25 ستمبر 2018
تازہ ترین

جاپان میں صبحِ قیامت کا ظہور جاپان میں صبحِ قیامت کا ظہور

(10 ستمبر1923 ء کی تحریر ) 
جاپان سے زلزلے اور آگ کی تباہی خیزی کے جو پیغامات موصول ہوئے ہیں وہ گزشتہ دو تین اشاعتوں میں درج ہو چکے ہیں۔ ان کے ملاحظہ سے قارئین کرام پر واضح ہو گیا ہوگا کہ سرزمین ایشیا کی یہ سب سے بڑی طاقتور سلطان جسے ’’آفتابِ مشرق‘‘ کہا جاتا تھا دفعتہ کیسے ہولناک اور زہرہ گداز مصائب کا شکار بن گئی ہے۔ شہر کعے شہر تباہ ہو گئے۔ صرف ایک یوکوہامہ میں ایک لاکھ انسان لقمغ نہنگِ اجل بنے اس کے بعد آگ نے بہت تباہی پھیلائی۔ ہمیں جاپان کے ساتھ اس دل گداز مصیبت اور اس جگر شگاف حادثہ ہاء لہ پر گہری ہمدردی ہے۔ یہ جانگزا سانحہ ان طاقتور سلطنتوں کیلئے آیہ تنبیہ و عبرت ہے جو کثیر التعداد افواج، ہلاکت بار آلات و اسلحہ جنگ، مہیب جنگی جہازوں کی قطاروں، تجارت کی وسعت و گرم بازاری اور دولت کی فراوانی کو حقیقی قوت و طاقت سمجھ کر عدل و انصاف کو ٹھکرایا کرتی ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ کوئی بے دست و پا ملک، کوئی کمزور و ضعیف قوم میدان جنگ میں ان کے مقابلے پر نہ آ سکے لیکن ان کا یہ سرمایہ قوت و طاقت کے معذب و منتقم ہاتھ کی موثر جنبش کو روک نہیں سکتا۔ جس طرح جاپان آرام، امن، راحت اور آسایش کی بہار کے مزے لوٹتا ہوا بیٹھے بیٹھے چند لمحوں میں تباہ ہو گیا اسی طرح دوسری سرکش اور متمرد سلطنتوں پر بھی آفتیں نازل ہو سکتی ہیں۔ خدائی کارخانے میں کسی کو دخل نہیں ہے ۔ لیکن کاش یہ آفت جاپان کے بجائے یورپ پر نازل ہوتی تاکہ ایشیا اور افریقہ کے غریب اور مظلوم باشندوں کے مصائب کا بھی خاتمہ ہو، تاہم ان کو مطمئن نہیں بیٹھنا چاہئے۔ قدرت کا ہاتھ اب جبنش سے عاری نہیں ہو گیا۔ جس لایزال طاقت نے آج چند لمحوں میں جاپان کو مرگھٹ بنا دیا ہے دوسرے اس کی گرفت اور دسترس سے باہر نہیں ہیں۔ کاش قوت کے گھمنڈ میں کمزورں اور ضعیفوں کو کچلنے والے خواب غفلت سے بیدار ہوں اور حق و انصاف کے رشتے کو مضبوطی کے ساتھ تھام لیں۔ آخر میں ہم پھر اپنے مصیبت زدہ جاپانی بھائیوں سے گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کونسلوں کا قضیہ اور جمعیۃ العلماء
ہندوئوں اور مسلمانوں کے موجودہ افتراق نے ہندویت کے نہایت عجیب و غریب خصایص کے چہرے سے نقاب اٹھا دیا ہے۔ منجملہ ان خصایص کی ایک یہ خصوصیت بھی ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے جو تحریک ہواس کی فی سبیل اللہ مخالفت کی جائے اور ہمیشہ ایسے کلمات استعمال کئے جائیں جس سے ان کے دلوں کو صدمہ پہنچے۔ چنانچہ ابھی کل کی بات ہے کہ کیسریؔ، لالہ شام لال کپور کا کیسریؔ حکومت ہند کو مشورہ دے رہا تھا کہ وہ اطالیہ کی شانِ خودداری کو ملحوظ رکھتے ہوئے افغانستان کو الٹی میٹم دے کیونکہ ’’ظالم سرحدیوں‘‘ نے اسی طرح دو برطانی افسروں کو قتل کر ڈالا جس طرح کہ یونانیوں نے اطالوی وفد کے ارکان کو قتل کر ڈالا ہے۔ بندےؔ ماترم اتنی زبردست مہموں کا تو ابھی اہل نہیں ہوا لیکن حتی المقدور وہ بھی اس میدان میں اپنے بھائیوں کی امداد کرتا رہتا ہے۔ چنانچہ پرسوں کی اشاعت میں اس نے سوامی شردھا نند کو مشہور ’’وطن پرست‘‘ کا خطاب دیا تھا۔ کل کی اشاعت میں وہ اس بات پر بگڑا ہے کہ کونسلوں کے متعلق کانگرس کے فیصلے کو جمعیۃ العلماء کے فتوے سے قطعاً متاثر نہیں ہونا چاہئے۔ ہم پہلے یہ ظاہر کر چکے ہیں کہ ہم کانگرس کو جمعیۃ العلماء کے ماتحت نہیں رکھنا چاہتے لیکن اگر وہ تئیس کروڑ ہندوئوں اور دوسرے ہندوستانی بھائیوں کی طرح آٹھ کروڑ مسلمانوں کو بھی نمایندہ ہے تو اسے کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرنا چاہئے جو جمعیۃ العلماء کے متفقہ فتوے کے خلاف ہو۔ جمعیۃ العلماء نے کانگرس سے پیشتر کونسلوں میں جانے کی ممانعت کا فتویٰ دیا تھا اور وہ فتویٰ اس وقت تک قایم ہے۔ پھر اگر کانگرس آج کوئی ایسا فیصلہ کرے گی جو اس فتوے کے خلاف ہو گا تو وہ آٹھ کروڑ فرزندان توحید کے دین کی توہین کا موجب ہوگی اور اسے قطعاً یہ حق حاصل نہ ہوگا کہ اپنے فیصلوں کو ناطق سمجھے۔حکومت برطانیہ کیخلاف ہماری سب سے بڑی شکایاتِ دینی میں سے ایک شکایت یہ بھی ہے کہ اس نے ہمارے علما ءکے فتوے کی توہین کی۔ اگر کانگرس نے جمعیۃ العلماء کے فتوے کا احترام ملحوظ خاطر نہ رکھا تو ہمیں وہی شکایت کانگرس سے پیدا ہو جائے گی۔ یہ ایک ایسی صاف اور کھلی ہوئی بات ہے جس سے بندےؔ ماترم کا ناواقف ہونا نہایت تعجب انگیز ہے۔
آج ہم کو سنایا جاتاہے کہ اگر علما ءکو سیاسیات میں دخل دینے کا موقع دیا گیا تو ہندوئوں کے پنڈت، سکھوں کے گرنتھی اور عیسائیوں کے پادری بھی دخل دیں گے اور سب آپس میں لڑ پڑیں گے۔ لیکن جمعیۃ تو گزشتہ تین چار سال سے قایم ہے اور اس کا فتویٰ سب کے نزدیک مسلم ہے۔ کیا پنڈت یا عیسائی کا بھی کوئی مذہبی فتویٰ جاری ہوا؟ یا ان کی بھی کوئی جمعیۃ تھی؟ پھر سمجھ میں نہیں آتا کہ آج جمعیۃ کے فتوے کی آبرو زائل کرنے کیلئے کیوں ایسے بے بنیاد اور لغو غدر تراشے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہی کہ ہندوئوں کیلئے کونسلوں میں جانا حرام نہیں ہے اور نہ عیسائیوں کیلئے اس لئے وہ کیوں علما کے فتوے کی پابندی کریں۔ یہ صحیح ہے کہ لیکن جب مسلمانوں کے علما اسے ممنوع قرار دے چکے ہیں تو مسلمان کس طرح فیصلہِ شرکت کو تسلیم کر سکتے ہیں۔ (جاری ہے)