20 نومبر 2018
تازہ ترین

حکومت چلتی رہے گی؟ حکومت چلتی رہے گی؟

پی ٹی آئی کی حکومت بنتے ہی اوپر تلے پیش آنے والے بعض واقعات کے مطابق اکثر لوگ ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں کہ ایسا کب تک چلے گا؟ آگے کیا ہو گا، یہ تو اللہ ہی جانتا ہے لیکن حالات و واقعات کے تناظر میں تجزیہ ضرور کیا جا سکتا ہے۔ یہ حکومت جیسے تیسے بھی چلے، چلائی جائے گی کیونکہ فی الحال ریاست کے پاس زیادہ آپشن موجود نہیں۔ مسلم لیگ(ن) کو واپس لانا ہوتا تو اتارتے ہی کیوں؟ پیپلز پارٹی چاہے جو مرضی کر لے، اب اس پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا، سو میدان پی ٹی آئی کے لیے بالکل صاف ہے۔ پچھلی حکومت پر جتنے چاہے الزامات لگا دیے جائیں، زمینی حقائق سامنے ہیں۔ قومی خزانے میں زرمبادلہ کے ذخائر 18ارب ڈالر (ساڑھے دس ارب ڈالر سٹیٹ بنک اور ساڑھے سات ارب ڈالر دیگر بنکوں کے پاس ہیں)کے قریب ہیں۔ اقتصادی چیلنجز ضرور درپیش ہیں مگر اپنی معیشت کے حجم اور ترقیاتی کاموں کے انفراسٹرکچر کو دیکھا جائے تو پتا چل جائے گاکہ شور شرابا کسی اور مقصد کے لیے کیا جارہا ہے۔ لوڈشیڈنگ بڑی حد تک کنٹرول میں ہے۔ اب جو ہورہا ہے اس کا تعلق بجلی کی کمی سے ہر گز نہیں مس مینجمنٹ سے ہے۔ نگران حکومت تو دور کی بات پی ٹی آئی کی اپنی حکومت سینیٹ میں اس بات کا تحریری اعتراف کر چکی کہ بجلی کی پیداوار طلب سے زیادہ ہے۔ دہشت گردی جو ایک دہائی سے بھی زیادہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکا تھا، اب تقریباً تقریباً اس پر قابو پایا جا چکا۔ ایسے آئیڈیل حالات میں کسی کو حکومت ملے اور وہ ہر چیز تباہ شدہ حالت میں ملنے کا واویلا کرتا پایا جائے تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ سیاست کا بے رحم کھیل کھیلا جارہا ہے۔ نئی حکومت کے اقدامات اور پالیسیوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اسے سوشل ویلفیئر کے کاموں کی طرف توجہ دینا ہو گی۔ وزیراعظم عمران خان کے قوم سے جس خطاب کو تاریخی قرار دیا جارہا ہے اس کا ایک اور رخ سے جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ اس تقریر کے ساتھ ہی یہ بھی واضح ہو گیا کہ سول حکومت کا دائرہ اختیار کن امور پر کہاں تک ہو گا؟ بنیادی طور پر یہ حکومت 2002 ء کے عام انتخابات کے بعد بننے والی ظفراللہ جمالی حکومت کی طرز پر ہی کام کر سکے گی۔ اس کے مقابلے پر ابھی تک مضبوط اپوزیشن اتحاد قائم نہیں ہو سکا، شاید جلد ہو گا بھی نہیں۔ پوری قوم کو اس غلط فہمی سے چھٹکارا حاصل کر لینا چاہیے کہ پیپلز پارٹی اب کسی بھی حوالے سے حزب اختلاف کا حصہ ہے۔ الیکشن 2018ء سے بہت پہلے اقتدار کی تقسیم کا جو فارمولا تشکیل دیا گیا تھا، اس میں پی پی پی کا باقاعدہ حصہ رکھا گیا تھا یعنی سندھ کی حکومت پیپلز پارٹی کے ہی حوالے ہونا تھی، ایسا 
نہیں کہ پیپلز پارٹی کو یہ سب مفت میں ملا، اسٹیبلشمنٹ کی لائن پر پوری طرح سے عمل کرنا پڑا۔ بات صرف اوپر سے ٹپکنے والے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی تک محدود نہیں، ’’مرد حر‘‘ آصف زرداری کئی بار ایسے بیانات دیتے پائے گئے جو بعض اینکروں کو مخصوص حلقوں کی جانب سے وٹس ایپ پر تیار شدہ حالت میں ملتے ہیں۔ ان دنوں پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے وہ اپنے حصے سے کچھ زیادہ مانگنے کی سرزنش کے طور پر ہورہا ہے۔ 2018 ء کے انتخابی نتائج کے بعد آصف زرداری نے کبھی وزیراعظم، کبھی صدر اور کبھی چیئرمین سینیٹ کے عہدوں کیلئے اپنی رائے دینے کی کوشش کی تو ’’ادھر‘‘ سے فیصلہ کیا گیا کہ ہلکی پھلکی موسیقی کے ذریعے بات سمجھا دی جائے۔ یہ الگ بات ہے کہ ضرورت پوری ہونے پر معاملہ کسی مرحلے پر واقعی سنجیدہ بھی ہو سکتا ہے۔ حالیہ گریٹر سیاسی پلان کا اصل نشانہ مسلم لیگ(ن) تھی، کسی حد تک ممکن تھا کہ شہباز شریف کیلئے کوئی گنجائش نکل آتی لیکن نواز شریف نے سمجھوتا کرنے سے انکار کر دیا۔ ن لیگ کے ہی بعض رہنمائوں کا کہنا ہے کہ سمجھوتا کرنے کی صورت میں بھی ہمارے ساتھ یہی کچھ ہونا تھا، اسٹیبلشمنٹ کی بھرپور کوشش رہی کہ 2014 ء کے دھرنوں کے دوران وزیراعظم نواز شریف کی چھٹی کرائی جائے۔منصوبہ پورا نہ ہو سکا تو پاناما کا معاملہ سامنے آگیا، وزیراعظم کو پہلے نااہل کر کے مقدمہ چلایا گیا۔ جے آئی ٹی میں بچوں سمیت پیشی کے دوران بھی یہی کہا جاتا رہا کہ اپنے خاندان سمیت ملک چھوڑ دیں، حتیٰ کہ نیب کورٹ سے سزا کے بعد بھی، جب نواز شریف اور مریم لندن میں کلثوم نواز شریف کی عیادت کیلئے موجود تھے، پیغام بھجوایا گیا کہ واپس نہ آئیں۔ نواز شریف اپنی بیٹی کے ساتھ واپس آ کر جیل بھی چلے گئے، کہا جارہا ہے کہ انہیں اب بھی پرانی پیشکش کی جارہی ہے مگر وہ تیار نہیں ہو رہے۔ منصوبہ سازوں کا خیال ہے کہ آخر کب تک ؟جیل کی سختیوں سے تنگ آ کر ایک نہ ایک دن نواز شریف سمجھوتا کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
عمران خان کو چلانا اور محفوظ رکھنا پی ٹی آئی سے کہیں زیادہ اسٹیبلشمنٹ کی ضرورت ہے، اسی لیے زرداری کو سندھ حکومت اور ساتھ ہی ساتھ سزا کا خوف دے کر قابو کیا گیا ہے۔ شہباز شریف کو مختلف مقدمات میں الجھا کر نا صرف پوری طرح سے قابو رکھا جارہا ہے بلکہ ڈرایا بھی جا رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن اور مسلم لیگ(ن) کے دیگر اتحادی رہنما عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے بعد جس طرح کھل کر سامنے آئے ہیں ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی، ان کے پاس تحریک چلانے کے لیے جواز بھی موجود ہے اور افرادی قوت بھی لیکن مسلم لیگ کا بحیثیت جماعت احتجاج کا حصہ بنے بغیر رنگ نہیں جم سکتا۔ اس لیے فی الوقت ساری اپوزیشن الجھائو کا شکار ہے۔ پارلیمنٹ، چینلوں،اخبارات، سوشل میڈیا یا عوامی مقامات پر حکومت پر غلطیوں کے حوالے سے جو تنقید ہورہی ہے وہ کتنی ہی مؤثر کیوں نہ ہو، حکومت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ ایک پہلو یہ بھی ہے کہ پنجابی محاورے کے مطابق حکومت کا جتنا ’’لترپولا‘‘ ہو گا اس سے فائدہ اٹھانے والوں میں سیاسی مخالفین ہی نہیں، غیر سیاسی سرپرست بھی شامل ہوں گے۔ سول حکمرانوں کو ان کی اوقات میں رکھنے کا کام کوئی رضا کارانہ طور پر کررہا ہے تو حرج ہی کیا ہے؟