24 ستمبر 2018
تازہ ترین

جھاڑ پونچھ کر نکالا جانے والا نعرہ اور تعلیم جھاڑ پونچھ کر نکالا جانے والا نعرہ اور تعلیم

ایک نعرہ سدا بہار رہا جھاڑ پونچھ کر وہی ہر دور کے الیکشن میں نکالا جاتا رہا، کام آتا رہا ’’چہرے نہیں۔ نظام کو بدلو‘‘ یہ نعرہ ہر دور کے سیاست دانوں کا ’’منظور نظر‘‘ تھا اور ہے۔ جس کا ’’منظور نظر‘‘ نظام نہیں آتا، وہ یہی نعرہ لگاکر پرانے نظام کے تحت انتخابات میں حصہ لیتا ہے۔
زارینہ نے یہ کہہ کر توقف کے بغیر قصہ چھیڑ دیا، جانور طاقت ور ہوتا ہے یا مشین اس سے بھی طاقتور، سوچتا کوئی نہیں جو سوچتا ہے وہی زیادہ طاقتور ہوتا ہے یعنی آدمی۔ یہی وجہ ہے وہ جنگیں لڑتا اور نعرے لگاتا ہے جو سوچتا ہے وہی لڑائی بھی کرتا ہے کیا؟ ہم نے کہا۔ لڑتے تو جانور ہیں جو سوچتا ہے وہ نہیں لڑتا، سوچنے والے کم اور تنہا ہیں۔ یہ نعرہ تعلیم کا حصہ بن بیٹھا کیونکہ سوچنا سکھانے والی تعلیم نہیں ہورہی، اس لیے کوئی تنہا نہیں رہا۔
ہماری تقریر ختم ہوئی تو زارینہ نے ایک اور قصہ چھیڑ دیا، ’’ایک شخص کو مسجد میں جاکر جماعت سے نماز پڑھنے کا شوق ہوا لیکن مسجد سے اس کی چپل چوری ہوگئی، اس نے بلند آواز میں غالباً ابلیس کو ’’سنانے‘‘ کے لیے کہا کہ ’’او شیطان، ابلیس تُو میرا حوصلہ پست نہیں کر سکتا کہ میں مسجد نہ آؤں، وہ متواتر نئی چپل خرید کر مسجد جاتا رہا، وہ بھی چوری ہو گئیں جب تک وسائل نے اجازت دی وہ ’’عام آدمی‘‘ چپلیں خریدتا رہا لیکن کب تک؟ بالآخر اس کے وسائل نے جواب دے دیا، اس نے اپنے گھر آ کر ابلیس سے کہا، میں ہارا تُو جیتا بس اتنا بتا دے کہ میری نئی چپلوں کا کرتا کیا ہے؟ ابلیس نے جواب دیا، میں تیری نئی چپلیں چوک میں رکھ دیتا ہوں، ایک شخص چپکے سے وہ اٹھا کر لے جاتا ہے، دھوتا یا دھلواتا ہے اور بیچ دیتا ہے۔ دھونے دھلانے کے چکر میں گھر والوں کی لڑائی بھی کراتا رہتا ہوں، اب طلاق کا منتظر ہوں، یعنی چپل والے اور اس کی بیوی میں، وہ بھی تیری چپل سے۔ وہ شخص بہت حیران ہوا شیطان کی کارکردگی دیکھ کر۔
ابلیس کا وہ کام جس سے طلاق ہوتی ہے طبقہ ابلیسیہ میں کیوں مقبول ہے اور طبقہ شرفا میں کیوں مردود ہے، اس بارے میں تو اہل علم ہی بتا سکتے ہیں۔ زارینہ نے کہا، ایک حقیر چپل سے شیطان نے کیا کام کیا، اس کا مطلب کہ ہمیں کسی کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے، پیر کی چھوٹی انگلی کو بھی پتا نہیں کب ٹوٹ کر اپنا آپ منوا لے اور ابلیسیت کو ماننا پڑے۔ ویسے زیادہ تر تو ہیں انہیں علم نہیں ہے۔ اور عدم علم سے ’’عدم وجود‘‘ ثابت نہیں۔ جب امریکا دریافت نہیں ہوا تھا جب بھی تھا، وہ تو گوروں نے آج جیسا حشر کیا اس کا وہ نہ جاتے تو وہاں… خیر کاش مگر اور شاید کے سہارے اتنے دن گزر گئے کچھ کیے بنا۔ باقی بھی گزر ہی جائیں گے۔ زارینہ نے کچھ نہ کرنے کا بہانہ فراہم کیا۔
یہ بہانہ وہ فراہم کرتیں یا نہیں ہم بہرحال کچھ کرنے والے نہیں، کیونکہ کچھ کرنے ہی سے کچھ ہوتا ہے جو غلط بھی ہو سکتا ہے۔ بہتر ہے ہم کچھ نہ کریں۔ سوچنا ہی نہیں چاہیے۔ سارا فتور ہی سوچنے کا ہوتا ہے۔ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی۔ سوچنا نہیں ہو گا تو کچھ بھی نہیں ہو گا۔ نو من تیل ہونا ضروری نہیں، ورنہ رادھا کو زحمت اٹھانا پڑے گی۔ ہم خود زحمت کرتے نہ کسی کو زحمت دینے کے قائل ہیں۔
لیکن آپ تو تعلیم سے متعلق اظہار خیال کر رہی تھیں، پھر یہ نعرہ کہاں سے آ گیا؟ ہم نے کہا، تعلیم کے بارے ہی میں سن لیں۔ زارینہ نے حلق صاف کیے بغیر قصہ شروع کیا، ’’ایک صاحب نے بکرا ذبح کیا، ان کے پڑوسی نے ان سے پوچھا، لیکن آپ تو گائے ذبح کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا، اس برس ایک حصہ کم پڑ گیا تھا، یعنی گائے سے گرے بکرے کے سینگوں میں اٹکے۔ انہوں نے بظاہر سکون سے جواب دیا، بیٹا باہر پڑھنے گیا ہے، اس سال اس کی تعلیم کا خرچ زیادہ ہو گیا، اس وجہ سے اس کا حصہ بھی کم پڑ گیا تھا، جب پیسے بھیجے گا تو پھر گائے کر لیں گے۔ یار زندہ صحبت باقی۔ لیکن دس برس بعد بھی وہ صاحب بکرا ہی کاٹ رہے ہیں۔ پہلے وہ صاحب کہتے تھے وہاں تعلیم کے اخراجات بہت ہیں، اب کہتے ہیں گوری کے اخراجات بہت ہیں، بیٹا بھیج ہی نہیں پاتا جو گائے ذبح کریں۔‘‘
باپ بیٹے کی کہانی زارینہ نے ڈبڈبائی آنکھوں سے ختم کی۔ سب کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں، وہاں اعلیٰ تعلیم کے اخراجات بہت ہیں، وہ ہے بھی محدود اور ’’لوکل‘‘ کے بس میں بھی نہیں، یہاں بھی یہی ہونا چاہیے۔ زارینہ مذاق بہت اچھا کر لیتی ہیں۔ جہاں بیک وقت بہت سے نظام تعلیم ہوں، وہاں یہ ممکن ہے؟
ڈوبنے سے کوئی بچائے ہمیں
ہم تضادات کے بھنور میں ہیں