتی کے حوالے سے اچھی شہرت رکھتے ہیں۔ نئے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈاکٹر اعجاز منیر کی شہرت بھی ’’اپ رائٹ‘‘ افسر کی ہے، وہ غلط کام کرتے نہیں ہیں، صحیح کام روکتے نہیں ہیں۔ نئے سیکرٹری ایوی ایشن ثاقب عزیز بھی انتہائی محنتی آفیسر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کے سامنے پی آئی اے کی ری اسٹرکچرنگ اور ایوی ایشن پالیسی پر اہم ترین کام کی ذمہ داری ہے۔ یہاں بہت مسائل ہیں، آدھے مسائل سیاسی ہیں۔ ابھی پاور ڈویژن، کامرس، صنعت و تجارت، مواصلات، خزانہ، پلاننگ، داخلہ، ریلوے، ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ٹریننگ، نیشنل ہیلتھ ریگولیشن، ہاؤسنگ، فوڈ سکیورٹی، کابینہ ڈویژن، آئی پی سی اور دوسرے کئی اہم ترین ادارے جن میں این ایچ اے، سی ڈی اے سمیت سیکڑوں کارپوریشنز اور دوسرے ادارے شامل ہیں۔ تیزی سے یہاں نئے افراد لانے کی ضرورت ہے۔
ایسی اطلاعات آ رہی ہیں کہ پنجاب کے چیف سیکرٹری اکبر درانی تبدیل کیے جا رہے ہیں، وہ بڑے محنتی بیورو کریٹ ہیں، جنوبی پنجاب میں کافی نوکری کی ہے۔ بلوچستان میں جو امن آیا ہے، ان کے 5 سالہ ہوم سیکرٹری کے کردار کی بہت اہمیت رہی ہے۔ وہ بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں، انتہائی بہادر ہیں۔ گھر تباہ ہونے اور تین مائنز کے حملوں کے باوجود وہ ڈٹے رہے، ان کو موقع ملے تو وہ ’’ڈلیور‘‘ کرنے 
کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کو وفاقی بیورو کریسی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت صرف احمد نواز سکھیرا ہی رکھتے ہیں۔ لندن سکول آف اکنامکس سے فارغ التحصیل، سابق کرکٹر اور ایچی سونین، سردار احمد نواز سخت منتظم ہیں، ہر وقت احتساب کیلئے تیار رہتے ہیں جبکہ انہیں دوسروں کا احتساب کرنے سے بھی کوئی نہیں روک سکتا۔ انہیں پاکستان کیلئے اربوں روپے کمانے اور اربوں روپے ریکور کر کے دینے کا اعزاز حاصل ہے۔ پنجاب میں آئی جی مضبوط آدمی چاہیے، واجد ضیاء اچھی چوائس ہو سکتے ہیں، رائے ظاہر بھی اچھا انتخاب ہوں گے۔ دیکھیں تحریک انصاف اور کیا فیصلے لیتی ہے، اننگ کی ابتدائی گیندوں کے بعد اب انہیں وکٹ کی سمجھ آ رہی ہے، سیدھے بیٹ سے کھیلنا شروع کر دیا ہے۔
قحط سالی سے رہائی کی یہی دو صورتیں ہیں
یا تیرا خون بہے یا میرا فن برسے
بقیہ: محاسبہ