20 ستمبر 2019
تازہ ترین

توکل اور خواہشاتِ نفس کی غلامی توکل اور خواہشاتِ نفس کی غلامی

 شہر میں شدید بارش کے باعث رکشا لینا بہتر تھا۔ ٹائون شپ چلو گے، کتنے پیسے لو گے۔ جو دل کرے دے دینا سر جی۔  پھر بھی، سر ایک بات کہوں بُرا مت ماننا، میں ایک جاہل آدمی ہوں مگر اتنا جانتا ہوں کہ جو اللہ نے میرے نام کا آپ کی جیب میں ڈال دیا ہے،  وہ آپ رکھ نہیں سکتے، توکل اسی کا نام ہے۔ اس کی بات میں وہ ایمان تھا جس سے ہم اکثر محروم رہتے ہیں۔ رکشا ابھی تھوڑا آگے گیا کہ مسجد دکھائی دی۔ سر جی نماز پڑھ لیں، پھر آگے چلتے ہیں۔ اس نے رکشا مسجد کی طرف موڑ لیا۔ آپ نماز پڑھیں گے۔
کس مسلک کی مسجد ہے؟ یہ سن کر اس نے میری طرف دیکھا۔ بائو جی مسلک سے کیا لینا دینا؟ اصل بات مسجد کی ہے، اللہ کے سامنے جھکنے کی ہے، یہ اللہ کا گھر ہے۔ میرے پاس کوئی عذر نہیں تھا۔ نماز سے فارغ ہوئے اور اپنی منزل کی طرف بڑھنے لگے۔ سر آپ نماز باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔ نہیں یار کبھی پڑھ لیتا ہوں، کبھی غفلت ہوجاتی ہے۔ میں نے اسے جو کہا یہی سچ تھا۔ جب غفلت ہوتی ہے تو کیا یہ احساس ہوتا ہے کہ غفلت ہوئی اور نہیں ہونی چاہیے۔ معاف کیجیے یہ ذاتی سوال نہیں ہے، اگر احساس ہوتا ہے تو اللہ ایک دن ضرور آپ کو نمازی بنادے گا اور اگر احساس ہی نہیں ہوتا تو۔۔۔ 
وہ خاموش ہوگیا، اس کی خاموشی مجھے کاٹنے لگی۔ تو کیا، میرا لہجہ بدل گیا، اگر آپ ناراض نہ ہوں تو کہوں۔ ہاں بولیں۔ اگر غفلت کا احساس نہیں تو اپنے آمدن کے 
وسائل پر غور کریں اور اللہ سے معافی مانگیں، اللہ آپ سے راضی نہیں، ہم منزل پہ آچکے تھے۔ میں نے اس کے توکل کی حقیقت جاننے کے لیے جیب سے سو روپے کا نوٹ نکالا اور اس کے ہاتھ میں رکھ دیا۔ اس نے بسم اللہ کہا اور نوٹ جیب میں رکھ کر رکشا موڑنے لگا۔ میں نے آواز دی، وہ رک گیا، حکم سر جی۔ تم ان پیسوں میں خوش ہو۔ جی مشکل سے پچاس روپے کا پٹرول جلا ہوگا۔ اللہ نے اس خراب موسم میں بھی میرے بچوں کی روٹی کا انتظام کردیا۔
میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے، میں نے جیب سے مزید دوسو نکالے اور اسے دینے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ وہ مسکرایا، سرجی، دیکھا آپ نے، میرا حق سو روپے تھا اور اللہ کے توکل نے مجھے تین سو دیا۔ وہ چلا گیا، میرے ایمان کو جھنجھوڑ کر۔ میں کافی دیر تک سو چتا رہا کہ مضبوط ایمان انسان کو کس قدر دیانت دار بنادیتا اور اطمینان قلب مہیا کردیتا ہے، آج کے دور میں جب ہر انسان پریشانیوں اور مصائب کا شکار ہے، اس خطۂ زمین پر ایسے لوگ بھی موجود ہیں، جن کے دل و دماغ کو اللہ تعالیٰ نے اتنا سکون عطا کردیا ہے۔ اس شخص کی زندگی میں مسئلہ نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے۔
