19 جنوری 2019
تازہ ترین

تیل کی قیمتوں میں گراوٹ تیل کی قیمتوں میں گراوٹ

سی آئی اے نے شہزادہ محمد بن سلمان کو صحافی جمال خشوگی کا قاتل قرار دیدیا تھا، یہاں تک کہ صدر ٹرمپ بھی الزام عائد کرنے کے قریب پہنچ چکے تھے، مگر پھر پیچھے ہٹ گئے۔ اس کی وجہ سعودی عرب کا تیل پیداکرنیوالے ملک اور اسلحے کا بڑا خریدار ہونا ہے۔ بریگزٹ میں بری طرح سے الجھی برطانوی وزیراعظم تھریسامے سعودی عرب جیسی اہم مارکیٹ کھونا نہیں چاہتی تھیں؛ فرانس کے صدر میکرون نے شروع میں کچھ بڑھکیں ماریں، پھر خاموش ہو گئے۔ اب وہ مظاہرین کے مطالبات سے پریشان ہیں، وہ جیٹ طیاروں کی فروخت سے بھی ہاتھ دھونا نہیں چاہتے، جوکہ آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔دو ہفتے قبل شاہ سلمان کو بحران میں گھرے رہے۔ وہ بیٹے کی جتنی بھی سرزنش کریں، اسے معزول کرنے کیلئے تیار نہیں ۔ اس کے بجائے انہوں نے صرف کابینہ میں اکھاڑ پچھاڑ پر اکتفا کیا۔ 
یہ ’’سٹیٹس کو‘‘ قبول کئے جانے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔ اگر منحرف روسی جاسوس برطانوی سرزمین پر قتل کرانے کی کوشش پر پابندیوں کی شکل میں روس کو سزا دی جا سکتی ہے ،تو سعودی عرب کو بھی ملنی چاہیے۔ آج کے دور میں اس طرح کے قتل کی صرف مذمت کافی نہیں، اس کا مرتکب افراد کو سزا ہونی چاہیے۔ یہ انسانیت کیخلاف جرم ہے، سکیورٹی کونسل کے ارکان قرارداد منظور کریں جس میں شہزادہ سلمان پر عالمی فوجداری عدالت میں مقدمہ چلانے کا وہ مطالبہ کریں۔ سعودی عرب جو اسلحہ خرید رہا ہے، بظاہر بہت زیادہ مگر امریکا و یورپ کی مجموعی اسلحے کی پیداوار کا معمولی حصہ ہے۔ یمن میں جس طرح شہری آبادی سعودی اتحاد کی بہیمانہ کارروائیوں کا نشانہ بن رہی ہے، مغرب کو اس کا نوٹس لیتے ہوئے از خود اسلحہ کی فراہمی روک دینے چاہیے تھی۔ سکیورٹی کونسل کو بھی اس حوالے سے پابندی کی قرارداد منظور کرنا چاہیے تھی۔ تاہم اس کی حیثیت محض انتباہ کی ہوتی ، کیونکہ سعودی عرب کو خاص فرق نہیں پڑنا تھا، کہ اس کے پاس اسلحے کا وسیع ذخیرہ ہے جن کے سپیرپارٹس کی بلیک مارکیٹ سے بآسانی خریدے جا سکتے ہیں۔
دوسرا معاملہ تیل کا ہے۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران تیل کی قیمتیں گر کر 50امریکی ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گئیں۔ یہ سعودی بجٹ میں پیدا ہونیوالا ایک بہت بڑا شگاف ہے۔ یوں کہہ سکتے ہیں کہ سعودی عرب تیل درآمد کرنیوالے ملکوں کے رحم و کرم پر ہے۔یہ قیمت اس وقت تک کم رکھی جائے جب تک سعودی عرب ’’ انکل ‘‘ کی دہائی نہیں دیتا۔ سعودی عرب نے اوپیک ارکان کو پیداوار میں کمی پر آمادہ کرنے کی بہت کوشش کی، مگر کامیابی نہ ملی۔ دوسری جانب امریکا کی شل آئل پیداوار کو تیل کی گرتی قیمت سے فرق نہیں پڑتا۔ مغربی ٹیکساس سے نیو میکسیکو تک پھیلے شل کے پیداواری مرکز میں تیل کی پیداوار مسلسل بڑھ رہی ہے۔اس وقت امریکا دنیا میں تیل کا سب سے پروڈیوسر ہے، تیل کی گرتی ہوئی قیمت کی مختلف وجوہات میں سے ایک وجہ یہ ہے۔شیل پروڈیوسرز گرتی قیمت کے باوجود منافع میں جا رہے ہیں۔اس صورتحال پر ٹرمپ بھی خوش ہیں، وہ قیمت کی اس کمی کو امریکیوں کیلئے ٹیکس کٹوتی کے برابر قرار دیتے ہیں۔
یوں تیل کے معاملے میں امریکا کے پاس فکرمندی کی کوئی وجہ نہیں ہے؛یہی معاملہ دیگر مغربی ممالک کا ہے۔ سعودی ولی عہد کے معاملے میں ٹرمپ کی پالیسی کی وجوہات ذاتی قسم کی ہیں۔ امریکی معیشت میں ’’ ٹیکس کٹ‘‘ اسلحے کی فروخت کے حجم سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ امریکی کانگریس سعودی عرب سے متعلق سخت موقف اختیار کرنے کیلئے ٹرمپ پر مسلسل دبائو ڈال رہی ہے ۔ جمال خشوگی کے قتل کی صدر ٹرمپ نے خود بھی مذمت کی تھی۔ اگر ولی عہد کا تختہ ہو تا ہے تو ٹرمپ کو افسوس نہیں ، بلکہ تمانیت کا احساس ہو گا۔ سعودی عرب اپنی معیشت میں تنوع پیدا کرنے کے طویل المدت پروگرام کی طرف بڑھ رہا ہے تاکہ تیل کی برآمد پر انحصار کم ہو سکے۔ صنعتوں کے فروغ اور نئی شہر وں کیلئے اربوں ڈالر خرچ ہو رہے ہیں؛ جن کی لاگت دستیاب وسائل سے زیادہ ہے۔ فی الوقت اس کا مستقبل تابناک نہیں۔ امریکا کی تیل کی درآمدات جو کہ 2005ء میں 13ارب بیرل روزانہ تھیں، گزشتہ سال گر کر ڈھائی ارب بیرل سے کم ہو گئیں، ایک اندازے کے مطابق اس درآمد میں رواں مزید کمی ہو گی، وہ تین لاکھ 30ہزار بیرل تک گر سکتی ہیں۔
بعض حلقے سوچتے ہونگے کہ سعودی شاہ کو خود ہی اپنا بیٹا معزول کر دینا چاہیے تھا۔ایسا نہ کرنے کی واحد وضاحت یہ غلط فہمی تھی کہ تیل کی قیمت مزید گرنے سے امریکی پیداوار بھی سکڑ جائیگی، جس سے امریکی دباؤ کم ہو جائیگا۔ یہ خیال پلاؤ سے زیادہ کچھ نہیں،امریکا کیلئے موجودہ قیمت قابل اطمینا ن ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے شل پروڈیوسرز ابھی تک منافع میں ہیں؛ اور ان کی پیداوار نہیں سکڑے گی۔ جہاں تک سعودی عرب کا تعلق ہے، اس کے پیداوار بڑھانے سے صرف قیمت گرے گی، شل پروڈیوسرز مارکیٹ سے باہر نہیں ہوں گے۔ سعودی نہیں چاہے گا کہ قیمت مزید گرے، اسے اس وقت پیسے کی سخت ضرورت ہے۔ 
(ترجمہ: ایم سعید۔۔۔ بشکریہ: انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹربیون)