25 مئی 2019
تازہ ترین

جمہوریہ ترکی اور مسئلہ خلافت جمہوریہ ترکی اور مسئلہ خلافت

(12 دسمبر 1923ء کی تحریر)
وفدِ خلافت بھیجنے کی تجویز
لیکن جس حالت میں ترک اپنی دنیاوی طاقت کو خلافت اسلامیہ سے الگ کر چکے اور آج ترکی میں حضرت خلیفتہ المسلمین کی ذات بابرکات کو کوئی دنیاوی قوت و طاقت میسر بلکہ ترک یہ چاہتے ہیں کہ ساری دنیائے اسلام اپنے خلیفہ کو قوت و طاقت بہم پہنچائے جس میں بحصہ رسدی ترک بھی شامل ہوں تو پھر کسی ترک کا یہ کہنا کہ باقی دنیائے اسلام کو انتخاب خلیفہ میں رائے دینے کا حق حاصل نہیں ایک بے معنی بات ہے۔ جب خلیفہ ساری دنیائے اسلام کا دینی و دنیاوی حاکم ہو گا اور اس کی قوت و طاقت ساری دنیائے اسلام سے ماخوذ ہوگی تو پھر کسی ایک قوم کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ خودمختاری اور مطلق العنانی سے کام لے کر خلیفہ خود بخود منتخب کر لے اور دیگر ممالک اسلام کی مرضی کو پس پشت ڈال دے۔
اس قسم کی غلط فہمیوں، غلط بیانیوں اور لغو پروپاغندا کا سدباب جہاں تک جلد ہو سکے بہتر ہے اور اس کا طریقہ یہی ہے کہ ’’موتمر عالم اسلامی‘‘ کی تجویز کو جامہ عمل پہنایا جائے اور دنیائے اسلام کے ممالک کے نمایندوں کا اجتماع ہو جس میں حضرت خلیفتہ المسلمین کے انتخاب کا نظام مرتب کیا جائے اور آپ کے اختیارات و اقتدارات اور حقوق و فرایض کا ایک خاکہ مرتب کر کے ساری دنیائے اسلام کے سامنے پیش کر دیا جائے تاکہ خلافت اس بے دست و پا کمزوری میں نہ رے جس میں آج ہے اور مخالفین کو کسی قسم کے اعتراض کا موقعہ ہاتھ نہ آئے۔
مسئلہ خلافت کے متعلق جمہوریہ ترکی کے ارکان اورمدبرین انگورہ کا نقطہ نگاہ معلوم کرنے کا یہ طریقہ نہیںکہ رائٹرؔ کے تاروں پر حصر کر لیا جائے بلکہ صحیح راستہ یہ ہے کہ ہندوستان سے چند نہایت معزز رہنمایان و علمائے اسلام کا ایک وفد ترکی میں جائے اور ان لوگوں سے گفت و شنید کرنے کے بعد صحیح حالات سے اپنے اہل ملک کو مطلع کرے تاکہ مسلمان ایک رائے قایم کر سکیں۔ اگر ترک تنہا اس امر کا ذمہ لیں کہ وہ خلافت اسلامیہ کے تمام مقاصد کی تکمیل کریں گے، حضرت خلیفتہ المسلمین کے حکم سے جزیرۃ العرب کو کفار کے اثر سے پاک کرنے کیلئے اپنی ساری قوت صرف کر دیں گے اور خلافت کی دنیاوی طاقت کو صحیح بنیادوں پرتعمیر کریں گے تو دنیائے اسلام اس امر پر آمادہ ہو جائے گی کہ اتفاق رائے سے جمہوریہ ترکی کو اس معاملہ میں مختار کل بنا دے اور اس کے ساختہ پرداختہ کو ہمیشہ منظور کرے۔ لیکن اگر تمام اغراض و مقاصد خلافت کا بار ساری دنیائے اسلام پر ڈالنا منظور ہے اور خلیفتہ المسلمین کی دنیاوی طاقت اور مذہبی اقتدار کے قیام میںتمام مسلمانان عالم کی شرکت ضروری ہے اور یقینا ضروری ہے تو پھر انتخابِ خلافت اور مجلس شوریٰ خلافت میں ساری دنیائے اسلام سے استصواب کرنا لازمی و لابدی ہے اور اس میںترک بھی شامل ہوں گے۔
