25 ستمبر 2018
تازہ ترین

توانائی کا بحران کیوں؟ توانائی کا بحران کیوں؟

عید کی چھٹیوں کے دوران ہونے والی لوڈشیڈنگ کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے ان کے مطابق تین چھٹیوں میں تمام انڈسٹری بند رہی۔ کاروباری مراکز، حکومتی دفاتر بند رہے تو پھر بجلی کی لوڈشیڈنگ کیوں؟ یہی دراصل وہ معمہ ہے جسے ہم ایسے ناقص العقل گزشتہ بیس سال سے حل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ گزشتہ حکومت نے دس ہزار میگا واٹ بجلی کہاں پیدا کی تھی؟ کہاں سپلائی ہوئی؟ اور اس سیکون فیض یاب ہوا؟ ان سوالات کے جوابات آپ کو کبھی اور کہیں نہیں ملیں گے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ اعداد کی ہیرا پھیری، جھوٹ، مطمع بازی اور ریا کاری گزشتہ حکومتوں کی پالیسیوں اور پالیسی بیانات کی بنیادی خصوصیات رہی ہیں۔ ڈیزل سے دنیا کی مہنگی ترین بجلی بنا کر عوام کو چند دنوں کے لیے تو الو بنایا جا سکتا ہے لیکن یہ کاٹھ کی ہنڈیا بار بار چولہے پر نہیں چڑھائی جا سکتی۔ 
بجلی کے مسئلے پر قابو پانے میں مسلم لیگ کی حکومت پانچ سال میں شدید ناکامی سے دو چار رہی ہے، تو دوسرے مسائل کے بارے بارے میں اس کی کارکردگی کا اندازہ لگانا بے کار ہے۔ اہل وطن کو اچھی طرح یاد ہے کہ 2013ء کے انتخابات میں مسلم لیگ کے رہنمائوں نے بلند بانگ دعویٰ کیا تھا کہ اگر ان کی جماعت برسر اقتدار آگئی تو چھ ماہ میں ملک سے لوڈشیڈنگ ہمیشہ کے لیے ختم کر کے بجلی کی بلا تعطل فراہمی کا نظام قائم کر دکھائے گی۔
ماہرین کے نزدیک یہ دعویٰ ایسا نہ تھا، جسے چھ ماہ میں نہ سہی، ایک سال میں پورا نہ کیا جا سکتا، لیکن اس کے لیے ملک و قوم سے محبت، اخلاص، لگن، اہلیت اور دیانت کی ضرورت ہے، جو آج تک اکثر حکمرانوں ، رہنمائوں اور سیاستدانوں میں ناپید نظر آتی ہے۔ ایک مدت سے کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کے پاس بجلی کی پیداوار کی گنجائش اس کی طلب سے کہیں زیادہ ہے، بلکہ ماضی میں تو پاکستان کی فاضل بجلی بھارت کو فروخت کرنے کی پیش کش بھی اخبارات کی زینت بنی تھی۔ حکمران مسلم لیگ نے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی مدت بڑھاتے بڑھاتے اسے اپنی مدت اقتدار کے آخری ادوار تک پہنچا دیا۔ میاں نواز شریف کی نااہلی کے بعد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے گزشتہ دنوں واضح الفاظ میں اعلان کیا تھا کہ لیگی حکومت نے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے ملک بھر سے اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کر دیا ہے اور اب کہیں بھی لوڈشیڈنگ نہیں ہو رہی ہے۔ موسم گرما کی آمد سے پہلے یہ دعویٰ کسی حد تک درست ثابت ہوتا رہا، کیونکہ سردیوں میں بجلی کا استعمال بہت کم ہو جاتا ہے، مثلاً کسی گھر کا اوسط بل موسم گرما میں دو ڈھائی ہزار روپے ہو تو گرمیوں میں چار پانچ سو روپے ماہانہ تک رہ 
جاتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ سردیوں میں بجلی کے پنکھوں اور اے سی کا استعمال نہ ہونا ہے۔ شدید گرمیوں کے موسم میں پنکھا ہر گھر کی ضرورت ہے اور گرمیوں میں بجلی کی بچت والے بلوں کے مقابلے میں پنکھے استعمال کرنے سے بجلی کا خرچ بہت بڑھ جاتا ہے۔ البتہ پاکستان جیسے غریب ملک میں جہاں حکمرانوں اور بجلی کمپنیوں کی نااہلی اور بدعنوانی کے باعث عام شہریوں کو روشنی اور ہوا کے لیے ضرورت کے مطابق بھی بجلی نہیں ملتی، وہاں سرکاری و نجی دفاتر اور امیر کبیر گھرانوں میں اے سی کا بے دریغ استعمال عوام پر ظلم ہے۔ یہ گھرانے تو بجلی کی غیر موجودگی میں جنریٹر سے بھی کام چلا سکتے ہیں، لیکن ان کے عیش پرستانہ رویے کی وجہ سے وطن عزیز 
