21 ستمبر 2018
تازہ ترین

جمہوریت کی رسوائی کا ذمہ دار کون جمہوریت کی رسوائی کا ذمہ دار کون

۔تنویر احمد عدالت عظمیٰ سے نواز شریف کی نا اہلی کے فیصلے میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے لئے سبق سیکھنے کے بہت سارے سبق پنہاں ہیں تاہم ان سے سیکھنے کے لئے یہ سیاسی جماعت اب اس وقت سیکھنے کے موڈ میں نظر آتی ہے اور نہ ہی مستقبل قریب میں کوئی ایسے آثارو قرائن اس کی صفوں میں نظر آتے ہیں۔نواز شریف کی نا اہلی کے بعد جب نواز لیگ کی صفوں میں غصے و اشتعال کی کیفیت نمودار ہوئی تو اس کا ایک لازمی نتیجہ احتجاج کی صورت میں نکلنا چاہئے تھا کہ ملک بھر میں بقول اس جماعت کے رہنمائوں کے پاکستان مسلم لیگ نواز اپنا وجود رکھتی ہے تاہم جی ٹی روڈ سے متصل چند شہروں میں محدود پیمانے پر برپا ہونے والے احتجاج کے علاوہ جنوبی پنجاب، سندھ، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں مکمل خاموشی کا راج رہا۔نااہلی کے بعد ان خطوں میں کسی نوع کے احتجاج کی عدم موجودگی اس بات کا حقیقی ثبوت فراہم کرتی ہے کہ نواز لیگ عملاً وسطی پنجاب کی ایک سیاسی جماعت ہے جس کے ساتھ بقول اس کے نا انصافی پر ملک گیر سطح پر کسی اضطراب اور احتجاج کے آثار کہیں نظر نہیں آئے۔نواز لیگی قیادت نے پنجاب کے ایک مخصوص حصے پر اپنا سار ا زور سیاست صرف کر کے پارلیمانی عددی اکثریت تو حاصل کر لی لیکن عملی طور پر اپنے آپ کو پورے ملک کے عوام کی نمائندہ جماعت نہ بنا سکی۔ نواز لیگی قیادت ترکی کی قیادت سے بہت متاثر نظر آتی ہے ۔ گزشتہ برس جولائی میں ہونے والی فوجی بغاوت کے بعد جس طرح عوام نے شدید رد عمل کا اظہار کر کے اس بغاوت کو ناکام بنایا تھااس کا عشر عشیر بھی نواز شریف سے یک جہتی کی صورت میں سڑکوں پر نکلتا تو میاں صاحب اور ان کی جماعت کی کچھ ساکھ بھی نظر آتی۔خد انخواستہ یہاں ترکی کی فوجی بغاوت کو پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے فیصلے سے مماثل قرار دینا قطعی طور پر مقصود نہیں ہے لیکن جس طرح نواز لیگ نے فیصلے کو قبول سے انکار کیا ہے اس کے بعد ہونا تو یہی چاہئے تھا کہ نواز لیگ کے ہمدرد اور کارکنان سڑکوں پر سراپا احتجاج نہیں تو کم از کم یک جہتی کے لئے باہر نکل آتے۔اس عدالتی فیصلے کے بعد نواز لیگ کو اس خوش فہمی کے سراب کے پیچھے بھاگنا چھوڑ دینا چاہئے کہ وہ ملک گیر سطح پر عوا م کے اندر اپنی جڑیں رکھتی ہے۔اب عدالتی فیصلے کے بعد اسے از سر نو اپنے طرز سیاست پر نگاہ دوڑانی چاہئے کہ وسطی پنجاب سے نکل کر اسے ملک گیر سطح پر اپنے آپ کو منظم کرنا چاہئے لیکن یہ بھی شاید ہماری خام خیالی رہے کیونکہ سیاسی جماعت کو خاندان کی ملکیت سمجھنے والوں سے یہ بھاری پتھر اٹھانے کی امید لگانا عبث ہوگا۔ نواز شریف کی بطور وزیر اعظم نا اہلی کے بعد ایک سیاسی جماعت کے صفوں میں سے کسی شخص کو ہی اس قابل سمجھا جاتا کہ وہ آگے بڑھ کر اس منصب کو سنبھا ل لے لیکن یہاں قطعی طور پر اس کے بر عکس ہوا۔ ایک صوبے کی وزارت اعلیٰ پر متمکن ان کے برادر خورد شبہاز شریف کے نام یہ قرعہ فال نکلتا ہے کہ اب وزارت عظمیٰ کا جھومر ان کے ماتھے پر چمکے گا۔یہ خاندانی سیاست کا بدترین مظاہر ہ ہے جو ناصرف نواز لیگ کے ٹکٹ پر منتخب ہو نے والے ڈیڑھ سو سے زائد اراکین قومی اسمبلی کے منہ پر زناٹے دار تھپٹر ہے بلکہ اس ملک کی اجتماعی دانش پر بھی کار ی وار ہے کہ ایک خاندان ہر صورت میں اعلیٰ عہدوں کو اپنے خاندان کے افراد کے لئے ہی مخصوص سمجھتا ہے۔یہ جمہوریت کا اعلیٰ شاہکار ہے یا خاندانی حکمرانی کا بد ترین مظاہرہ۔ یہ گلہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں کچھ طاقتیں پس پردہ جمہوری حکومتوں کے خلاف سازشوں کے تانے بانے بنتی رہتی ہیں اور منتخب وزیر اعظم کو ایک کمزور عدالتی فیصلے کے ذریعے نااہل کروا کر جمہوریت کو کمزور کر رہی ہیں۔ ان پس پردہ قوتوں نے اگر جمہوریت کو کمزور کرنے کے لئے یہ کام کیا ہے تو جناب والا! آپ جمہوریت کی مضبوطی اور پائیداری کے لئے کون کارنامہ انجام دے رہے ہیں۔ عدالتی فیصلے میں نواز شریف کے ساتھ ان کی بیٹی مریم نواز کے خلاف بھی ریفرنس نیب میں بجھوانے کے احکامات شامل ہیں وگرنہ سب سے پہلی نگاہ الفت اپنی صاحبزادی کو وزارت عظمیٰ پر فائز کرنے کیلئے اٹھتی۔ اب ان کا سیاسی مستقبل بھی عدالتی فیصلے نے تقریباً تاریک کر دیا ہے تو صوبے سے اپنے بھائی کو اٹھا کر وزارت عظمیٰ کی گدی پر بٹھانے کا شاہی فرمان آپ نے جاری کر دیا۔ایک عبوری دور کے لئے اپنے ایک وفادار کو وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز کر کے اپنے بھائی کو مستقل وزیر اعظم بنانے کے لئے یہ شاہی فرمان کون سی جمہوریت کے زمرے میں آتا ہے۔نواز لیگ کے موجودہ اراکین اسمبلی میں سے کیوں کوئی مستقل وزیر اعظم کا اہل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ کیسی جمہوریت کی آپ دہائیاں دیتے پھرتے ہیں جس میں خاندان کے علاوہ کوئی نظروں میں جچتا ہی نہیں۔اب ایسی جمہوریت پر آپ واری صدقے ہوں تو ہوں کوئی اور ذی شعور اور ذی حس اس پر قربان ہونے کو تیار نہیں ہوگا۔تین عشروں کے بعد بھی اگر نواز لیگ ایک سیاسی جماعت کی بجائے شخصیت پرستی کا ایک ٹولہ ہے تو پھر جمہوریت کیونکر پنپ سکتی ہے۔نواز لیگ کے ان رہنمائوں اور کارکنان کے لئے بھی اس میں خفت اور شرمساری کا سامان ہے کہ ان کی قیادت اپنے خاندان کے علاوہ کبھی بھی کسی کو اس اہل نہیں سمجھتی کہ وہ جماعت یا حکومت کے سب سے اعلیٰ منصب اپنے کسی رہنما یا پارٹی کارکن کو سونپ دیں۔یہ وعن اور علمیت کے دریا بہانے والے سوٹڈ بوٹد پارٹی رہنما ہوں یا سڑکوں پر نکلنے والے سیاسی کارکنان وہ فقط ان کی خاندانی جمہوریت کی حفاظت پر معمور مہرے ہیں جنہیں استعمال کرنے کا گر یہ خاندان بخوبی جانتا ہے۔نواز لیگ ایک خاندان کے حق حکمرانی کو محفوظ بنا نے کے لئے تگ و دو کرنے والا ایک ٹولہ ہے جو سیاسی جماعت کی تعریف پر کسی صورت پوری نہیں اترتی او ر نہ ہی ملک گیر سطح پر جڑیں رکھنے والی کوئی سیاسی جماعت جو وفاق پاکستان کی نمائندہ جماعت کہلانے کی حق دار کہلائی جا سکتی ہو۔عدالتی فیصلے نے نواز لیگ کے ان پہلوئوں کو آشکار کر دیا ہے کہ ملگ گیر سطح پر کسی اضطراب کی کیفیت نے جنم نہیں لیا اور میاں نواز شریف کے بعد خاندان کے ایک اور فرد شہباز شریف وزارت عظمیٰ کے حق دار ٹھہرے۔ اب ایسی جمہوریت کی رسوائی کا گلہ غیروں سے کرنے کی بجائے اپنے آپ سے کرنا زیادہ بر محل ٹھہرتا ہے۔