24 اپریل 2019
تازہ ترین

تلاش نئے جہان کی   (10) تلاش نئے جہان کی (10)

1974 میں لاہور اسلامی سربراہ کانفرنس کے موقع پر امریکا، سوویت یونین اور بھارت میں شدید بے چینی پیدا دیکھنے میں آئی  جس کی وجہ یہ تھی کہ اگر خطے میں اسلامی بلاک وجود میں آ گیا تو وسائل کے معاملے میں پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کا امریکا اور مغرب پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ یہی وجہ تھی کہ اس کانفرنس کے چار ماہ بعد ہی بھارت نے راجستھان میں پوکھران کے مقام پر اپنا پہلا ایٹمی دھماکہ کیا جس کا مقصد صرف یہ پیغام دینا تھا کہ اسلامی ممالک جس پاکستان پر انحصار کرنے جا رہے ہیں، اس کا ہمسایہ ایٹمی قوت بھی ہے۔
لیکن 1974 اب قصہ پارینہ بن چکا کیونکہ آج کا پاکستان ناصرف اسلامی ممالک کی قیادت کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ ایٹمی قوت بھی ہے۔ اگر بھارت اور پاکستان کے پاس دفاعی استعداد کار کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان ناصرف ہر لحاظ سے حملہ کی صورت میں اپنے دفاع کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے بلکہ پاکستان کے پاس دنیا کی نمبر ون انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی موجود ہے جبکہ بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسی را دنیا میں آٹھویں یا دسویں نمبر پر شمار ہوتی ہے۔
بھارتی جارحیت کا جواب تو ہم نے 1965 اور 1971 میں بھی دیا تھا لیکن اس وقت دفاع اور انٹیلی جنس کے حوالے سے پاکستان اپنے دشمن سے نمٹنے کے لیے کیا کر سکتا ہے، اس کا اندازہ 27 فروری 2019 کو بھارت سمیت پوری دنیا کو اس وقت ہو گیا جب بھارت کے دو جنگجو جہازوں نے دوسری بار سرحدی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کی سالمیت پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی اور پاکستان کی مستعد اور ہمہ وقت تیار ائیر فورس کے شاہین سکواڈرن لیڈر حسن صدیقی نے دن کی روشنی میں دشمن کے دونوں جہازوں کو مار گرایا اور پاک فوج نے انڈین ونگ کمانڈر پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار بھی کر لیا۔
بھارت کی جانب سے پاکستان کا ایک ایف سولہ طیارہ مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا گیا لیکن اس دعوے کو کبھی ثابت نہیں کیا جا سکا۔
7 اپریل 2019 کو بھارتی فضائیہ کے ایئر وائس مارشل آر جی کے کپور کو ایک بار پھر اپنی پریس کانفرنس کے دوران اس وقت منہ کی کھانا پڑی جب وہ اپنے صحافیوں کے سامنے پاکستان کے ایف- 16 طیارے کو مار گرانے کا دعویٰ ثابت کرنے میں ناکام ہو گئے۔
تفصیل اس اجمال کی کچھ یوں ہے کہ 27 فروری کو پاک فضائیہ کی جانب سے 2 بھارتی طیارے مار گرائے جانے کے بعد بھارت نے بھی پاکستان کا ایف - 16 طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا لیکن بھارت کے اس دعوے کی قلعی عالمی میڈیا وقتاً فوقتاً کھولتا رہا۔ کچھ روز پیشتر امریکی جریدے ’فارن پالیسی‘ نے بھارت کے جھوٹ کا پول کھولتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایف - 16 طیارے گننے کی پیش کش کی تھی جس پر امریکی حکام نے طیاروں کی تعداد مکمل ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ سکواڈ میں سے کسی طیارے کے غائب نہ ہونے سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی پاکستانی طیارہ تباہ نہیں ہوا۔
