حسین نواز فوٹو لیک، چل کیا رہا ہے؟ حسین نواز فوٹو لیک، چل کیا رہا ہے؟

 وزیر اعظم پاکستان کے بڑے صاحب زادے حسین نواز جو ان دنوں جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے روبرو پیش ہو رہے ہیں کی ایک تصویر وائرل ہوئی ہے جس میں انہیں ایک کمرے میں بیٹھے دکھایا گیا ہے۔ دراصل یہ تصویر اس کمرے کی ہے جہاں وہ جے آئی ٹی اراکین کے سوالوں کے جواب دے رہے تھے۔ دنیا بھر میں جب کسی کو تفتیش کے مراحل سے گزارا جاتا ہے یا تحقیقات ہوتی ہیں تو اسے اسی طرح بٹھایا جاتا ہے جس کی دوسری جانب تحقیقاتی ٹیم کے ممبران بیٹھے سوال و جواب کرتے ہیں یہ کوئی اچنبھے کی بات یا انہونی نہیں۔ لیکن ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے کہ پوچھ تاچھ کے دروان کسی کی تصویر یوں بر سر عام کی جاتی ہو جس طرح ہمارے ہاں کی جاتی ہے اس عمل کو قانونی اور اخلاقی لحاظ سے بُرا سمجھا جاتا ہے۔ اس تصویر کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا سے لیکر مین سٹریم میڈیا تک اس پر بحث مباحثہ اور گفتگو جاری ہے عوام کے ایک مؤثر حلقے کا کہنا ہے کہ اس طرح کسی بھی شخص کی تضحیک کرنا احسن عمل نہیں بلکہ کسی بھی اخلاقی اور قانونی پیمانے پر پورا نہیں اترتا۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے خاندان کے اثاثوں کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) پر بڑھتا ہوا تنازع سپریم کورٹ کی فوری توجہ چاہتا ہے کہ جے آئی ٹی کی کارروائی خفیہ انداز میں کیوں ریکارڈ کی جا رہی ہے، اور یہ کہ اس کی ریکارڈنگ کہاں محفوظ ہیں اور کون کون ان تک رسائی رکھتا ہے۔ جے آئی ٹی سپریم کورٹ کے تحقیقاتی بازو کے طور پر کام رہی ہے اور تحقیقات کے نتائج کے ملکی سیاست پر دور رس اثرات ہو سکتے ہیں چنانچہ عدالتی کارروائی کا تقدس ایک میڈیا منڈلی کے ہاتھوں پامال ہوتے ہوئے دیکھنا افسوسناک ہے۔ دوسری جانب اس سوال کو بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ مالیاتی معاملات، جس کی تحقیقات یہ جے آئی ٹی کر رہی ہے، کی تحقیقات میں فوج کے انٹیلی جنس اداروں کے دو ارکان کی شمولیت آیا مالیاتی معاملات کی تحقیقات کے لیے موزوں ہیں یا نہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ اس معاملے میں فوج کے انٹیلی جنس نمائندوں کو کسی صورت بھی شامل نہیں کیا جانا چاہیے تھا، اور جب کیا گیا تب بھی غیر ضروری مروت برتی گئی۔ یہاں جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ داؤ پر کیا لگا ہے۔ سپریم کورٹ میں تاریخی سماعتوں کے دوران پہلی بار ملک کے وزیرِ اعظم اور ان کے خاندان کی دولت اور کمائی کے ذرائع کی تحقیقات ہوئی ہیں۔ وزیرِ اعظم اور ان کے خاندان کے سیاسی مستقبل کے علاوہ جمہوری نظام کی ساکھ بھی اس وقت زیرِ آزمائش ہے۔ اس لیے سپریم کورٹ ان سب باریکیوں کا فیصلہ کرنے کے لیے درست فورم ہے۔ اس بات کا اعادہ کرنا چاہیے کہ تمام ضوابط اور قوانین کی سختی سے پاسداری کی جائے گی۔ اب واپس آتے ہیں تصویر کی لیک کی جانب جس پر ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے کہ یہ کس نے اور کیوں جاری کی یا کیسے لیک ہوئی؟ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ تصویر کا جاری ہونا منصوبہ بندی کا حصہ تھا، لیکن دوسری جانب وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ واٹس ایپ کال کے معاملے اور حسین نواز کی غیر قانونی تصویر کی ریلیز نے اس سارے عمل کی غیر جانبداری اور شفافیت کے بارے میں سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا وزیراعظم نواز شریف اور ان کا خاندان انصاف کے تمام تقاضے پورے کر رہا ہے، لیکن ان کی بے عزتی کرنے اور ان کا مذاق اڑانے کی کوششیں انسانی اور قانونی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔ مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اس تمام عمل کے حوالے سے اپنے تمام تر تحفظات اور بے قاعدگیوں کے باوجود وزیراعظم اور ان کا خاندان انصاف کی امید کر رہا ہے کیونکہ وہ آئین و قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں۔ وزیر مملکت نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ تصویر اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ وہ انصاف کا انتظار کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی الزام لگا رہی ہے کہ یہ تصویر وزرات داخلہ نے جاری کی ہے جبکہ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کی دوران جے آئی ٹی بننے والی فوٹو لیک ہونے کی ذمہ داری وزارتِ داخلہ پر ڈالنا ایک انتہائی بے بنیاد، لغو اور مضحکہ خیز ہے۔ ترجمان وزارتِ داخلہ نے ایک جاری بیان میں کہا کہ جوڈیشل اکیڈمی کی صرف بیرونی سیکیورٹی اسلام آباد پولیس کے پاس ہے جبکہ اکیڈمی کے انتظامی امور میں اسلام آباد پولیس یا وزارتِ داخلہ کا کوئی عمل دخل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد پولیس سمیت وزارتِ داخلہ کے کسی ڈیپارٹمنٹ یا ادارے کی رسائی نہ تو جے آئی ٹی کے دفاتر اور نہ اسکی کارروائی یا فلم بندی تک ہے۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ انتہائی نامناسب ہے کہ ایک حساس مسئلے پر اس انداز سے سیاست کی جائے۔ وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق یہ منطق مان لی جائے تو عمران خان کو سیکیورٹی بھی اسلام آباد پولیس ہی دیتی ہے، کیا جو کچھ بنی گالہ کی رہائشگاہ کے اندر ہوتا ہے اسکی ذمہ داری بھی اسلام آباد پولیس اور وزارتِ داخلہ پر ڈال دی جائے؟ مذکورہ تصویر، جو کسی سی سی ٹی وی فوٹیج سے لیا گیا اسکرین شاٹ معلوم ہوتی ہے جس پر 28 مئی کی تاریخ درج ہے، یہ وہی دن ہے جب حسین نواز جے آئی ٹی کے سامنے پہلی مرتبہ پیش ہوئے تھے۔ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم کے صاحبزادے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے احاطے میں ایک کمرے میں بیٹھے ہیں اور تفتیش کاروں کے سوالات کا سامنا کر رہے ہیں۔  جبکہ وزیراعظم کے ترجمان مصدق ملک کے مطابق جے آئی ٹی عدلیہ کی نگرانی میں کام کر رہی ہے، لہٰذا یہ ججز کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان چیزوں پر توجہ دیں، جو جے آئی ٹی کے طریقہ کار کے حوالے سے شکوک وشبہات پیدا کر رہی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم پہلے ہی اس حوالے سے سپریم کورٹ کو اپنے تحفظات سے آگاہ کر چکے ہیں۔ مصدق ملک نے سوال کیا، اس تصویر کو ریلیز کرنے کا مقصد کیا تھا؟ کیا پی ٹی آئی کے کارکنوں نے شریف خاندان کو بدنام کرنے کے لیے یہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل کی؟ ان کا کہنا ہے تھا کہ حسین نواز کی ایک ایسی تصویر ریلیز کرنا، جس میں وہ قابل رحم انداز میں بیٹھے ہیں، نا صرف غیر اخلاقی عمل ہے بلکہ قانون اور عدالتی اصولوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔ اگر عدالت نگرانی کر رہی ہے تو اسے نا صرف اس تصویر کے لیک ہونے کا نوٹس لینا چاہیے بلکہ ان تمام دھمکیوں کا بھی نوٹس لینا چاہیے، جو لوگوں کو دستخط کرنے یا دستاویزات واپس لینے پر مجبور کرنے کے لیے دی جا رہی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس معاملے کو ٹھنڈے پیٹوں ہضم نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ اس کی مکمل تحقیقات کی جانی چاہیے۔ جبکہ وزیر اعظم خود اور ان کا خاندان تحقیقات کے حوالے سے مکمل تعاون کر رہا ہے بلکہ کسی حد تک امتیازی سلوک بھی برداشت کر رہا تو اس طرح کے ہتھکنڈوں سے مخالفین کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ حکومت کو چاہیے کہ وہ حال ہی میں خفیہ معلومات افشا کرنے کے شبے میں امریکی کنٹریکٹر کی گرفتاری کو مثال بناتے ہوئے اس کیس کو بھی منطقی انجام تک پہنچائے خبر کے مطابق امریکا میں ایک سرکاری کنٹریکٹر کو ایک خبر رساں ادارے کو انتہائی خفیہ معلومات لیک کرنے کے شبے میں گرفتار کیا گیا ہے۔25سالہ ریئلٹی لی ونر نے مبینہ طور پر امریکی ریاست جارجیا کی سرکاری تنصیب سے خفیہ دستاویزات لیں۔ حسین نواز کی تصویر جاری کرنے والوں کا پتا چلانا کچھ زیادہ مشکل نہیں حکومت کو چاہیے کہ ایسے افراد کو بے نقاب کیا جائے جو اس طرح کی حرکتیں کر کے حکومت اور اداروں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا اور عوام کو کنفیوز کر رہے ہیں ایسے لوگوں کو سامنے لانا ضروری ہے تاکہ آئندہ کے لئے اس طرح کی غیر اخلاقی حرکتوں کا سدباب کیا جا سکے۔