حکومت نہیں ریاست کی ضرورت حکومت نہیں ریاست کی ضرورت

یقیناً یہ گزشتہ حکومتوں کی نااہلی تھی، مزید یہ کہ انہیں عوام کی حمایت بھی حاصل نہیں تھی اس لیے وہ کوئی بڑا فیصلہ نہیں کر سکے۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کسی سیاسی حکومت میں یہ جرأت ہی نہیں ہوئی کہ وہ دینی سیاسی جماعتوں یا کسی بھی مذہبی سیاسی جماعت کیخلاف کوئی کارروائی کرسکے۔ ہر کوئی اسے آ بیل مجھے مار کے مصداق سمجھتا رہا ہے، ہر کوئی انہیں ساتھ لے کر چلنا، ان کے ساتھ مفاہمت کے امکانات روشن رکھنا یا پھر مؤثر حلقہ اثر رکھنے والوں کے ساتھ تعلقات کی بہتری ضروری خیال کرتا رہا ہے۔ یہ طویل داستان ہے۔ محکمہ اوقاف کی تشکیل کا پس منظر بھی کچھ ایسا ہی تھا اور آج بھی ہے۔ مزاروں کے ساتھ مساجد میں بریلوی مکتبہ فکر کے علمائے کرام ایڈجسٹ ہوتے ہیں، تحریک لبیک کے خام رضوی بھی ایک زمانہ میں یہ ذمہ داری ادا کر کے سرکار سے ’’مشاہرہ‘‘ وصول کیا کرتے تھے لیکن پھر انہیں ’’حسن بیان‘‘ کی بناپراس ذمہ داری سے علیحدہ کر دیا گیا۔ بہرحال جو مساجد محکمہ اوقاف کے انتظام میں ہیں وہاں مکتبہ دیوبند کے علمائے کرام ذمہ داری ادا کرتے ہیں۔
بہرحال حکومت، ریاست اور علمائے کرام کے درمیان تعلق کے ہمارے ہاں شریعت کونسل اور رویت ہلال کمیٹیاں بھی ہیں جو آج کے سائنسی اور جدید ٹیکنالوجی کے زمانہ میں بلند ترین عمارتوں پر دوربین لگا کر ’’طلوع ماہ‘‘ کا نظارہ کرتے اور امت مسلمہ کو چاند کے طلوع ہونے کی خوش خبری سناتے ہیں۔ پہلے یہ کام رمضان اور عیدین کے موقع پر ہوتا تھا اب یہ ذمہ داری ہر مہینے ادا کی جاتی ہے تاکہ …!! اچھی بات ہے، جہالت کے اندھیرے میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو ابھی تک چراغ روشن کیے ہوئے ہیں۔ خیر بات تو ہم آس سے کچھ اور سانجھی کرنا چاہتے تھے بلکہ موجودہ حکومت کے جرأت مندانہ فیصلے کو داد دینا چاہتے تھے۔ جو کام نہ تو پیپلزپارٹی کر سکی اور نہ ہی نون لیگ کی حکومت حوصلہ مندی کا مظاہرہ کرسکی۔
پیپلزپارٹی کی حکومت کے دوران میں علامہ ڈاکٹر پروفیسر محمد طاہر القادری نے اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا ان کے کنٹینر میں وفاقی وزراء کی آمد ہوئی، باہم مذاکرات ہوئے اور مفاہمت کا راستہ تلاش کر لیا گیا۔ علامہ صاحب واپس اپنی دوسری رہائش گاہ کینیڈا چلے گئے۔ پھر نوازشریف دور میں وہ تاریخی دھرنا 126 دن تک جاری رہا جس میں تھرڈ امپائر کو آوازیں بھی دی گئیں، وزیراعظم ہائوس کی طرف پیش رفت بھی ہوئی، پارلیمنٹ ہائوس کا محاصرہ بھی ہوا، پی ٹی وی کی عمارت پر حملہ بھی ہوا۔ حکومت کوئی مؤثر کارروائی نہیں کر سکی، کچھ رسمی سے مقدمات کا اندراج ہوا، معاملہ عدالت میں بھی گیا لیکن چار سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک فیصلہ کن نتائج سامنے نہیں آئے۔