مجلس عالیہ مرکزیہ خلافت نے ایک وفد قسطنطنیہ، انگورہ و فلسطین بھیجنے کی تجویز کی ہے اور اس کو عمل میں لانے کیلئے پروانہ ہائے راہداری کے حصول کی درخواست بھی حکومت کو بھیج دی گئی ہے۔ موجودہ پیچیدگیوں کو سلجھانے کا اس سے بہتر اور کوئی طریق نہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ خلافت کے متعلق ترکوں کا عندیہ کیا ہے اور جزیرۃ العرب کے متعلق وہ تنہا کوئی کارروائی کرنا چاہتے ہیں یا دوسرے ممالک اسلامی کی فوجوں کو بھی اس مقصد کے حصول میں اپنے ساتھ شامل کرنے کی ضرورت سمجھتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصیت کو پورا کرنے کی کوشش ہر مسلمان پر فرض ہے اور اس میں ترک و عرب، افغان و ہندی کی کوئی تمیز نہیں لیکن جب تک دنیا کی سب سے بڑی اسلامی جمہوریت کا منشا اس بارہ میں معلوم نہ ہو مسلمان کوئی قطعی فیصلہ نہیں کر سکتے۔
ہمیں ترکانِ مجاہد کی غیرت دینی اور حمیت اسلامی سے پوری پوری توقع ہے کہ وہ اپنے داخلی امور سے جلد فارغ ہو کر جزیرۃ العرب کو کفار کے اثر سے پاک و آزاد کرانے کا کام شروع کر دیں گے۔ ہر ایک مسلمان کی جان اس کا مال اور اس کا دل مجاہدین کے ساتھ ہے۔ مسلمان ایسے گئے گزرے نہیں ہیں کہ ترکان غیور تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصیت کے لئے جانیں دینے پر آمادہ ہو جائیں اور باقی ملت اسلامیہ خاموش دیکھا کرے۔ انشاء اللہ ہر ایک مسلمان ان کی امداد و اعانت کیلئے دل و جان سے آمادہ ہو گا۔
ہمیں امید ہے کہ حکومت ان حالات کے سلجھنے میں حائل نہ ہوگی اور وفدِ خلافت کو پروانہ ہائے راہداری دے کر رہنمایان اسلام کی روانگی میں سہولت بہم پہنچائے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
افغانستان اور سکھ
زمیندارؔ کی اشاعت مورخہ  6دسمبر میں ایک پیغام شایع ہوا تھا جس میں افغانستان سے آنے والے مسافروں کے بیان کا حوالہ دے کر بتایا گیا ہے کہ کابل کے سکھوں نے گردواروں کی اصلاح کیلئے جو تحریک شروع کی تھی وہ حکومت افغانستان نے بند کر دی۔ یہ بیان بالکل غلط ہے اور جہاں تک ہمیں حالات کی اصلیت معلوم ہے اس خبر کی کوئی بنیاد نہیں۔ افغانستان کے جواں بخت و روشن ضمیر بادشاہ کے عہد میں سب قوموں کو مذہباً پوری پوری آزادی نصیب ہے اور ہنود پر جو بعض معمولی پابندیاں افغانستان کے شاہانِ سلف نے عاید کر رکھی تھیں وہ بھی اس بادشاہ نے اپنی مرحمتِ خسروانہ سے دور کر رکھی ہیں۔ اس کے متعلق اس قسم کی بے بنیاد افواہیں پھیلانا حکومت کے شعبہ نشر و اشاعت کی افتراق انگیز حکمت عملی کا ایک روشن ثبوت ہے۔
قارئین کرام کو یاد ہوگا ابھی چند ہی روز گزرے کابل میں نہایت معزز ہندوستانیوں اور افغانیوں کا ایک عظیم الشان جلسہ مہاراجہ نابھہ کی معزلی پر احتجاج اور سکھوں سے اظہار ہمدردی کرنے کیلئے منعقد ہوا تھا اور اس میں ایسے ایسے حضرات بھی شامل ہوئے تھے جن کو اعلیٰ حضرت شہریار غازی افغانستان کی خدمت میں تقرب و مصاحبت کا شرف حاصل ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ غیور و جسور افغانوں کو اور ان کے بادشاہ کو غیور و باحمیت اکالیوں سے بے انتہا ہمدردی ہے۔    (جاری ہے)