23 ستمبر 2018
تازہ ترین

جنگ ستمبر کے غازیوں اور شہیدوں کو سلام جنگ ستمبر کے غازیوں اور شہیدوں کو سلام

’’ہمیں پاکستان سے پیار ہے۔‘‘ آج کل ہر درودیوار اس نغمے سے گونج رہے ہیں، ایف ایم ریڈیوز  ہوں یا چینلز، سب پر یہی نغمہ چل رہا ہے۔  اس کے علاوہ جنگ ستمبر کے شہدائوں کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ارض پاک کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے والے عظیم  لوگوں کی تصاویر بھی دکھائی جارہی ہیں۔ اس طرح ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے، جو اچھی بات ہے، لائق تحسین اقدام گردانا جانا چاہیے۔
کسی سابق آرمی چیف نے کہا تھا کہ جنگیں اکیلے افواج نہیں جیت سکتیں، اس کے لیے قوم کا اپنی افواج کی پشت پر کھڑا ہونا  لازمی امر ہے، اگر قوم افواج کے شانہ بشانہ  جنگ میں ساتھ نہیں چلے گی تو جیت مشکل ہی نہیں ناممکن بات ہے۔ پاکستان پر اب تک کی مسلط کردہ جنگوں میں ہمارے زندہ دل عوام نے اپنی افواج کا ہر طرح مکمل ساتھ دیا ہے۔ ایک پکار پر پوری قوم افواج کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔ یہ منظر دشمن کے سینے میں نشتر بن کر پیوست ہوتا ہے۔
زندہ قومیں اپنے غازیوں اور شہیدوں کو ناصرف ہمیشہ یاد رکھتی ہیں، بلکہ انہیں اپنا ہیروز قرار دیتی ہیں اور ان کی جدوجہد اور قربانیوں پر فخر و ناز ان کا سرمایہ افتخار ہوتا ہے۔ اور وہ اپنے شہدا کی جانب سے اپنے خون سے روشن کی شمع کو فروزاں رکھتی ہیں۔ جنگ ستمبر مسلط کرکے دشمن کے جرنیلوں نے کہا تھا کہ وہ صبح کا ناشتہ لاہور کے جم خانہ میں کریں گے، لیکن دھرتی ماں کے سپوتوں نے ان کے عزائم اور ناپاک ارادوں کو خاک میں ملادیا اور ہمارے نڈر اور بہادر جوانوں نے دشمن کے طیاروں کو ہوائی اڈوں سے اُڑنے کی مہلت ہی نہ دی اور انہیں وہیں ڈھیر کرکے رکھ دیا۔
میجر عزیز بھٹی شہید ہوں، یا میجر محمد طفیل شہید، محمد محفوظ شہید ہوں یا کیپٹن سرور شہید یا محمد سوار شہید یا محترمہ بے نظیر بھٹو، بشیر بلور، سراج رئیسانی، ہارون بلور سمیت دیگر شہداء نے وطن عزیز کے دفاع کی تاریخ اپنے لہو سے رقم کرکے دشمنان ملک کو بتادیا کہ پاکستان پر تن من دھن سب قربان کرنے کو بچّہ بچّہ تیار و آمادہ ہے۔
میدان جنگ سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک دشمن کو ناکامی سے دوچار ہونا پڑا، سلامتی کونسل کے اجلاس میں اس وقت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیر کے مسئلے کو اس انداز سے پیش کیا کہ دنیا پاکستان کے موقف کو تسلیم کرنے لگی، بھٹو نے تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی طور پر  اقوام عالم پر ثابت کیا کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں، پاکستان کا حصہ ہے۔ گو اقوام متحدہ آج اپنی اہمیت کھوچکی ہے، لیکن پھر بھی اس کے درودیوار پاکستانی وزیر خارجہ بھٹو صاحب کی تقریر کو یاد کرکے لرزاں ہوتے ہیں۔
