20 نومبر 2018
تازہ ترین

جمہوریت کے علمبردار یا دشمن جمہوریت کے علمبردار یا دشمن

مملکت خداداد پاکستان میں عجیب قسم کی روایتیں پڑگئی ہیں، میری اور پاکستان کی عمر برابر ہی ہے اور ایک صحافی ہونے کے ناتے  مجھے حالاتِ حاضرہ پر گہری نظر رکھنا پڑتی ہے، پیشے کی حرمت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ سچ بولنا پڑتا ورنہ ضمیر ملامت کرتا رہتا ہے۔ صحافت نام ہی الفاظ کی حرمت کی پاسداری کا ہے، قوم کو ملکی مفادات اور خطرات سے آگاہ رکھنا، لیکن کچھ مجبوریاں ایسی آپڑتی ہیں کہ خاموشی ہی بہتر ہے۔ یہ معزز پیشہ بھی نظر بد سے نہیں بچ سکا۔ لفافہ جرنلزم کا لفظ اب عام لوگوں کی زبان پر ہوتا ہے، پیسے کی خاطرلوگ ضمیر بیچ دیتے ہیں، ذہن کیسے گوارا کرتا ہے؟ یہ سوال میں الفاظ کی حرمت کو بیچنے والوں سے تو نہیں کرسکتا لیکن دل ہی دل میں کڑھتا رہتا ہوں کہ آخر ایسا کیوں ہے۔ 
 بڑی سوچ بچار کے بعد سوچا چلو اس ہفتے اپنے کالم میںکچھ نہ کچھ کہہ ہی ڈالوں۔ صحافت اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے، دونوں ایک دوسرے کی ضرورت ہیں، لیکن ایک صحافی کو عوام الناس کی فلاح و خیر کی خاطر قلم اٹھانا پڑجاتا ہے، ورنہ ایک کسک رہتی ہے کہ آخر جو کچھ سیاست میں ہورہا ہے، اسے کب تک پردہ سیمیں سے چھپایا جاسکے گا۔ 
جمہوریت کا اس ملک میں بڑی شدومد سے نعرہ لگایا جاتا ہے، ایک سے بڑھ کر ایک شیطان جمہوریت کا لبادہ اوڑھے بے ایمانی پر تلا ہوا نظر آتا ہے، عمران نے بدعنوانیوں کے خلاف نعرہ کیا بلند کیا، سب ان کے پیچھے پڑ گئے، کیا نواز شریف، کیا شہباز شریف، کیا حمزہ، کیا مریم، یہ تو قدآور شخصیات ہیں، چھوٹے موٹے لوگ دانیال، طلال چوہدری، مریم اورنگزیب اور کسی حد تک سابق گورنر سندھ محمد زبیر تک، عمران کے خلاف زہر اُگلنے کو فرض اوّلین سمجھ کر روز ہی سپریم کورٹ کے باہر یا پھر وزیر اطلاعات کے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں، تماشا کہیں یا دربار لگانا، بہرحال کچھ نہ کچھ تو ہوتا ہی تھا۔ 
انتخابات ہوئے، بڑے بڑوں کی نیّا ڈوب گئی، رُسوا ہوگئے، کئی لوگوں کی تو ضمانت تک ضبط ہوگئی، مولانا فضل الرحمان نے 32 سال کی سیاست میں پہلی مرتبہ شکست کا مزا چکھا، ظاہر ہے سر پر بدلے کا بھوت سوار تھا، لمبی چوڑی تقریر کرڈالی، لیکن جسے پہلے برا کہتے 
رہے اس کی طرف ووٹ لینے کے لیے حاضر ہوگئے، کاش کچھ لحاظ کرتے ہوئے سیاست کو خیرباد کہہ دیتے، ہم بھی کہتے کہ اصولوں کی خاطر قربانی دے دی، موضوع سے تھوڑا ہٹ کر ایک بات کہتا چلوں کہ سازشیں ہر ملک ہر معاشرے میں جنم لیتی اور پرورش پاتی رہتی ہیں، لیکن پاکستان میں یہ کسی خوبصورت بلا کی شکل اختیار کرگئی ہیں، عمران کو الیکشن سے پہلے یا اس کے فوری بعد قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ یہ بات عمران نے شاید ایک بھارتی خاتون سیمی گریوال سے ایک انٹرویو کے دوران کہی تھی، جس نے الیکشن کے فوراًبعد ایک ٹوئٹ کے ذریعے یہ بات دنیا تک پہنچادی۔ عمران نے خود بھی اس کی تصدیق کی لیکن گھبرائیے نہیں، عمران نے شاہانہ زندگی کو چھوڑ کر کفایت شعاری کو اپنانے کی کوشش شروع کی تو مخالفین صف آراء ہوگئے، سینیٹ میں مشاہد اللہ اور ایک دو لوگوں نے واک آئوٹ شروع کردیا۔ بھول گئے کہ ان کے اپنے وزیراعظم نواز شریف شاید سینیٹ یا اسمبلی میں پانچ یا چھ مرتبہ سے زیادہ نہیں گئے ہوں گے، عمران نے شروع میں ہی سینیٹ میں آکر ہالینڈ میں حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی مذموم حرکت پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور اسلامک کانفرنس میں یہ سوال اٹھانے کا اعلان کیا۔ وزیر خارجہ نے ہالینڈ کے ہم منصب سے ٹیلی فون پر بات کی، جواب تو خیر کیا ملنا تھا، سوائے اس کے جناب 
ہمارے ملک میں قوانین ہی ایسے ہیں کہ ہم کسی کو کچھ کہنے سے روک نہیں سکتے، لیکن عمران نے تو اپنا فرض ادا کردیا، مزید بھی کچھ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ مسلم امہ کو پیش آنے والے مسائل کے حوالے سے متحدہ محاذ بنایا جاسکے، چلیں ہم یہ بھی بھول جاتے ہیں، لیکن سینیٹ میں یہ سوال کیوں نہیں کیا گیا کہ سابق وزیراعظم نے سرکاری ہیلی کاپٹر پر کتنا خرچہ کیا، ان کے بیٹے حسن اور حسین اور خود مریم کتنی مرتبہ ذاتی مقاصد کے لیے یہ ہیلی کاپٹر استعمال کرتے رہے، وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے یہ بھی ایوان بالا کو بتایا کہ وزیراعظم ہائوس میں مریم نواز کی زیر نگرانی ایک میڈیا سیل عرصہ دراز تک کام کرتا رہا، جس کے پاس سرکاری خزانے کی خطیر رقم اور بھی بہت کچھ اخراجات ہوتے تھے، 15ارب روپے کے اخراجات میڈیا کو مریم کے کہنے پر دیے گئے۔ پرنٹ میڈیا کو 10ارب اور الیکٹرانک میڈیا کو 5ارب کے فوائد پہنچائے گئے، اس پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے تحقیقات کروانے کو کہا، تنقید برائے تنقید کو تنقید برائے اصلاح پر ترجیح دی گئی، یہ کون سا انصاف ہے، کون سی جمہوریت کی خدمت ہے۔ 
عمران کے خلاف جہاں اور بہت سے الزامات لگ رہے ہیں، وہیں یہ بھی کہا گیا کہ انہوں نے بابا فرید گنج شکرؒ کے مزار پر اہلیہ کے ساتھ چوکھٹ پر سجدہ کیا، آپ غور سے اس تصویر کو دیکھیں تو معلوم ہوجائے گا کہ عمران خان نے سجدہ نہیں کیا، محض احتراماً بزرگ کے مزار پر سر جھکا کر احترام کا نذرانہ پیش کیا۔ سجدہ صرف اللہ کو کیا جاتا ہے، کسی اور کو نہیں، لیکن سازشی عناصر عمران کی حکومت کو تہہ وبالا کرنے پر تلے نظر آتے ہیں، کیا یہی جمہوریت ہے، ایسا کرنے والے جمہوریت نواز یا جمہوریت کے دشمن کہلائیں گے، لوگ خود ہی فیصلہ کرلیں۔
بقیہ: حد نظر