22 اکتوبر 2018
تازہ ترین

’’حلوہ‘‘ ہی ملک کو ’’سیاسی استحکام‘‘ دے سکتا ہے ’’حلوہ‘‘ ہی ملک کو ’’سیاسی استحکام‘‘ دے سکتا ہے

دوستوں کے حلقے میں ہم وہ کج مقدر ہیں
افسروں میں شاعر ہیں، شاعروں میں افسر ہیں
آندھیاں لپکنے سے، بجلیاں چمکنے سے
کاش تم سمجھ سکتے جو رتوں کے تیور ہیں
موسموں کی سازش سے کس کو باخبر کیجئے
اب ہمارے شہروں میں سارے لوگ پتھر ہیں
جرأتِ بیان میری مجھ سے چھین لے یا رب
جن سے میں مخاطب ہوں، بے حسی کے پیکر ہیں
دشمنوں سےیہ کہہ دو، زحمتِ عداوت کیوں
ہم میں میر صادق ہیں، ہم میں میر جعفر ہیں
جو قصیدہ لکھتے ہیں روز چڑھتے سورج کا
حیف وہ بزعم خود، آج کے سخن ور ہیں
(مرتضیٰ برلاس)
بس ایسے ہی بیٹھے بیٹھے مرتضیٰ برلاس یاد آ گئے۔ رام ریاض، جن کے گھر میں ہم نے زندگی کے نئے زاویے دیکھے، ان کی برلاس صاحب سے خصوصی محبت اور دوستی تھی۔ ویسے لفظ ’’خصوصی‘‘ اضافی ہے۔ ایک مشاعرے میں برلاس صاحب نے صدر مشاعرہ ہونے کے باوجود رام ریاض کو اپنے سے پہلے کلام پڑھنے سے یہ کہہ کر زبردستی روک دیا کہ اگر آپ نے مجھ سے پہلے پڑھا تو بعد میں مجھے کس نے سننا ہے۔ رام ریاض نے انہیں بڑا سمجھایا، وہ نہیں مانے۔ اصل بات رام ریاض سے دوستی، محبت اور احترام تھا۔ اس لیے انہوں نے ’’روایت‘‘ توڑ دی، پھر رام ریاض نے جب اپنا کلام سنایا تو برلاس صاحب سر دھنتے رہے۔
مسکراتی آنکھوں کو دوستوں کی نم کرنا
رام اب چھوڑ دو ایسے افسانے رقم کرنا
 صبر کی روایت میں جبر کی عدالت میں
لب کبھی نہ وا کرنا، سر کبھی نہ خم کرنا
گزشتہ روز کے کالم پر ناقابل یقین ردعمل آیا۔ کئی دوست باقاعدہ روتے رہے۔ پیارے بھائی اویس الحسن نے کہا کہ اتنا درد بھرا کالم…ہائے! اشرف سہیل صاحب تو حوصلہ افزائی کا بہانہ ڈھونڈتے ہیں۔ میاں طارق نے کراچی سے چار بار ’’واہ‘‘ لکھ کر اپنے اندر چھپی ’’آہ‘‘ کو دبا لیا۔ بہت دوستوں نے حوصلہ افزائی کی۔ میری تحریر میں کچھ نہیں ہے، یہ دوستوں کے اندر چھپی ان کی خوبصورتی، درد مندی اور حسن نظر ہے۔
شاید ہمارے بہت سے دکھ، درد مشترک ہیں، میں لکھ کر ہلکا ہو جاتا ہوں، دوست پڑھ کر مزید دکھی ہو جاتے ہیں البتہ کچھ نہ کچھ ’’کتھارسز‘‘ ہو جاتا ہے۔
اس ملک میں اگر ہم نام نہاد سفید پوشوں کی حالت یہ ہے تو پھر آپ یہ لکھ پڑھ لیں کہ عام آدمی تباہ و برباد ہو چکا ہے۔ اس کا ذمہ دار پورا معاشرہ اور فرد خود بھی ہے۔ پیرزادہ قاسم نے کہا تھا کہ:
میں اس کو زندوں میں کیا شمار کروں
جو سوچتا بھی نہیں، خواب دیکھتا بھی نہیں
اسے بہرحال کھڑا ہونا پڑے گا، اسے سمجھنا ہوگا، اپنی آزاد سوچ پروان چڑھانا ہوگی۔