جنگ صرف میدان میں ہی نہیں لڑی جاتی،  ثقافتی سطح پر بھی دشمن کو شکست دینا ہوتی ہے، ذرائع ابلاغ میں دشمن کے پروپیگنڈا کو بے اثر بنانا بھی جنگ کی حکمت عملی میں شمار ہوتا ہے، اس میدان میں ہمارے فنکاروں، شاعروں اور صداکاروں نے دشمن پر اپنی برتری قائم رکھی ہے۔ ملکۂ ترنم نورجہاں مرحوم نے ’’اے پتر ہٹاں تے نیں وکدے تو لبدی پھریں بازار کڑے‘‘ اور ’’اے  وطن کے سجیلے جوانو!‘‘ ایسے ملی نغمے گاکر پاک فوج کے  بہادر جوانوں کے دلوں میں وہ جذبہ ابھارا کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔ صوفی تبسم مرحوم نے اپنے قلم اور ذہن کو وطن کے لیے وقف کیے رکھا، مہدی حسن سے لے کر عنایت حسین بھٹی مرحوم، مسعو رانا، سمیت تمام دیگر فنکار گھر بار چھوڑ کر ریڈیو پاکستان پر آبیٹھے تھے۔ صوفی تبسم مرحوم اور دیگر شعراء کرام ترانے لکھتے جاتے اور فنکار انہیں صدا بند کرواتے، بلکہ براہ راست بھی گاتے رہے۔
صدر ایوب خان سے لے کر پاک فوج کے سپاہی تک اور سیاست دانوں، سیاسی کارکنان، فنکاروں، شاعروں ادیبوں اور مزدوروں، کسانوں، طلباء اور خواتین نے اپنی بساط کے مطابق دشمن کے خلاف جنگ میں حصہ ڈالا اور اپنا کردار ادا کیا، تب جاکر دشمن کے دانت کھٹے کیے جاسکے تھے۔ ہمیں ان سب کے جذبۂ حب الوطنی اور ایثار کو بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان گزشتہ کئی برس سے حالت جنگ میں ہے۔ یہ جنگ بھی دشمنان پاکستان کی مسلط کردہ اور اُن کی نئی حکمت عملی ہے۔ یہ انہوں نے ہمارے اندر سے غداران وطن کو  تلاش کرکے چھیڑی ہے، جس میں دشمن سامنے  سے نہیں چھپ کر پیچھے سے وار کرتا ہے۔ اس جنگ میں اب تک لاکھوں جانوں کے نذرانے دیے جاچکے ہیں اور اتنی ہی تعداد میں لوگ معذور ہوچکے ہیں۔ اس اَن دیکھی جنگ میں بھی افواج پاکستان اور قوم ایک دوسرے کے شانہ بشانہ لڑرہے ہیں۔ پاکستانی قوم اور افواج پُرعزم ہیں کہ اس میدان میں بھی دشمنانِ وطن کو شکست فاش سے دوچار کرکے چھوڑیں گے۔
ارباب اقتدار اور ہماری ذمے داری ہے کہ دشمن کو عوام میں گمراہی پھیلانے کے مواقع نہ دیں، دشمن کی جانب سے ہماری ثقافت پر جاری حملوں کا تدارک کیا جائے، خصوصاً حساس علاقوں  میں دشمن اور اس کے کارندوں پر کڑی نظری رکھنے کی بھی ضرورت ہے، اگر اپنی ثقافت پر دشمن کی یلغار کو نہ روکا گیا تو  پھر چند ٹکوں کی خاطر ہمارے نوجوان گمراہی کے اندھیروں میں غرق ہوتے اور خودکُش بمبار بنتے رہیں گے۔
جنگ ستمبر کے تمام غازیوں، شہداء اور دہشت گردی کی جنگ میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے وطن عزیز کے دفاع کو مضبوط بنانے والے تمام سیاسی قائدین، کارکنان اور عام شہریوں کو محبت بھرا، خلوص سے لبریز  اہل وطن کا سلام… کیونکہ ’’ہمیں پاکستان سے پیار ہے‘‘  ہمیں اپنے شہداء اور غازیوں پر فخر و ناز ہے۔ 7 ستمبر کو پاکستان کی پارلیمنٹ میں ’’فتنۂ قادیانیت‘‘ پر فتح  کے لیے جنگ لڑنے والے غازیوں، شہداء اور اس جنگ کو فتح سے ہمکنار کرنے والے ذوالفقار علی بھٹو اور اس وقت کی پوری پارلیمنٹ کو بھی عقیدت و محبت بھرا سلام…