14 نومبر 2018
تازہ ترین

جمعیۃ الاقوام اور اطالیہ جمعیۃ الاقوام اور اطالیہ

(13 ستمبر1923 ء کی تحریر ) 
اطالیہ و یونان کے جھگڑے میں یونان نے جمعیۃ الاقوام سے دست اندازی کی استدعا کی اور جمعیۃ الاقوام نے اطالیہ کو ڈانٹنا شروع کیا لیکن اطالوی کوئی ترک و عرب و مصری تو نہیں تھے کہ جمعیۃ الاقوام کے ہوے سے ڈر جاتے۔ میسولینی نے کہاکہ ہم جمعیۃ الاقوام کو کچھ نہیں سمجھتے یہ ہمارے ذاتی معاملات ہیں ان میں جمعیۃ کا کیا دخل ہے؟ اگر جمعیۃ نے اطالیہ کے خلاف ایک لفظ بھی کہا تو ہم جمعیۃ سے الگ ہو جائیں گے۔ جمعیۃ اقوامِ عالم اپنے علو مرتبت اور عظمت و ہیبت کے باوجود اس نعرہ مستانہ پر دم بخود رہ گئی اور اب اس فکر میں مصروف ہے کہ کسی طرح اپنے رعب و اقتدار کی حفاظت کرے۔
 چاہئے تو یہ تھاکہ جب وزیراعظم اطالیہ نے جمعیۃ کے اقتدار سے اس قدر شدید بغاوت کی تھی تو جمعیۃ الاقوام کے تمام ارکان اپنی اپنی حکومتوں کے لشکر مجتمع کر کے اطالیہ کا سر توڑ دیتے تاکہ آیندہ کسی طاقت کو جمعیۃ کے خلاف گستاخی کرنے کی جرات نہ ہوتی لیکن ’’تقسیمِ قبور‘‘ کی اس انجمن میں جو ’’کفن چور‘‘ شامل ہیں ان میں تو خود اطالیہ بھی شریک ہے اور وہ جمعیۃ کی حقیقت کو خوب جانتا ہے۔ گیدڑ بھبکیاں تو وہی سہ سکتا ہے جس کو حقیقت حال معلوم نہ ہو۔ یہ ضروری نہیں کہ جس جمعیۃ کے حکم سے حکومتِ برطانیہ عراق و فلسطین کو ہضم کر جائے وہ جمعیۃ اطالیہ پر بھی رعب جما سکے۔ قبریں تقسیم کرنا یا کفن چرانا اور چیز ہے او رزندہ انسانوں سے مقابلہ دیگر شے ہے۔ روس جمعیۃ میں شریک نہیں ہوتا، جرمنی کو جمعیۃ والے شریک نہیں کرتے، ترکی پہلے ہی سے بدظن ہے، اطالیہ اب ڈانٹ ڈپٹ رہا ہے، یونان اپنے حمایتی کے ضعف سے یوں بدظن ہو گیا ہو گا۔ جمعیۃ الاقوام تو صرف انگلستان و فرانس کی ایک انجمن ہے۔ ہم تجویز کرتے ہیں کہ اس کا نام بدل دیا جائے او رآیندہ اسے ’’جمعیت اتحادِ انگلستان و فرانس‘‘ کہاجائے۔ کاش یورپ کی طاقتیں اب بھی جمعیۃ الاقوام کو توڑ دیں اور انسانوں کی طرح دنیا میں رہیں۔ آخر اس مسخرے پن سے کیا فایدہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسلمان وکلا کی ضرورت
سہارنپور میں مسلمان دھڑا دھڑ گرفتار ہو رہے ہیں اور ان پر مقدمے قایم کئے جا رہے ہیں۔ ہندوئوں کے اکابرِ ملت اور وکلاء آغاز کار ہی سے برابر وہاں پہنچ رہے ہیں لیکن مسلمانوں کی بے حسی کا عجیب عالم ہے۔ صرف میرٹھ سے جناب سید محمد حسین صاحب بیرسٹر سہارنپور پہنچ گئے ہیں اور حتیٰ الوسع بہت کوشش سے کام کر رہے ہیں۔ جو مسلمان وکلا اور بیرسٹر موالات میں مصروف ہیں اور ہمیشہ یہ کہاکرتے ہیں کہ ہمارا تارکینِ موالات سے اصولی اختلاف ہے ورنہ یوں ہم قوم کی ہر خدمت کیلئے آماہ ہیں انہیں چاہئے کہ اس موقع پر اپنی حمیت قومی اور غیرت اسلامی کا ثبوت دیں۔ سہارنپور اور دیگر مقاماتِ فسادات پر پہنچیں اور مسلمانوں کے مقدمات کی پیروی کریں۔ دیکھیں کون کون سے مرد میدان نکلتے ہیں اور خدمتِ اسلامی کا حق ادا کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فساداتِ ہندو و مسلم
زمیندارؔ کے رویہ میں تغیر
(14 ستمبر1923 ء کی تحریر ) 
آگرہ اور پانی پت میں ہندوئوں اور مسلمانوں کے فسادات پر ہم نے جو مضامین سپرد قلم کئے ان پر بعض ہندو اخبارات بہت چراغ پا ہوئے ہیں۔ وہ لکھ رہے ہیں کہ زمیندارؔ کا رویہ اس قسم کے فسادات سے بالکل متغیر ہو گیا ہے اور اب وہ ہندوئوں کیخلاف تیز مضامین شایع کر رہا ہے۔ شاید پرتاپؔ اور بندے ماترمؔ اور ان کے دوسرے برادران طریقت یہ چاہتے ہیں کہ وہ خود تو خوفناک اور افتراق انگیز عنوانات و مقالات سے روز بروز ہندوئوں کے دلوں کو مسلمانوں کی طرف سے مسموم کرتے رہیں لیکن مسلمان جراید اس معاملے میں قطعاً خاموش رہیں حالانکہ جب جماعتی اور فرقہ وارانہ مفاد و مقاصد کا مسئلہ پیش نظر ہو تو اس قسم کی عاشقانہ تفویض و تسلیم بہت دشوار ہو جایا کرتی ہے۔ ہمارے پاس ہمارے معتبر نامہ نگاروں کی جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان سے ہم نہایت ایمانداری کے ساتھ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ تقریباً ہر مقام پر زیادتی ہنود کی طرف سے ہوئی اور مسلمانوں نے اگر کوئی حرکتِ مذبوجی کی بھی ہے تو محض اپنی حفاظت و مدافعت کیلئے کی ہے۔ فسادات کے فرو ہونے کے بعد جو اثرات مرتب ہوئے وہ یہ ہیں کہ ہنود نے ہر طرح کے اثر و نفوذ کو کام میں لاکر عمال حکومت کے ہاتھوں زیادہ مسلمانوں کو گرفتار کرایا ہے۔ غرض فسادات میں مسلمان ہر طرح سے کمزور اور بے دست و پا رہے۔ انہی نے مار بھی کھائی، انہی نے اپنے سر و گردن پر اینٹیں اور لاٹھیاں کھائیں اور وہی زیادہ ماخوذ و محبوس بھی ہوئے۔
ہمیں اس دعوے کی ضرورت نہیں ساری دنیا جانتی ہے کہ زمیندارؔ کا رویہ موجودہ افتراقِ ہندو و مسلم کے آغاز و کمال کے وقت نہایت معقول و سنجیدہ رہا۔ یہاں تک کہ ہمارے شدید مخالفین نے بھی اس بارے میں ہماری تعریف کی اور عام مسلمانوں نے ہندوئوں کے جراید اور زمیندارؔ کے لہجے میں بے انتہا فرق و تفاوت کو محسوس کر کے یہاں تک کہہ دیا کہ اب زمیندارؔ مسلمانوں کی ترجمانی کا حق ادا نہیں کرتا بلکہ صرف ہندو و مسلم اتحاد ہی کا حامی و علمبردار ہے خواہ مسلمانوں کے مفاد کو نقصان ہی پہنچے۔   (جاری ہے)