کے غریب صارفین روشنی اور ہوا سے بھی محروم ہو جاتے ہیں نتیجہ یہ کہ حکمران و سرمایہ دار طبقہ غریبوں کا حق مار کر عیش و عشرت کی زندگی گزارتا ہے اور اس کے باوجود عوام کی خدمت ، ان سے محبت اور ہمدردی کے جھوٹے اعلانات کر کے ان کے زخموں پر مزید زخم چھڑکتا ہے۔
پورے پنجاب اور ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کا سلسلہ نہ صرف جاری بلکہ زوروں پر ہے۔ پانچ ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم سے نکل چکی ہے۔ این ٹی ڈی سی کی ہائی ٹرانسمیشن لائن، چاروں چشمہ پاور پلانٹس ٹرپ اور ٹیسٹنگ کے باعث تین ایل این جی ٹرمینل بند ہونے کی وجہ سے چار ہزار آٹھ سو میگا واٹ بجلی سسٹم سے آئوٹ ہو گئی ہے۔ جس نے اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھا دیا ہے۔ کوئی مستقل انتظام کرنے اور صارفین بجلی کو لوڈشیڈنگ کے عذاب سے مستقل طور پر نجات دلانے کی ٹھوس اور دیانتدار تدابیر کرنے کے بجائے، ہر اضافی بحران کے موقع پر عارضی اقدامات کے بیانات جاری کر کے وزراء اور ادارے بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق سسٹم کی حفاظت کے لیے بجلی کی تمام تقسیم کار کمپنیوں میں ’’عارضی طور‘‘ پر لوڈ مینجمنٹ شروع کر دی گئی ہے۔ جو ہر علاقے میں لائن لاسز اور بجلی چوری کے تناسب سے ہو گی۔ صارفین سے اس عارضی دورانیے میں تعاون اور بجلی کم استعمال کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ حکومت اور بجلی کمپنیوں کو بار بار اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے نام پر صارفین کو دھوکا دیتے ہوئے ذرا شرم نہیں آتی۔ عام لوگوں کو کیا پتہ کہ آٹھ سے اٹھارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ میں کون سی اعلانیہ ہے اور کون سی غیر اعلانیہ ہے۔ پیداواری لاگت سے کئی گنا زائد بجلی کے بل ادا کرنے والے صارفین بجلی کی مسلسل اور بلا تعطل فراہمی کے سوا کچھ نہیں چاہتے۔ اسی طرح لائن لاسز کے وہ ذمے دار نہیں، بلکہ نہایت نااہل اور انتہائی بد دیانت وہ حکام، افسران اور عملے کے ارکان ہیں، جو سزائیں پانے کے بجائے ترقیاں پاتے ہیں۔ بجلی چوری کو لوڈشیڈنگ کا بہانہ بنانے والوں میں ذرا بھی غیرت ہو تو وہ اپنے اس جرم کا اعتراف کریں کہ تمام تر اختیارات کے باوجود بجلی چوروں کو پکڑ کر سزائوں سے دو چار کرنے کے بجائے ان غریب اور شریف صارفین کو شدید اذیت اور مشکلات میں کیوں مبتلا کرتے ہیں؟ جن علاقوں میں بجلی چوری ہوتی ہے وہاں سے بجلی چوروں کو پکڑنا اور نکالنا حکومت کی ذمہ داری ہے ، عام صارفین کی نہیں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار جہاں سیاست اور حکمرانی میں گڑ بڑ کے سنگین واقعات کا نوٹس لے کر انہیں درست کرنے کے لیے شب و روز کوشاں ہیں، ایک بار بجلی کے مسئلے کا بھی سخت نوٹس لیں تو شاید حکومت اور بجلی کمپنیوں کی لوٹ کھسوٹ اور عوام کو ایذا دینے کا سلسلہ ختم ہو جائے۔ بجلی کی بچت کا آغاز انہیں عدالتی حکم کے ذریعے کروانا ہو گا اور بجلی کے بلوں میں عوام پر لگائے کئی طرح کے ٹیکس جو ان کی زندگی جہنم بنا رہے ہیں پر خصوصی کرم فرمائی کرنا ہو گی۔