26 ستمبر 2018
تازہ ترین

تم کیسے مسیحا ہو؟ تم کیسے مسیحا ہو؟

وطن عزیز میں ماہ اگست کا آغاز ایسے حالات میں ہوا جن پر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو یہ (حالات) تشویشناک اور ذہنی کوفت کا باعث بن سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر گوجرانوالہ کے سول ہسپتال میں ایمرجنسی وارڈ میں مردہ خاتون کے ساتھ ایک نوجوان مریض کو لٹا دیا گیا۔ منڈیالہ کی رہائشی ریاض بی بی کو تشویشناک حالت میں طبی امداد کی فراہمی کے لئے ڈسٹرکٹ ہسپتال لایا گیا جہاں پر وہ جان کی بازی ہار گئی۔ اسی دوران وارڈ میں علاج کے لئے آنے والے نوجوان مریض کو ڈاکٹروں نے مردہ خاتون کے ساتھ ہی لٹا دیا۔ اس حوالے سے ہسپتال ترجمان نے بتایا کہ ایمرجنسی میں 80 مریض آ گئے تھے جبکہ بیڈ صرف 30 تھے۔ اس خاتون کو بھی طبی امداد دی گئی مگر 80 سالہ خاتون جانبر نہ ہو سکی جسے بیڈ سے فوری طور پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ ترجمان نے اعتراف کیا کہ ہسپتال میں ایک بیڈ پر دو دو مریض لٹائے جا رہے ہیں کیونکہ بیڈز کی شدید کمی ہے اور مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔
اسی روز لاہور میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب نے اپنے مطالبات منوانے کے لئے ایک بار پھر لاہور سمیت صوبہ بھر کے ہسپتالوں کے شعبہ حادثات آؤٹ ڈور اور ان ڈور میں ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ ینگ ڈاکٹرز نے شیڈول کے مطابق جیل روڈ سے لانگ مارچ کا آغاز کیا اور جی او آر کے سامنے پہنچ کر دھرنا دے دیا اور زبردستی پولیس کا حصار توڑ کر جی او آر ون میں گھسنے کی کوشش کی، پولیس نے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لئے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال اور لاٹھی چارج کرتے ہوئے انہیں منتشر کر دیا۔ ینگ ڈاکٹرز کی ریلی ہسپتالوں میں مریضوں اور سڑکوں پر شہریوں کے لئے دن بھر مصیبت بنی رہی، جیل روڈ اور اس کی اطرافی سڑکوں پر ٹریفک کا شدید دباؤ رہا اور ٹریفک دن بھر جام رہی۔ ادھر سروسز ہسپتال کی ایمرجنسی میں تشویشناک حالت میں آنے والی مریضہ کے لواحقین نے الزام عاید کیا کہ جنت الفردوس بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے دم توڑ گئی جبکہ اس بارے میں ایم ایس ڈاکٹر امیر کا کہنا رہا کہ سروسز کی ایمرجنسی میں کوئی جنت الفردوس بی بی فوت نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر موصوف کا یہ بیان بڑی حد تک سیاسی اور سفارتی بیان محسوس ہوتا ہے کیونکہ اس سے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ انہوں نے کسی خاتون کی موت کی تردید کی ہے یا فوت ہونے والی کسی خاتون کے نام کی تردید کی ہے۔
ینگ ڈاکٹرز کی یہ ہڑتال دوسرے روز بھی جاری رہی بلکہ یہ ہڑتال راولپنڈی سمیت پنجاب کے دوسرے شہروں تک پھیل گئی، ہڑتال کے باعث فیصل آباد میں 10 مریض جاں بحق، متعدد آپریشن ملتوی کر دیے گئے، دوسری جانب محکمہ صحت نے ینگ ڈاکٹرز کے سہولت کار بننے پر چیف ایگزیکٹو آفیسر سروسز ہسپتال کو عہدہ سے ہٹا دیا۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ لاہور سے 100 سے زائد ینگ ڈاکٹرز کو نوٹسز جاری کر دیے گئے جبکہ سرگنگا رام ہسپتال کے چار ڈاکٹرز کو معطل کر دیا گیا ہے، تمام ہسپتالوں کے ایم ایس صاحبان کی جانب سے ہاؤس آفیسر ڈاکٹرز کو معطلی کے نوٹس جاری کر دیے گئے۔ راولپنڈی کے سرکاری ہسپتالوں ہولی فیملی، بے نظیر بھٹو ہسپتال اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کی ایمرجنسی، او پی ڈی اور ان ڈور سروسز کا بائیکاٹ کیا گیا جبکہ مریض علاج معالجہ کے لئے در در کی ٹھوکریں کھاتے رہے، نوجوان ڈاکٹروں کی ہڑتال کے ازالہ کے لئے سینئر ڈاکٹروں کی ڈیوٹیاں لگائی گئیں۔ تینوں سرکاری ہسپتالوں کے شعبہ ایمرجنسی اور او پی ڈی میں ہڑتال کے پہلے روز 10 ہزار سے زائد مریض آئے، سیکڑوں مریض مایوسی کا شکار ہونے کے بعد پرائیویٹ ہسپتالوں میں جانے پر مجبور ہوئے، انتظامیہ کی طرف سے کسی بھی قسم کے حالات سے نمٹنے اور ڈاکٹروں کی طرف سے زبردستی تالہ بندی کے خدشہ کے پیش نظر پولیس کی بھاری نفری بھی طلب کی گئی تھی، ادھر راولپنڈی الائیڈ ہسپتال انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی، او پی ڈی اور ان ڈور سروسز جاری رہیں جہاں پر آنے والے ہر مریض کو علاج معالجہ کی مکمل سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (پنجاب) کے چیئرمین ڈاکٹر حیدر اختر اور راولپنڈی کے صدر ڈاکٹر رانا محمد عظیم، ڈاکٹر اشفاق نیازی اور ڈاکٹر شاہد فدا نے واضح کیا کہ سیکرٹری صحت پنجاب نجم شاہ کو عہدہ سے فوری ہٹائے جانے اور دیگر مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔ لاہور کے ہسپتالوں میں داخل مریض بھی رل گئے، متعدد آپریشن ملتوی کر دیے گئے، شیخ زید، سروسز، جناح اور چلڈرن ہسپتال میں جزوی علاج و معالجہ کی سہولیات دستیاب رہیں۔ ان حالات میں نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ سروسز ہسپتال میں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز کو کام سے روک دیا گیا اور آپریشن کے لئے داخل مریض زبردستی ڈسچارج کر دیے گئے، جناح ہسپتال لاہور میں ہڑتال کے باعث 9 مریض جبکہ الائیڈ ہسپتال فیصل آباد میں 3 مریض جان کی بازی ہار گئے، 200 آپریشن بھی ملتوی کر دیے گئے۔ ملتان کے تمام سرکاری ہسپتالوں کی او پی ڈیز بھی بند کر دی گئیں۔ دوسری جانب حکومت نے ہسپتالوں کے سربراہوں سے غیر حاضر ڈاکٹرز کی فہرست طلب کرتے ہوئے ان کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کر لیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں ڈاکٹروں کی ہڑتال کے دوران مریضوں کی ہلاکت پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور ذمہ داروں کے خلاف سخت ایکشن لینے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے پنجاب بھر میں ہسپتال انتظامیہ کو ہڑتالی ڈاکٹرز کی فہرستوں کی تیاری کا حکم دیتے ہوئے 24 گھنٹے میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔ دریں اثنا پشاور میں بھی ینگ ڈاکٹرز اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے، انہوں نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ایڈمنسٹریشن
 بلاک کے سامنے احتجاج کیا۔
ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے حوالے سے جو حقائق سامنے آئے ہیں وہ اس اعتبار سے نہایت افسوسناک اور تشویشناک ہیں کہ ان سے ہمارے ینگ ڈاکٹرز کے طرز احساس کا بخوبی علم ہو جاتا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ یہ وہی ینگ ڈاکٹرز ہیں جو ایف ایس سی کے امتحان میں کامیاب ہونے کے بعد اور میڈیکل کالج میں میں داخلہ حاصل کرنے سے پہلے عام طور پر یہی بیان جاری کرتے ہیں کہ وہ ڈاکٹر بننے کے بعد ’’دکھی انسانیت‘‘ کی خدمت کریں گے۔ ان کا یہ جذبہ برقرار تو رہتا ہے لیکن اپنا رنگ اور انداز تبدیل کر لیتا ہے یعنی وہ خدمت کے جذبے سے تو سرشار رہتے ہیں لیکن ان کا ’’دکھی انسانیت‘‘ کا معیار تبدیل ہو جاتا ہے۔ وہ خود کو ہی ’’دکھی انسانیت‘‘ تصور کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان ینگ ڈاکٹرز کو شاید اس حقیقت کا ادراک یا احساس ہی نہیں ہوتا کہ ان کی تعلیم و تربیت پر، ان کے والدین کے علاوہ ایک عامی کے خون پسینے کی کمائی کا کتنا حصہ خرچ ہوا ہے۔ یہ ینگ ڈاکٹرز خود کو سفید کوٹ میں ملبوس اور سٹیتھو سکوپ سے آراستہ کر کے یہ گمان کرتے ہیں کہ ان کو اپنی من مرضی کا حق حاصل ہو گیا اور وہ جس طرح بھی چاہیں مریضوں اور ان کے لواحقین سے پیش آئیں۔ اگرچہ سب ینگ ڈاکٹرز ایک ہی جیسے نہیں لیکن دیگ کے چند دانے ہی بتا دیتے ہیں کہ پکوان کا کیا معیار اور ذائقہ ہے۔ اس باب میں یہ تصور اور خیال بھی کسی اذیت سے کم نہیں کہ غریب قوم کے خرچ پر ڈاکٹری کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ’’دکھی انسانیت‘‘ کی خدمت کے دعویدار عام طور پر بیرون ملک نقل مکانی کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لئے عجلت اور بے تابی کا ایسا مظاہرہ کرتے ہیں جس پر بیک وقت حیرت اور افسوس کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے۔ ان ینگ ڈاکٹرزکو یہ بات وقت کے سوا کوئی نہیں سمجھا سکتا کہ وہ مستقبل میں سپیشلسٹ اور کنسلٹنٹ تو ضرور بن جائیں گے لیکن وہ اپنے ضمیر کے سامنے اس سوال کا جواب دینے سے قاصر رہیں گے کہ تم کیسے مسیحا ہو؟