تھوڑا سا گلہ تھوڑا سا گلہ

پاکستانی سیاست کے اسرار و رموز سمجھنا مجھ ایسے کم عقل کے لیے تو کبھی ممکن نہیں رہا۔ آپ اگر باشعور انسان ہیں، حالات پر نظر رکھتے ہیں، اگر آپ بظاہر نظر آنے والی صورت احوال سے کوئی رائے قائم کرتے ہیں تو یہ کسی نارمل انسان کا طرز عمل ہو سکتا ہے لیکن جب سب کچھ الٹا دکھائی دے، آپ کو اپنے آپ پر شک ہونے لگتا ہے۔ اللہ ہی دلوں کے احوال بہتر جانتا ہے۔ میں تو تیس سال صحافت کے کارزار میں آبلہ پائی کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ سیاسیات کا کوئی طالب علم کبھی اس ملک کی سیاست کا بھد نہیں پا سکتا۔ اس کا تازہ ثبوت جناب آصف زرداری کا بیان ہے جس نے میڈیا کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا ہے۔ آپ کے تازہ فرمان کے مطابق عمران خان کی رخصتی طے پا چکی ہے۔ جی کا جانا ٹھہر گیا ہے صبح گیا کہ شام گیا۔
زرداری صاحب کو پاکستان میں سیاسی مشائخ کی حیثیت حاصل ہے۔ آپ کا باقاعدہ پیر خانہ ہے جس سے پھوٹتے چشمہ فیض پر حاضری دینے والے ان کے مریدوں کی تعداد گو دن بہ دن کم ہوتی جا رہی ہے، لیکن اب بھی آپ کا حجرہ آپ سے ماضی میں فیض یاب ہونے والوں سے آباد ہے۔ آپ کرپشن کے دیوتا اور مفاہمت کے شہنشاہ ہیں۔ حصہ بقدر جثہ کے بجائے آپ جس سے ملے جہاں سے ملے اور جس قدر ملے، پر عمل پیرا ہیں اور سیاست کو خوب انجوائے کر رہے ہیں۔ ساری دنیا آپ کی سندھ میں بادشاہت پر بین ڈال رہی ہے، آپ کے مریدوں کے کرتوت آئے روز اخبارات کی زینت بنتے ہیں، لیکن آپ سے جب بھی اس حوالے سے کوئی سوال ہوتا ہے آپ اس کے جواب میں پورا جبڑہ کھول کر صرف مسکرانے پر اکتفا کرتے ہیں۔ یہی آپ کا جواب اور میڈیا کے لیے سیاسی تبرک بن جاتا ہے۔
میرے ناقص علم کی حد تک سوائے ایک سابقہ ایڈ مرل صاحب کے آج تک کسی کو کرپشن میں باقاعدہ سزا نہیں ملی، دیگر مقدمات میں ملی ہو تو بھی جیسے ہی نئی حکومت آئے معاملہ رفع دفع ہو جاتا ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں احتساب کا ڈراما البتہ کچھ عرصہ کامیابی سے ضرور چلا لیکن تا بہ کہ؟
کرپشن کے حوالے سے سنسنی خیز خبریں سنتے سنتے کان پک گئے لیکن کبھی کسی بڑی مچھلی کو جال میں پھنستے نہیں دیکھا۔ کوئی نہ کوئی کمپرومائز ہو جاتا ہے اور مل جل کر لوٹ مار کا سلسلہ کبھی نہیں ٹوٹا۔ یہ ضرور ہے کہ روایتی جیب کتروں کی طرح یہ سیاسی کاریگر اپنی اپنی ڈومین منتخب کر لیتے ہیں اور اس وقت تک ان کا دھندہ کامیابی سے چلتا ہے جب تک یہ ایک دوسرے کے علاقے میں منہ نہ ماریں۔ بہت ہوا تو پلی بارگین سے معاملہ آئینی طور پر طے پا گیا۔ باقی رہے نام اللہ کا۔