عالمی سطح پر تسلیم کیے گئے شواہد کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار بھارت اپنے ملک میں اپنے ہی صحافیوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتا رہا لیکن بھارتی فضائیہ کا یہ سکرپٹ بھی ناکامی سے ہمکنار ہوا۔
بھارتی فضائیہ کے ایئر وائس مارشل آر جی کے کپور نے اپنی پریس کانفرنس میں ریڈار سے حاصل ہونے والی تصاویر دکھاتے ہوئے کہا کہ بھارتی پائلٹ ابھی نندن  کے سامنے پاکستان کے ایف - 16 طیاروں کا گروپ موجود تھا اور ایک ہی سکینڈ بعد دیکھا جا سکتا ہے کہ اس گروپ میں سے ایک پاکستانی جہاز غائب ہو جاتا ہے۔
بھارتی ایئر وائس مارشل نے مزید کہا کہ ہمارے پاس پاکستانی طیارے کے تباہ ہونے اور گرنے کے ٹیلی اور آڈیو شواہد بھی موجود ہیں تاہم ان تصاویر اور آڈیو شواہد کو سکیورٹی وجوہات کی وجہ سے عام نہیں کیا جا سکتا۔
پریس کانفرنس میں اس وقت دل چسپ صورت حال پیدا ہو گئی جب ایئر وائس مارشل صحافیوں کو عام سے سوالات کے جوابات دینےمیں ناکام رہے۔ ایئر وائس مارشل پاکستانی طیارے کے ملبے، طیارے کے گرنے کے مقام اور پاکستانی پائلٹ سے متعلق کسی بھی سوال کا جواب نہ دے سکے۔
لیکن یہی نہیں بلکہ بھارت نے ایف - 16 طیارہ مار گرانے کا جھوٹا دعویٰ بے نقاب ہونے کے بعد امریکی محکمہ دفاع کی رپورٹ کو بھی مسترد کر دیا اور ایک نیا موقف اختیار کیا کہ اس کے پائلٹ نے امریکا کے بجائے اردن سے حاصل کردہ پاکستانی طیارہ مار گرایا تھا لیکن بھارت اپنے اس دعوے سے متعلق بھی کوئی ثبوت فراہم نہیں کر سکا۔
اب جبکہ بھارت کے اپنے عوام اس نئے جھوٹ کا یقین کرنے کے لیے تیار نہیں تھے عین اسی وقت امریکی فارن پالیسی میگزین نے پاکستانی ایف - 16 طیارے کو مار گرانے کے بھارتی دعوے کو جھٹلاتے ہوئے کہا کہ پاکستانی طیارہ گرانے کا دعویٰ مشکوک ہے چنانچہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کو انتخابات سے ایک ہفتہ قبل اس وقت خفت کا سامنا کرنا پڑا جب امریکی میگزین نے پاکستانی ایف - 16 طیارہ مار گرانے کے بھارتی دعوے کو جھٹلا دیا۔
امریکا کے دو دفاعی اہل کاروں نے فارن پالیسی میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں بھارتی حکام کے دعوے کو جھوٹ کا پلندہ قراردیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پاکستان کا ایف 16 طیارہ مار گرانے کا صرف دعویٰ کیا تھا۔ پاکستان نے بھارتی دعوے پر امریکا کو اپنے ایف - 16 طیارے گننے کی پیش کش کی۔ امریکی حکام نے پاکستان کے ایف - 16 طیارے گنے اور تمام طیارے موجود ہیں۔ بھارتی مگ -21 کا ایف - 16 کو گرا دینا ناقابل یقین ہے جبکہ امریکی اہل کار کے مطابق ایف - 16 طیارے کسی ملک کے خلاف استعمال نہ کرنے کی کوئی شرط نہیں۔
ویسے تو ہر سطح پر ان دعووں کا مذاق اڑایا گیا لیکن ممتاز بھارتی موسیقار وشال ڈاڈلانی پاکستان کا ایف - 16 طیارہ گرانے کا جھوٹا دعویٰ کرنے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی حکومت پر باقاعدہ برس پڑے۔
وشال ڈاڈلانی نے اپنے ایک بیان میں  بھارت کی جانب سے پاکستان کا ایف - 16 طیارہ مار گرانے کے جھوٹے دعوے پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ امریکا نے پاکستان کے ایف - 16 طیاروں کی گنتی کی ہے اور وہ پورے ہیں۔        (جاری ہے)