آج شہبازشریف فرما رہے تھے کہ نوازشریف جیل میں قوم کیلئے قربانی دے رہے ہیں۔ اس وقت سے ہنسی رکنے کا نام نہیں لے رہی۔ نوازشریف قوم کیلئے جیل چلے گئے…بیٹے اور سمدھی کو لندن میں جائیدادوں کی حفاظت کیلئے چھوڑ آئے ہیں۔ تمام پراپرٹیاں اس قوم کے درد میں بنائی ہیں، اس قوم کیلئے ’’وقف‘‘ ہیں۔ سنا ہے کہ موصوف تو پورا لندن خرید کر وہاں پر پاکستانی جھنڈا لہرا کر گوروں سے دو سو سالہ غلامی کا بدلہ لینا چاہتے تھے۔ بدنصیب قوم کو یہ بات سمجھ نہیں آئی۔ البتہ (ن) لیگیے اس کو اچھی طرح سے سمجھ گئے تھے۔ محمود اچکزئی سے لے کر مولانا فضل الرحمٰن، ساجد میر سے لے کر ’’شیخ‘‘ سراج الحق، بزنجو سے لے کر شاہ احمد نورانی کے صاحبزادے انس نورانی حتیٰ کہ آصف علی زرداری سے لے کر ہمارے دوست اعتزاز احسن کو بھی اس نابغہ روزگار’’آئیڈیے‘‘ کی سمجھ آہی گئی، گو کہ ذرا دیر سے آئی۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق اور لیاقت بلوچ نے تو سنا ہے کہ دوبارہ کلمہ پڑھ کر تجدید ایمان کی ہے۔ انہوںنے بمعہ جماعت نوازشریف کے خلاف کرپشن کا مقدمہ سپریم کورٹ لے جانے پر ’’دَم‘‘ بھی بھرا ہے۔
 آج کل منڈیلا نواز اور سانچی مریم کیلئے باقاعدہ ’’منت‘‘ بھی مانی ہے۔ یہ بھی اطلاع ہے کہ آصف زرداری نے تو باقاعدہ ایک سو استخارے کرانے کے بعد (ن) لیگ کے ہاتھ پر بیعت کی ہے۔ حیرت انگیز طور پر فرحت اللہ بابر کے ایک بھی استخارے میں ناں نہیں آئی جبکہ شیری رحمٰن نے تو اپنے کشف کا ’’وجد‘‘ میں آنے سے پہلے ہی بتا دیا تھا۔ انہوں نے تحریک کی سوفیصد کامیابی کا بھی پہلے ہی اعلان کر دیا تھا، جس کی سچائی نے گزشتہ روز الیکشن کمیشن کے سامنے مکمل لَو دی ہے۔ ’’چار کروڑ‘‘ لوگ مکمل تیار بیٹھے تھے، عین موقع پر ملک کے وسیع تر مفاد میں شہبازشریف، حمزہ شہباز، آصف زرداری اور بلاول بھٹو نے اپنے پروگرام ملتوی کر دیے۔ تین کروڑ ننانوے لاکھ، ننانوے ہزار سات سو لوگوں کو منع کر دیا گیا۔ انہوں نے بہت جتن کیے، روئے پیٹے، آہ و زاریاں کیں۔ بعض کی تو ہچکیاں بندھ گئیں، آخر انہوں نے لیڈر شپ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور اپنے گھروںکو چلے گئے۔ اس طرح ایک انقلاب آتا آتا رہ گیا۔ وگرنہ مولانا فضل الرحمٰن کو کوئی مائی کا لال وزیراعظم بننے سے نہیں روک سکتا تھا۔ بہرحال اب بھی تحریک انصاف کے پاس مولانا فضل الرحمٰن سے صلح کا آپشن موجودہے۔ عمران خان وزیراعظم ہائوس نہیںجا رہے۔ جذبہ خیر سگالی کیلئے بے گھر ہونے والے مولانا فضل الرحمٰن کو وزیراعظم ہائوس منتقل کر دیں، اس سے سیاسی صورتحال کو کافی افاقہ ہو سکتاہے، جمہوریت خطرے سے نکل سکتی ہے، اسلام نشاۃ ثانیہ حاصل کر سکتاہے۔ یہ سب 1973ء کے آئین کے ’’تحت‘‘ ممکن ہے۔ تحریک انصاف والے اس پر ٹھنڈے دل سے غور کریں۔ اگر ممکن ہو سکے تو ایک ایک بیڈ روم محمود اچکزئی، آصف زرداری، سراج الحق، جاوید ہاشمی، گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کو بھی دے دیا جائے۔ خورشید شاہ تو کسی بھی کمرے میں گزارہ کر لیں گے۔
بہرحال اس پر پوری قوم بھی سوچے تاکہ اسلام اور اسلام آباد کی لڑائی ختم ہو سکے، تخت لاہور اور نواب شاہ والے بھی سکون میں آئیں۔ نیب کو حلوہ پکانے اور ایف آئی اے کو حلوہ لانے کی ڈیوٹی ’’سونپ‘‘ دی جائے۔ ملک کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔ ’’حلوہ‘‘ کھانے سے ہی یہ استحکام آ سکتا ہے۔
بٹائیں ہم بھی کبھی درد آبشاروں کا
کسی پہاڑ پر جا کر ہی رو لیا جائے
(کیپٹن جعفر طاہر)