17 نومبر 2018

جنوبی سوڈان کاامن معاہدہ خطرہ میں جنوبی سوڈان کاامن معاہدہ خطرہ میں

گزشتہ ماہ جنوبی سوڈان کے صدر سلواکیر اور حزب مخالف کے رہنما راک مشارکے درمیان ہونے والی جنگ بندی کا معاہدہ اب خطرہ میں گھرا نظر آتا ہے کیوں کہ  حزب مخالف کے رہنما راک مشارنے آخری موقع پر اس معاہدہ کے مسودہ پر دستخط کرنے سے انکار کردیا ۔اس معاہدہ میں حکومتی شراکت داری ،تین مہینے کا وقت جس میں دونوں فریق ایک عبوری حکومت تشکیل دیں گے جو تین سال تک کام کرے گی اور اس کے بعد ملک میں عام انتخابات کروائے جائیں گے ۔دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات سوڈان کے دارلحکومت خرطوم میں صدر عمر حسن البشیر کی ثالثی میں ہوئے تھے ۔راک مشار کے اس معاہدہ پردستخط کرنے سے انکار پر ایک دفعہ پھر امن کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے ۔
جنوبی سوڈان کو آج سے پانچ سال قبل آزادی حاصل کرنے کے بعد وہاں کی عوام کے لئے امیدوں کا مرکز ہونا چاہئے تھا لیکن بدقسمتی سے آج وہ خانہ جنگی ،اقتدار کی رسہ کشی اور بھوک سے نڈھال عوام کی تصویر دنیا کے سامنے پیش کررہا ہے ۔پانچ ملین سے زائد عوام کو مختلف صورتوں میں امداد کی ضرورت ہے جب کہ چھ ملین عوام کو ہنگامی بنیادوں پر خوراک کی فراہمی درکار ہے ۔جنوری 2011ء میں ایک ریفرنڈم کے ذریعہ سوڈا ن کی عوام نے جنوبی سوڈان کو ایک آزد ملک بنانے کے حق میں ووٹ دیا تھا جس کے بعد جولائی 2011ء میں سوڈا ن کو باقاعدہ پرامن طریقہ سے آزادی دے دی گئی جس کا شاندار جشن منایا گیا اور وہ اقوام متحدہ کا 193رکن ملک بن گیا لیکن یہ خوشی اس وقت عارضی ثابت ہوئی جب جنوبی سوڈان کی حکم راں جماعت پیپلز لبریشن موومنٹ ،جس کی آزادی کے حوالہ سے شاندار خدمات تھیں وہ دو حصوں میں تقسیم ہوگئی اور اقتدار کے حصول کے لئے یہ دونوں گروپس باہم دست وگریباں ہوگئے ۔دسمبر 2013ء میں اس وقت سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا جب ملک کے صدرسلواکیر نے نائب صدر یاک مشار پر الزام عائد کیا کہ وہ میرے خلاف بغاوت کررہے ہیں جس کے بعد ان دونوں کی حمایتی افواج کے درمیان جنگ چھڑ گئی جو اب تک جاری ہے ۔اس بحران کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس تنازعہ کی ابتداء کے ایک ماہ کے اندر اندر چار لاکھ سے زائد افراد کو اپنے گھر بار کو چھوڑنا پڑا اور انہیں ایمرجنسی میں عارضی طور پر قائم اقوام متحدہ کے پناہ گزین کیمپوں میں منتقل ہونا پڑا ۔جب سے اس بحران کا آغاز ہوا ہے ہر پانچ میں سے ایک شہری بے گھر ہے ۔2500000کے قریب شہریوں کو اس بات پر مجبور کیا گیا ہے کہ وہ اپنے گھروں کو چھوڑ دیں ۔7500000کے قریب شہری اپنی جانوں کی حفاظت کی خاطر پڑوسی ملکوں کی طرف فرار ہوگئے ہیں ۔جنوبی سوڈان کے 70فیصد اسکول اس خانہ جنگی کی وجہ سے بند پڑے ہیں ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جنوبی سوڈا ن کی عوام نے سوڈان سے آزادی حاصل کرنے کی خاطر پچیس سال سے زائد عرصہ تک ایک خون ریز جدوجہد کی لیکن شومئی قسمت آپس کی اختلاف کی بدولت یہ تمام جدوجہد ضائع ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔موجودہ صورت حال یہ ہے کہ ملک کی ایک کروڑ بیس لاکھ آبادی میں سے ایک چوتھائی ملک کے اندر دربدر ہے اوربیس لاکھ پناہ گزینوں کی حیثٰت سے پڑوسی ممالک میں مقیم ہیں ۔
اس خانہ جنگی کو رکوانے کی عالمی سطح پر کئی کوششیں ہوئیں اور حوالہ سے مذاکرات کے طویل دور ہوتے رہے لیکن اب تک وہ زیادہ بار آور ثابت نہیں ہوسکے اس حوالہ سے سب سے پہلی سنجیدہ کوشش گزشتہ سال اگست میں ہوئی جب فریقین نے سیز فائر کرتے ہوئے ایک امن معاہدہ پر دستخط کئے لیکن یہ معاہدہ کچھ ہی دن میں ختم ہوگیا اور جانبین سے ایک دوسرے پر اس معاہدہ کو توڑنے کا الزام لگایا گیا ۔گزشتہ سال کے شروع میں اقوام متحدہ نے دھمکی دی تھی کہ اگر فریقین جنگ بندی پر آمادہ نہیں ہوتے تو صدر سلواکیر اور نائب صدر یارک مشار پر بین الاقوامی پابندیاں عائد کردی جائیں گی اقوام متحدہ کی یہ دھمکی کارگر ثابت ہوئی اور متحارب گروہوں نے مارچ کے مہینہ میں ایک معاہدہ کے تحت مشترکہ حکومت تشکیل دی جس کے تحت یارک مشار کو دوبارہ دارلحکومت جوبا آنے کی اجازت کے ساتھ ساتھ نائب صدر کا عہدہ بھی دے دیا گیا ۔سلامتی کونسل نے جنوبی سوڈان کے متحارب گروہوں پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کے حوالہ سے گزشتہ برس ہونے والے امن معاہدہ پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں سلامتی کونسل نے صدر اور نائب صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی اپنی فورسز کو کنٹرول کرنے اور لڑائی کو فوری طور پر بند کروانے کی کوششیں بھی کریں ۔سلامتی کونسل نے اپنے بیان میں تنازع کے فریقین کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ شہریوں اور اقوام متحدہ کے اہل کاروں اور ان کی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے باز رہیں کیوں کہ یہ تمام اقدامات جنگی جرائم کے زمرہ میں آتے ہیں جس کا ارتکاب کرنے والوں کا احتساب اور ان پر پابندیاں عائد ہوں گیاس کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ نے متحارب گروہوں کو اسلحہ کی ترسیل سمیت دیگر پابندیاں عائد کردیں اور ا س کے بقول اس کی زد میں وہ تمام سیاسی اور عسکری ذمہ دار آئیں گے جو قیام امن کی راہ میں رکاوٹ بنیں گے،لیکن بدقسمتی سے ان تمام اقدامات کے باوجود فریقین کسی معاہدہ پر رضامند نہ ہوسکے۔
 (تلخیص وترجمہ:محمد احمد۔۔۔بشکریہ:الجزیرہ)