عمران خان کوئی ماؤزے تنگ یا لینن نہیں۔ نہ ہی ان کی انتخابی جلسوں کی دھواں دھار تقریریں اہل خبر کے لیے کبھی اچنبھے کا باعث رہی ہیں۔ انہیں اگر ووٹ ملے ہیں تو سفید پوش بابو طبقے نے ان سے یہ امید لگا لی تھی کہ عین ممکن ہے عمران خان سٹیٹس کو توڑ دیں۔ کرپشن کے حوالے سے بات سنسنی خیزی سے آگے بڑھ جائے لیکن ڈھاک کے تین پات کے مصداق مڑ کے کھوتی بوڑھ تھلے۔ جس روز انتہائی مجبوری کے عالم میں کپتان نے حالات سے سمجھوتا کر کے ماضی کا شاندار ریکارڈ رکھنے والوں کا سہارا لیا۔ اس روز واقفان حال جان گئے کہ کپتان تھک گیا ہے۔ ہمارا بوڑھا شیر جس نے جھکنا سیکھا ہی نہیں تھا، بائیس سال کی مسلسل جدو جہد کے بعد اس نتیجے پر پہنچ چکا تھا کہ اسے اسی گاربیج پر گزارا کرنا ہے۔ صرف ایک امید تھی کہ وہ اپنی کرکٹ ٹیم یا نمل اور شوکت خانم کی طرح معاملات پر گرفت کر لے گا، لیکن کوئی اس بوڑھے کپتان کو بتاتا کہ زندگی اور کھیل میں بڑا فرق ہے۔ یہاں ہر کھلاڑی اپنی دانست میں یہی سمجھ رہا ہوتا ہے کہ وہ اچھلتی گیند کو چھکا لگا کر گراؤنڈ سے باہر پھینک دے گا۔ یہاں وہی باؤلر اچھی گیند کرتا ہے جس کے پاس باؤلنگ کا تجربہ ہو، ہمارا وزیر خزانہ اس کسوٹی پر پورا نہیں اترا۔ کپتان صاحب صرف ایمانداری اور سادگی سے آپ اپنی ذاتی زندگی میں انقلاب لا سکتے ہیں۔ ملک نہیں چلا سکتے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس مرتبہ کرپشن کے حوالے سے زیادہ سنسنی خیز خبریں سننے کو مل رہی ہیں، لیکن یہ کار خیر تو رؤف کلاسرہ زیادہ بہتر طریقے سے انجام دے رہا تھا۔
یہ کارِ لا حاصل ہے میرے پیارے کپتان۔ احسن یہ تھا کہ آپ اپنا اثر رسوخ استعمال کر کے پاکستان میں سرمایہ کاری کراتے، اپنے دعووں کے مطابق باہر کے بنکوں سے لوٹ مار کا روپیہ واپس لاتے۔ وہ تین ہل سٹیشن ہنگامی بنیادوں پر کھولتے جن کا خواب قوم کو دکھا چکے ہیں۔ روزگار ہمارے ہاں سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اپنی ماضی کی شہرت اور دوستی کے بل بوتے پر آپ لاکھوں پاکستانی مزدور باہر بھیج کر نیک نامی کماتے۔ سو دن کے بعد جس انڈے مرغی پراجیکٹ کا اعلان کیا ہے، اس سے حکومت کا آغاز کرتے۔ آپ کو کاریگروں نے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا ہے۔ سر جی! یہ مقدمات اگلے سو سال تک چلتے رہیں گے۔ کسی کو سزا نہیں ہونی، زرداری صاحب دس بارہ سال جیل میں رہے اور باعزت بن گئے۔ کپتان جی ان ظالموں کو عدالت نے یونہی سسیلین مافیا نہیں کہا۔ انہوں نے آکٹوپس کی طرح اپنے خونی پنجے اس سسٹم میں گاڑے ہوئے ہیں۔ نیب قوانین ان کے بنائے ہوئے ہیں۔ قوم نے یہ تماشے بہت دیکھ لیے، کچھ نتیجہ خیز اقدامات جناب!!!