اور پھر… یہی وہ عہد تھا بلکہ نوازشریف کی نااہلی کے بعد مبینہ طور پر اس حکومت کو آخری دھکا دینا مقصود تھا جس کیلئے توہین رسالت قانون میں تبدیلی کو جواز بنا کر ’’فیض آباد‘‘ میں دھرنا دیا گیا، جڑواں شہروں کو ہی نہیں بلکہ وفاق اور پنجاب کا زمینی رابطہ منقطع کر دیا گیا۔ حکومت اور حکمرانوں کیخلاف پہلی دفعہ وہ زبان استعمال ہوئی جس سے پتا چلا کہ علمائے کرام بھی ’’لذت کام و دہن‘‘ سے آشنا ہیں۔ بہرحال اخباری معلومات کے مطابق ہمارے قابل احترام ریاستی اداروں کو مداخلت کرنا پڑی، حکومت اور مظاہرین کے درمیان معاہدہ کرانا پڑا اور پھر مختلف شہرکوں سے آئے مظاہرین کو حکومت سے ’’زاد راہ‘‘ بھی لے کر دینا پڑا جس کے بعد وفاق اورصوبے یا پھر جڑواں شہروں کے درمیان معاہدہ ہوا۔ یہ معاملہ بھی عدالت میں زیر سماعت ہے۔
پاکستان کی سیاست میں اہم ترین موڑ انتخابات کا آیا جس میں تحریک لبیک نے بھی شمولیت اختیار کی اس کے کچھ لوگ یہ شکایت کرتے بھی سنائی دیتے ہیں کہ 23 لاکھ ووٹ حاصل کرنے کے باوجود ہمیں کوئی نشست نہیں ملی جبکہ ایم ایم اے 26 لاکھ ووٹوں کے ساتھ درجن کے قریب نشستیں حاصل کر گئی ہے، وہ کیسے اور کیوں؟؟ بہرحال یہ کوئی چھوٹی بات نہیں۔ محض چار پانچ سال میں مقبولیت کا یہ سفر بہت کم جماعتوں کو حاصل ہوا اور وہ بائیس لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کر گئیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں یہ سب حسن نظر ہی نہیں نظر کرم بھی ہے۔ لیکن اس سے لیڈران کرام جس زعم میں مبتلا ہوئے ہیں یا پھر انہیں خوش فہمیوں میں مبتلا کر دیا۔ یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ اس نے ’’آسیہ بی بی‘‘ کی رہائی کے عدالتی فیصلے پر پورے پاکستان کی شاہراؤں کو بند کر کے شہروں کے درمیان رابطے منقطع کر دیے، تین دن تک ملک مفلوج رہا، ریاست اور اداروں کے بارے سوالیہ نشان کھڑے ہو گئے۔ حکومت کو بالآخر ان کی شرائط پر معاہدہ کر کے کاروبار حیات کی سرگرمیاں بحال کرانا پڑیں۔ جو بھی ہوا، جیسے بھی ہوا لیکن یہ ثابت ہو گیا کہ:
 ریاست انتہائی کمزور ہو چکی ہے، اسے کبھی بھی کوئی بھی مسلح، غیر مسلح سیاسی طاقت کسی وقت بھی چیلنج کر سکتی ہے۔ اس تناظر میں تلخ حقیقت ہے کہ ماضی میں جب بھی سیاسی تحریکیں شروع ہوئیں ان میں بھی مذہبی سیاسی قوتوں نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا تھا۔ یہ تحریک ختم نبوت تھی یا نظام مصطفےٰ کی تحریک۔ چنانچہ اب یہ لازم تھا کہ ریاست کی رٹ ثابت کی جائے او ر وہ قوتیں جو خوش فہمی کا شکار ہو گئی ہیں انہیں ایک مخصوص دائرے میں یا پھر ریاست کے کنٹرول میں لایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ قیادت کیخلاف ان کے شہروں میں مقدمات کا اندراج ہو گیا ہے اور ان کے خلاف وفاقی وزیر اطلاعات کے بقول انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں میں مقدمات چلیں گے۔ ان حضرات نے آئین کو للکارا، قانون کی خلاف ورزی کی تھی۔
بات تو سچ ہے، سنی سنائی نہیں بلکہ کانوں سنی ہے۔ فوج میں بغاوت کی ترغیب دی گئی، چیف جسٹس اور دیگر ججوں کیخلاف فتوے جاری کیے گئے۔ یہ کہاں کی سیاست ہے؟ اور یہ کہاں کی سیادت ہے؟؟ یہ تو آئین اور قانون کے خلاف کھلی بغاوت تھی، اس کا سدباب حکومت کی نہیں، ریاست کی ضرورت تھی۔ بھلا یہ کیابات ہوئی، جس کے اپنے پائوں زمین پر نہیں ٹھہر سکتے وہ بھی ریاست کو چیلنج کر دیتا ہے؟