23 ستمبر 2018
تازہ ترین

حافظ محمد احمد خان اور منشی اللہ دتا حافظ محمد احمد خان اور منشی اللہ دتا

(10 ستمبر1923 ء کی تحریر ) 
لیکن شہادت ناکافی ہونے اور مزید شہادت پیش نہ ہونے کے باوجود دو دو سال کی قید اور تین تین سو  روپے جرمانے کا حکم سنا دیا گیا اور انگریزی انصاف و عدالت کی شان دار روایات پر ایک ناقابل رشک مہر تصدیق ثبت کر دی گئی۔ خدا جانے استغاثہ کی صریح کمزوری کے باوجود جناب حاکمِ عدالت کو کون سی طاقت نے سزا دینے پر مجبور کر دیا اس کی صحیح خبر عالم الغیب ہی کو ہو سکتی ہے۔ ہم کیا جانیں کہ حکومت کے ارباب اختیار کے چمن زارِ استبداد میں:
بلبل چہ گفت و گل چہ شنید و صبا چہ کرد
فیصلے میں مجسٹریٹ صاحب نے زمیندار کے نابینا مدیر سے بہت ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور یہ لکھ کر اپنی افسوسناک ’’قانون دانی‘‘ اور معاملہ فہمی کا ثبوت دیا ہے کہ اصلی شرارت پیشہ آدمی پس پردہ ہے۔ اس نے حافظ محمد احمد خان کو حکومت کے جبر و استبداد کیلئے سپر بنایا ہے اور خود اپنی حرکات کی پاداش بھگتنے کی جرات نہیں رکھتا۔ یہ لکھ کر گویا مجسٹریٹ صاحب نے مدیر مسئول زمیندارؔ کی توہین کی ہے حالانکہ خود فیصلے میں اس امر کا اعتراف بھی کیا ہے کہ مضمون زیر بحث مدیر مسئول کوسنا دیا گیا اور اس نے اس کی اشاعت کی اجازت دے دی۔ خدا جانے مسئولیت کیلئے اور کس چیز کی ضرورت ہے۔ جب ایک شخص روزانہ زمیندارؔ کی پیشانی پر اپنا نام لکھ کر اپنی ذمہ داری کا اقرار کرتا ہے اور پھر تمام مضامین اس کی اجازت سے شایع کئے جاتے ہیں تو ہم نہیں سمجھتے قانون کو اور کس چیز کی حاجت ہے اور علمبردارانِ قانون ’’اصلی شرارت پیشہ‘‘ آدمی کے تصور و تجسس میں اس قدر متفکر و غضب آلود کیوں ہو رہے ہیں۔
حافظ محمد احمد خان نے مضمون کی ذمہ داری اپنے سر لی اور سٹی مجسٹریٹ صاحب نے ڈھائی سال کی سزا دینے کی ذمہ داری کا بار اپنے سر پر اٹھا لیا۔ اب یہ تو خدا ہی جانتا ہے کہ اصلی مضمون لکھنے والا کون ہے اور اصلی سزا دینے والا کون۔ ہم انسانوں کو تو یہی کہنا چاہئے کہ حافظ محمد احمد خان نے مضمون لکھا اور لالہ شینکر داس نے سزا دے دی۔ دونوں طرف ’’حقیقی‘‘ کارفرماطاقتوں کو تلاش کرنا فضول و لایعنی عمل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خداوندانِ زادان کی حرکتیں
زمیندارؔ کے یہ دونوں ایثار پیشہ سرفروش جب سزا پا کر سنٹرل جیل لاہور میں پہنچے اور ان کے عزیزوں نے ان سے ملاقات کی تو معلوم ہوا کہ ان کو بہت تکلیف دی جا رہی ہے حتیٰ کہ حافظ صاحب بیمار ہوکر ہسپتال میں بھی داخل ہو چکے ہیں۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان دونوں کو درجہ خاص کے قیدیوں میں نہیں رکھا گیا۔ اس کے ذمہ دار جیل والے نہیں بلکہ خود مجسٹریٹ صاحب ہیں اور ہم قانونی پہلو کو مدنظر رکھ کر ان سے یہ استفسار کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ جب آپ نے ان دونوں ملزموں کو اخبار نویس ہونے کی حیثیت سے سزا دی ہے تو پھر درجہ خاص میں نہ رکھنے کی کیا وجہ ہے؟ جب آج تک زمیندارؔ کے تمام مدیر، طابع اور ناشر درجہ خاص میں رکھے جاتے ہیں تو حافظ صاحب اور منشی جی نے کیا قصور کیا ہے کہ انہیں اس سے محروم رکھا جا رہا ہے؟
