19 جنوری 2019
تازہ ترین

جانبدارانہ احتساب کی تلافی جانبدارانہ احتساب کی تلافی

سابق وزیراعظم میاں نوازشریف ایک کے بعد دوسرے ریفرنس میں آمدنی سے زائد اثاثے بنانے اور منی لانڈرنگ کے الزام میں نااہلی کے ساتھ جرمانے اور قید کی سزا بھگتنے کوٹ لکھپت جیل میں ہیں۔ انہوں نے اپنا قانونی حق استعمال کرتے ہوئے سزا کی معطلی اور بریت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی ہے، جس پر عنقریب سماعت شروع ہونے کا امکان ہے۔ ان کے بھائی اور پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ شہبازشریف احتساب کیلئے نیب کی تحویل میں ہیں، بہت جلد ان کے خلاف مقدمہ احتساب عدالت میں زیر سماعت آ جائے گا۔ ان کا ایک بیٹا تفتیش سے بچنے کیلئے مبینہ طور پر ملک سے فرار ہو چکا ہے جبکہ دوسرا بیٹا حمزہ شہباز انکوائری کیلئے نیب میں پیش ہوتا رہتا ہے۔
مزید برآں خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق بھی مبینہ طور پر بدعنوانیوں کے الزام میں نیب کی تحویل میں ہیں۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور پنجاب کے وزیر قانون پر بھی اختیارات کے غلط استعمال اور حدود سے تجاوز کرنے کے الزام میں انکوائریاں ہو رہی ہیں۔ معروضی صورتحال میں ان کے بھی احتساب کے شکنجے میں آنے کا اندیشہ ہے۔
جبکہ اُدھر سندھ میں پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدرآصف علی زرداری پر منی لانڈرنگ کے میگا سکینڈل کے ساتھ جعلی اکاؤنٹس بنانے اور بیرون ملک روپیہ بھجوانے اور جائیدادیں بنانے کے سنگین الزامات ہیں۔ ان پر عدالت کی طرف سے جے آئی ٹی بنائی گئی۔ جے آئی ٹی رپورٹ پر حکومت نے 172 افراد کا نام ای سی ایل میں ڈالا جن میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو، زرداری کی ہمشیر فریال تالپور ، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام بھی شامل کیا گیا۔ حکومت کا کہنا تھا کہ مبینہ کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال میں سندھ حکومت کو استعمال کیا گیا تھا۔ چونکہ بہت سارے لوگ احتساب سے بچنے کیلئے ملک سے فرار ہو گئے تھے اس لیے ان لوگوں کے نام ای سی ایل میں ڈالے گئے تاہم سپریم کورٹ نے بعدازاں بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کے نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم جاری کر دیا اور کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ آسمانی صحیفہ نہیں۔ ایک ابتدائی رپورٹ ہے جو نیب کے پاس جائے گی وہ اس پر تحقیق و تفتیش کرے گی جس کے بعد مقدمہ کی سماعت عدالت میں ہو گی۔ تاہم اس دوران میں بینکنگ کورٹ نے آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی ضمانت میں پندرہ دن کی مزید توسیع کر دی۔
لیکن یہ سوال زبان زد عام رہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ خفیہ ہونے کے باوجود حکومت تک کیسے پہنچی اور پھر اس کے مندرجات کی میڈیا میں تشہیر کیسے ہوئی یا اس کو میڈیا تک کس نے پہنچایا؟؟    (جاری ہے)