15 نومبر 2018

حمید اختر، کیا بات تھی! حمید اختر، کیا بات تھی!

 یادش بخیر جناب حمید اختر کی 84ویں سالگرہ کی تقریب لاہور میں برپا تھی۔ شہر بھر کے ممتاز ترقی پسند ادیب، شاعر، دانشور، صحافی، سیاسی کارکن اور ٹریڈ یونین لیڈرز سے ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ مقررین اپنے اپنے مختصر خطاب میں جناب حمید اختر کی حیات و خدمات خصوصاً سیاست و صحافت اور انجمن ترقی پسند مصنفین و کمیونسٹ پارٹی کے حوالے سے ان کے کردار اور کنٹری بیوشن کا تذکرہ کرتے ہوئے انہیں زبردست خراج پیش کر رہے تھے اور اس امر کا بھی بار بار تقریباً ہر مقرر ذکر کر رہا تھا کہ جناب حمید اختر اس بڑھاپے میں بھی روٹی روزی کمانے کیلئے مسلسل کام اور کالم نویسی کر رہے ہیں۔ جب مقررین کی جانب سے جناب حمید اختر کے بڑھاپے، بزرگی اور ضعیفی کا تذکرہ کچھ زیادہ ہی ہو گیا تو ہال کی پچھلی نشستوں سے بہت ہی شستہ اور شائستہ لہجے میں ایک آواز ابھری جناب والا! پوائنٹ آف آرڈر؟ تقریباً سبھی نے پیچھے گردنیں گھما کر دیکھا، ٹیلی ویعن کے سینئر آرٹسٹ زبیر بلوچ اپنی نشست پر کھڑے ہو کر کچھ کہنے کیلئے بے تاب نظر آئے۔ پروگرام کے کمپیئر یا میزبان اعزاز احمد آذر نے سٹیج پر موجود مقرر کو چند ثانیوں کیلئے توقف کی درخواست کرتے ہوئے زبیر بلوچ صاحب کو بات کرنے کی دعوت دی۔ گفتگو کی اجازت ملنے پر وہ یوں گویا ہوئے۔ جناب والا! تقریباً ہر مقرر نے اپنی گفتگو میں بار بار ان کے (حمید اختر) بڑھاپے اور بزرگی کا تذکرہ کیا ہے جبکہ ابھی ان کی عمر صرف 84 برس ہے۔ جناب زبیر بلوچ نے مزید کہا کہ پچھلے دنوں ایک طویل میراتھن ریس ہوئی جسے ایک 115 سالہ سکھ (سردار) نے جیتا۔ جب ریس جیتنے کے بعد اس کا انٹرویو نشر ہوا تو اس نے 115 سالہ ہونے کے باوجود ایک مرتبہ بھی اپنے بڑھاپے، بزرگی یا ضعیفی کا ذکر تک نہ کیا۔ اس پر میں نے برجستہ بآواز بلند کہا وہ بے چارہ تو سکھ سردار تھا، اسے تو پتا ہی نہیں چلا ہو گا کہ وہ 115 سال کا ہو چکا ہے میرے اس تبصرے پر ہال میں ایک فلک شگاف قہقہہ بلند ہوا۔ لوگ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہونے لگے، خود سٹیج پر بیٹھ جناب حمید اختر بھی ہنستے ہنستے دوہرے ہو گئے اور ہاتھ کے اشارے سے مجھے اس برجستہ اور بے ساختہ لطیف جملے کی داد دی۔ جناب حمید اختر کی یہ داد بلاشبہ میرے لئے کسی اعزاز سے کم نہ تھی مگر یہ داد اور میرے جملے پر ان کا قہقہہ دراصل ان کی شگفتہ مزاجی، بزلہ سنجی اور ہنس مکھ طبیعت کا آئینہ دار تھا۔ حمید اختر صاحب بلاشبہ ایک کھلے دل، کھلے ذہن اور کھلے مزاج کے کھلے ڈھلے انسان تھے۔ مایوسی، پعمردگی، یبوست ان کو چھو کر بھی نہ گزری تھی۔ ان کی تحریریں خصوصاً کالم اور یادداشتیں ان کی زندگی اور بیتے دنوں کی عکسی تصویریں ہیں۔ وہ جیسے تھے ویسا ہی اظہار اپنی تحریروں میں کرتے تھے۔ حمید اختر صاحب کی یادداشت بہت اچھی اور انداز بیان بہت دلفریب تھا۔ کسی واقعہ کو بیان کرتے ہوئے وہ اپنے قاری کو اس کیفیت میں لے جاتے جو اس واقعہ کے ظہور کے وقت ان کی اپنی ہوتی۔ ایک روز بتانے لگے کہ وہ اپنے ایک دوست کے ہاں جب بھی جاتے وہ یہ تذکرہ لے بیٹھتا کہ ان کا ملازم کھانا یا چائے بناتے اور مہمانوں کو پیش کرتے ہوئے برتن بہت توڑتا ہے۔ کہنے لگے ایک روز ہم اپنے اسی دوست کے گھر بیٹھے تھے اور وہ اپنے ملازم کی برتن توڑ کارروائیوں کا تذکرہ کر رہا تھا کہ اتنے میں باورچی خانے سے برتن گرنے کی آواز آئی۔ میرے دوست نے بات ادھوری چھوڑ کر بآواز بلند وہیں سے ملازم کو آواز دے کر پوچھا اوے اج کیہ توڑیا ای؟ (ارے آج کیا توڑا ہے؟) ملازم نے وہیں سے جواب دیا برتن گرا تھا مگر سر جی ٹوٹا کچھ نہیں حمید اختر کہنے لگے، اس پر میرے دوست نے برجستہ کہا برتن نئیں ٹٹا، پر ریکارڈ تے ٹٹ گیا اے ناں (برتن نہیں ٹوٹا پر ریکارڈ تو ٹوٹ گیا ہے ناں)۔ حمید اختر صاحب بلاشبہ ادب، سیاست، صحافت کی چلتی پھرتی تاریخ اور انسائیکلوپیڈیا تھے، میں پہلی مرتبہ ان سے اس وقت ملا جب میں ایم اے او کالج لاہور میں ایف اے کا طالب علم تھا اور وہ جناب عبداللہ ملک اور آئی اے رحمان و دیگر ساتھیوں کے ساتھ پی پی ایل کی احتجاجی تحریک چلا رہے تھے۔ غالباً یہ 1972ئ تھا اس دوران ان لوگوں نے بھوک ہڑتالی کیمپ بھی لگایا جہاں میں بھی رضاکارانہ طور پر اس احتجاج میں شامل ہوا اور جناب حفیظ کاردار، احمد رضا قصوری، مختار رانا مرحوم کے ہمراہ بھوک ہڑتالی کیمپ کا حصہ بنا۔ فی الوقت یہ سنجیدہ سنجیدہ معاملات میرا موضوع نہیں۔ میں صرف حمید اختر صاحب کے شگفتہ اور دلچسپ واقعات آپ سے شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ آپ ان کی اسیری کی داستان کال کوٹھری کا مطالعہ کریں وہ تلخ، کڑے اور جبر کے حالات میں بھی مردانہ وار کھڑے اور ہنستے مسکراتے نظر آتے ہیں۔ جناب احمد ندیم قاسمی کے ساتھ ان کی دوستی، محبت اور تعلق مثالی تھا۔ ایک روز اپنی اوران کی داستان اسیری کے حوالے سے یکے بعد دیگرے اتنے دلچسپ اور یادگار واقعات سنائے کہ اس عہد کی تاریخ اور حالات و واقعات کی خوب تفہیم ہوئی۔ مگر یہ سب کچھ پھر کسی اور وقت کیلئے چھوڑتے ہیں اور جیل کے دنوں کے حوالے سے ان کا بیان کردہ جناب احمد ندیم قاسمی کا یہ دلچسپ واقعہ ملاحظہ فرمائیں۔ احمد ندیم قاسمی انجمن ترقی پسند مصنفین کے پلیٹ فارم پر سرگرم عمل تھے حکومت وقت کے نقطہ نظر سے یہ سرگرمیاں وطن دشمنی پر مبنی تھیں۔ چنانچہ انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ جب آپ کو جیل لے جایا گیا تو سپرنٹنڈنٹ جیل نے انہیں بند کرنے سے پہلے ان کا سارا سامان نوٹ بک، کتابیں، قلم، مسہری اور اس کے بانس وغیرہ اپنے دفتر میں رکھوا لئے اور انہیں ہمراہ اندر لے جانے کی اجازت نہ دی۔ قاسمی صاحب نے اس پر احتجاج کیا تو جیل کے انچارج افسر نے تحکمانہ انداز میں کہا کہ اوپر سے حکم ہے کہ آپ کی یہ سب چیزیں ادھر میرے پاس رہیں گی آپ انہیں اندر نہیں جا سکتے۔ قاسمی صاحب یہ سب اشیائ لازماً ہمراہ لے جانے پر مُصر نہ تھے لیکن انہیں متذکرہ افسر کا تحکمانہ انداز تخاطب اچھا نہ لگا اس لئے کہنے لگے آپ بے شک یہ چیزیں اپنے پاس رکھ لیں مگر مجھے ان کی رسید دے دیں۔ اس پر متذکرہ افسر نے قاسمی صاحب کو یقین دلایا کہ آپ کی یہ سب اشیائ میری ذاتی تحویل میں رہیں گی لہٰذا آپ کو ان کے بار ے میں متفکر ہونے کی ضرورت نہیں۔ چنانچہ بات آئی گئی ہو گی، تاہم کچھ روز بعد جب پابندیاں ذرا نرم ہوئیں تو قاسمی صاحب نے متذکرہ افسر کو ایک منظوم رقعہ لکھا کہ ان کی وہ اشیائ واپس کر دی جائیں۔ رقعہ کا پہلا شعر تھا: میں نے دیے تھے آپ کی تحویل میں خاص اک نوٹ بک کے ساتھ مسہری کے چار بانس حمید اختر کی یادداشتوں میں ایسے بے شمار دلچسپ اور مزے مزے کے واقعات محفوظ تھے جو وہ حسب موقع دوست احباب اور اپنے ہم جیسے نیاز مندوں اور مداحوں کو سنا کر محظوظ کیا کرتے تھے۔ بلاشبہ ان کی طبیعت کا یہ رنگ و انداز کی ہمہ جہت اور ہفت رنگ شخصیت کا ایک پہلو تھا۔ دہر میں انتخاب تھا وہ شخص آپ اپنا جواب تھا وہ شخص جناب حمید اختر اپنی تحریروں اور اپنے مثالی کردار کے باعث ہمارے دلوں اور ذہنوں میں موجود رہیں گے مگر رضی اختر شوق کے لفظوں میں: نقش پا کچھ رفتگاں کے خاک پر محفوظ ہیں یہ نشانی دیکھ سکتے ہیں اٹھا سکتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ بس ایسے ہی آج ان کی یاد آ گئی۔