ہم سنٹرل جیل کے حکام سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ کو ان دونوں صاحبوں سے کیا عناد ہے؟ آپ کا فرض تو یہی ہے کہ ان سے وہی برتائو کریں جو آج تک اکثر اخبار نویسوں سے کیا جاتا رہا ہے۔ حافظ صاحب اور منشی جی چور نہیں، ڈاکو نہیں، قاتل و رہزن نہیں، ان سے برا سلوک کرنا سفاہت و حماقت کی دلیل ہے۔ اور حسن سلوک، شرافت و انصاف اور دانش مندی کا تقاضا ہے۔ کارپردازانِ زنداں کونسے رویہ کو اپنے لئے پسند کریں گے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کانگرس کا اجلاس خاص 
اور مسلمان اتحاد یا غلامی
(13 ستمبر1923 ء کی تحریر ) 
ایک دو دن میں دارالسلطنتِ ہند دہلی کے مقام پر کانگرس کا اجلاس خصوصی منعقد ہونے والا ہے۔ ملک کی سیاسی حالت میں پچھلے چند ماہ سے جو عظیم الشان تغیر رونما ہوا ہے اس کو مدنظر رکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ یہ اجلاس اپنی نوعیت اور اہمیت کے اعتبار سے تمام سابق اجلاسوں پر ایک خاص فوقیت رکھتا ہے۔ تحریک ترک موالات نے تین سال کے دوران میں اپنے رہنمائے اعظم مہاتما گاندھی کے ماتحت اتحاد قومیت ہند، روح حریت و آزادی اور ایثار و قربانی کے جو عظیم و جلیل مناظر دکھائے وہ آج ہماری بدقسمت آنکھوں سے اوجھل ہو رہے ہیں اور ملک نااتفاقی اور بغض و عناد کے جذبات کا ایک محشرستان بن رہا ہے۔ کانگرس کے اندر مختلف جماعتیں بن گئیں۔ دیش بندھو داس، پنڈت موتی لال نہرو اور حکیم اجمل خان صاحب شرکت کونسل کے حامی جماعت کے سرکردہ رہنما بن گئے۔ کونسلوں سے مقاطعہ کرنے والی جماعت الگ ہو گئی اور مفاہمتِ بمبئی کے حامی علیحدہ اپنی جماعت بنائے ہوئے ہیں۔ کانگرس کے باہر کی یہ حالت ہے کہ پنڈت مدن موہن مالوی سنگٹھن سے اور سوامی شردھا نند شدھی سے اپنی قوم کی تنظیم اور اس کے استحکام کیلئے کوششیں کر رہے ہیں اور یہ مساعی کچھ ایسے انداز میں کی جا رہی ہے کہ مسلمانوں کے سیاسی، معاشری و مذہبی مفاد پر نہایت ناگوار اثر پڑ رہا ہے۔ ان تحریکات نے ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان بغض و عناد کی ایک ایسی خلیج حائل کر دی ہے جس کا پاٹنا محال ہو رہا ہے۔ حکومت نہایت خاموشی سے ان تحریکات کے افتراق انگیز نتائج کو دیکھ رہی ہے اور ٹس سے مس نہیں ہوتی لیکن ہر معقول اور صحیح الدماغ انسان بلاخوف تردید یہ کہہ سکتا ہے کہ ترک موالات کی جزوی و کلی تباہی کے جو اسباب ہیں ان میں حکومت کے تشدد کے علاوہ برادران ہنود کی حرکتیں غالب حصہ رکھتی ہیں۔ حکومت کے تشدد کا مقابلہ تو ایثار و قربانی سے کیا جا سکتا ہے لیکن جب اپنے ہی بگڑ جائیں تو انہیںکون سنوار سکتا ہے۔     (جاری ہے)