21 اگست 2019
تازہ ترین

جرم ہے تو یہ جرم ہوتا رہے گا جرم ہے تو یہ جرم ہوتا رہے گا

نیب متحرک اور بڑے بڑے ناموں پر ہاتھ ڈال رہا ہے۔ اس سے قبل اس پر طرح طرح کے بھونڈے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں، موجودہ دور میں نیب کا کردار بڑا ’’مثبت‘‘ نظر آرہا ہے۔ پرویز مشرف دور کے بعد اٹھارویں ترمیم کرنے والی کلیدی جماعتوں نے نیب کے قوانین میں سقم نہیں دیکھا اور نہ ہی نیب کے حالیہ کردار کے حوالے سے انہوں نے کبھی سوچا ہوگا۔ پی پی پی اور نون لیگ نے اپنے اپنے دور حکومت میں نیب سے کوئی خطرہ بھی محسوس نہیں کیا ہوگا۔ لیکن موجودہ حکومت میں پہلے پاکستان مسلم لیگ(ن)، پھر پاکستان پیپلز پارٹی اور معدودے چند پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنمائوں کی گرفتاریوں کے بعد سیاسی جماعتوں میں بڑی ہلچل مچی ہوئی ہے۔
 الیکشن کمیشن اور نیب کے سربراہ کو اپوزیشن لیڈر اور وزیراعظم منتخب کرتے ہیں، اپوزیشن لیڈر تمام پارلیمانی پارٹیوں سے مشاورت کے بعد دونوں اہم سربراہوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ اب اگر نیب پر اپوزیشن جماعتوں سمیت حکمران جماعت بھی تحفظات کا اظہار کررہی ہے تو اس کی کوئی بنیادی وجہ ضرور ہوگی۔ واضح رہے کہ نیب کے موجودہ چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال، اس وقت مسنگ پرسن کمیشن کے سربراہ ہیں اور ایبٹ آباد تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ بھی رہ چکے تھے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایبٹ آباد تحقیقاتی کمیشن میں انہوں نے ایک اہم افسر کو طلب کیا، نوٹس پر افسر نہیں آئے تو انہوں نے پیغام بھیجا کہ خود آئیں گے یا بندے بھیج کر بلوایا جائے؟۔ جس کے بعد اگلی پیشی پر افسر پیش ہوگئے۔ اُس وقت کے بَری فوج کے سربراہ کے علاوہ دیگر مسلح افواج کے سربراہوں نے کمیشن کے سامنے پیش ہوکر اپنے بیانات ریکارڈ کرائے تھے۔ انہیں اُس وقت سے بڑا متحرک چاق و چوبند مانا جاتا  رہا ہے۔
 پرویز مشرف کے دور حکومت  2000میں جسٹس 
جاوید اقبال بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مقرر ہوئے، جس کے بعد انہیں سپریم کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کردیا گیا، تاہم 2007 میں جب سابق صدر پرویز مشرف نے ایمرجنسی لگائی تو انہوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا، جس کے بعد انہیں گھر میں نظربند کردیا گیا تھا۔ اکتوبر2017 میں حکمراں جماعت اور اپوزیشن کی جانب سے متفقہ منظوری کے بعد انہیں 4 برسوں کے لیے نیب کا چیئرمین مقرر کردیا گیا۔ کم ازکم اس وقت کوئی سیاسی جماعت ایسی نہیں جو انہیں دبائو میں لاسکے۔ چیئرمین نیب کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا کم ازکم کسی بھی سیاسی جماعت کے بس کی بات نہیں۔ خصوصاً پاکستان تحریک انصاف کے وزیراعظم جو اپنے کمزور فیصلوں وقوت ارادی (یوٹرن) کی وجہ سے خاص شہرت حاصل کرچکے ہیں، راقم نہیں سمجھتا کہ انہیں کوئی بھی بااثر خصوصی ڈکٹیشن یا دبائو میں لاسکتا ہے۔ 
موجودہ تمام حالات و واقعات کا اجمالی جائزہ لیا جائے تو واضح طور پر نظر آتا ہے کہ چیئرمین نیب دو اہم ترین کمیشن کے سربراہ رہنے کی وجہ سے بہت مضبوط اعصاب و کوئی بیرونی دبائو قبول نہ کرنے والی شخصیت ہیں۔ عالمی کرپشن ڈے پر چیئرمین نیب کی تقریر کے ایک اقتباس کو موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں سمجھنا چاہیے۔ چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا تھا کہ ’’گزشتہ ایک سال میں ماضی کے اور موجودہ ارباب اختیار کو یہ احساس دلانے میں کامیاب ہوگیا ہوں کہ جو کرے گا وہ بھرے گا، ہر آدمی جس نے کرپشن کی ہے اسے حساب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 30 سال سے برسراقتدار لوگ شاید فراموش کرگئے کہ یہ عہد مغلیہ اور شہنشاہوں کا دور نہیں، اب ظل الٰہی کا دور ختم ہوچکا ہے اور عام آدمی کو بھی پوچھنے کا حق ہے کہ آپ نے ایسا کیوں کیا اور نیب کو تو یہ قانونی حق حاصل ہے۔ کسی کی عزتِ نفس کو ٹھیس نہ پہنچے، یہ سامنے رکھ کر پوچھا جاتا ہے، لیکن پوچھا جائے تو جواب دینا فرض ہے، اتنا حساس بھی نہیں ہونا چاہیے، لاکھوں کی جگہ کروڑوں اور اربوں خرچ ہوں گے تو جس نے کرپشن کی ہے اسے حساب دینا ہوگا، پہلے جن لوگوں کے پاس 70 سی سی موٹرسائیکل تھی اب دبئی میں ٹاور ہیں، نیب نے اگر یہ پوچھ لیا کہ ٹاور کہاں سے آئے تو کیا گستاخی ہوگئی؟ اگر حساب مانگنا جرم ہے تو یہ جرم ہوتا رہے گا۔‘‘
مملکت میں آمریت جب بھی آئی تو برطرف کی جانے والی حکومت پر کرپشن کا الزام لگا۔18ترمیم کے بعد آرٹیکل58-B کے خاتمے سے مارشل لا لگنے کے امکانات بھی ختم ہوگئے۔ جس کے بعد اگر حکمران طبقہ پریشان ہوا تو آرٹیکل 184/3جوڈیشل ایکٹو ازم تھا۔ موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان کی بھرپور توجہ عدالتی نظام پر ہے اور سابق چیف جسٹس کی طرح سیاسی مقدمات کو  متعلقہ اداروں کی جانب دھکیل رہے ہیں۔ لہٰذا اب حکمراں جماعت سمیت اپوزیشن جماعتیں و بیورو کریسی نیب سے خوف زدہ ہیں۔ اس وقت یقینی طور پر ایک بڑی فہرست ایسی ہے 
جس میں بڑے بڑے سیاسی رہنمائوں اور بیورو کریسی سے تعلق رکھنے والوں کے نام ہیں۔ ایک کے بعد ایک کی گرفتاری پر سیاسی انتقام کا سہارا لینا کم ازکم چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی پالیسی کے سامنے کارگر نہیں۔ امید کی جاسکتی ہے کہ ادارہ نیب اسی طرح بلاامتیاز احتساب کی ایسی مثال قائم کرے گا جس سے قوم کو مثبت خبروں کی نوید ملے گی۔