مجھے کئی بار رکشوں میں سفر کرنے کا اتفاق ہوتا ہے، میں اپنی عادات سے مجبور ہوکر ڈرائیوروں سے حالاتِ حاضرہ پر گفتگو شروع کردیتا ہوں اور وہ بھی اپنے اپنے مسائل پر کھل کر روشنی ڈالنا شروع کردیتے ہیں۔ زیادہ تر ڈرائیور ٹریفک پولیس کے ہاتھوں تنگ نظر آتے ہیں، مہنگائی سے ہر شخص پریشانی کا شکار ہے۔ کچھ لوگوں کو سیاسی باتوں سے سکون حاصل ہوتا ہے اور اپنے پسندیدہ لیڈر کی تعریف سن کر خوش ہوجاتے ہیں، لیکن اللہ کا شکر ادا کرنے والے رکشا ڈرائیور کم ہی نظر آتے ہیں۔ 
زندگی کو خوشگوار بنانے کے لیے جو طریقہ مجھے اُس رکشا ڈرائیور نے بتایا، ہم مسلمانوں کے لیے واحد راستہ ہے۔ اس سے ہم خواہشاتِ نفس کی غلامی سے بچ سکتے ہیں، یہی راستہ ہمیں فضول خرچیوں، ایک دوسرے کی اندھی تقلید سے بچاتا اور سادگی کا درس بھی دیتا ہے۔ ہمارا المیہ ہے کہ ہم اپنے سے اوپر دیکھتے ہیں اور اوپر 
والوں جیسا بننے کی کوشش میں ہر ذریعہ استعمال کرتے ہیں، رشوت بھی یہیں سے جنم لیتی ہے۔ میرا ایک دوست ہے جو مڈل کلاس سے تعلق رکھتا ہے، اللہ نے اسے گاڑی بھی دے رکھی ہے مگر ہمیشہ وہ اپنی گاڑی کی خرابیاں ہی بتاتا ہے، حالانکہ اسے میں نے اللہ کا شکر کرنے کا ہی مشورہ دیا اور اسے سمجھایا، جن کے پاس اپنی سواری نہیں، اپنا گھر نہیں، ان سے تم ہزار گنا بہتر  ہو۔ اپنا تین مرلے کا گھر بھی اسے بُرا لگتا ہے، گاڑی بھی چھوٹی بڑی لگتی ہے، موبائل کے بھی اعلیٰ سے اعلیٰ ماڈلز کی تلاش میں رہتا ہے۔ مجھے چند روز قبل اس نے اپنی خواہش بتائی کہ اللہ مجھے میرے 21 انچ ٹی وی کی جگہ کوئی بڑی ایل ای ڈی دے دے تو زندگی آسان ہوجائے۔ میں نے اسے کہا کہ یہ تمام چیزیں تمہیں مل بھی جائیں تو تمہارے مسائل کم نہیں، بلکہ زیادہ ہوجائیں گے۔ اپنی چادر سے زیادہ پائوں پھیلاکر کبھی کوئی پُرسکون شخص میں نے نہیں دیکھا، اگر سکون چاہتے ہو، مسائل میں کمی چاہتے ہو تو اپنے سے نیچے والوں کو دیکھو، جن کے پاس کچھ بھی نہیں، جو اللہ نے تمہیں عطا کیا ہوا ہے، اللہ سے دوستی کرلو اور اس کے حصار میں آجائو، سکون قلب حاصل کرنے کا حقیقی ذریعہ یہی  ہے، جو شخص خود کو مکمل طور پر اللہ کی سپردگی میں دے دیتا ہے، رب تعالیٰ اسے کبھی مایوس نہیں ہونے دیتا، بلکہ اس رکشا ڈرائیور کی طرح سکون قلب عطا فرماتا ہے۔