23 ستمبر 2018
تازہ ترین

تصویر کاماتم تصویر کاماتم

نئی حکومت نے اقتدار سنبھال لیا ہے، نئے سرکاری دانشوروں نے ابھی منصب نہیں سنبھالے، یوں سابق  سرکار کے سرکاری دانشور اپنی اپنی جگہوں پر موجود ہیں، لیکن رویوں میں اور تجزیوںمیں تبدیلی کی واضح جھلک موجود ہ۔اس کا یہ مطلب بھی لیاجاسکتاہے کہ وہ پرانی تنخواہ پر نئی حکومت کے ساتھ نا صرف کام پر تیار ہیں بلکہ حسب ضرورت پرانی حکومت کی کارکردگی میں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر کیڑے نکالنے کا فریضہ بھی انجام دینے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرینگے۔ کچھ ایسے بھی ہیں جن کا حکومت کے آنے جانے سے مزاج تبدیل نہیں ہوتا، وہ مستقل مزاجی سے اپنی ڈگر پر قائم رہتے ہیں۔ اس قبیلے کے سرخیل چند روزہ حکومت کی جو سب سے بڑی خاص ڈھونڈ کر لائے ہیں اور شاید جاری زمانے کا سب سے بڑا قوم مسئلہ بھی یہی ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے عید کی نماز پڑھی یا نہیں ، اگر پڑھی ہے تو کہاں پڑھی ہے اور اپنی رہائش گاہ پر اپوزیشن راہنما شہباز شریف کے انداز میں پڑھی ہے تو اس کی تصویر جاری کیوں نہیں کی گئی۔
 مذکورہ دانشور نے جو سفید ونیلے ٹی وی چینل سے وابستہ ہیں، زور دے کر فرمایا کہ قیام پاکستان کے فوراً بعد پہلی عید کے موقع پر بانی پاکستان نے نماز عید ادا کی تو اس کی تصویر وفوٹیج جاری کی گئی جس کے بعد سے یہ دستور ہے کہ سربراہ مملکت کی اس فریضے کی ادائیگی کی تصویر قومی میڈیا کیلئے ضرور جاری کی جاتی ہے۔ ان کے پُرزور اصرار پر اگریہ تصویر جاری نہ کی گئی تو یہ نئی حکومت کی بہت بڑی ناکامی ہوگی اس سے جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوسکتاہے، کوئی بڑا آئینی بحران بھی جنم لے سکتاہے، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جب سے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا ہے وہ شلوار قمیض میں ملبوس نظر آئے ہیں، ایک روز انہوں نے شیروانی زیب تن کی جبکہ متعدد موقعوں پر وہ واسکٹ پہنے نظر آئے۔ ایک موقع پر وہ واسکٹ پہنے بغیر اسمبلی میں آئے اور انہوں نے کسی ملازم کی واسکٹ پہن کر تصویر بنوائی، ان کایہ طرز عمل بھی اپوزیشن کو پسند نہ آیا، محکمہ تعلقات عامہ کو چاہیے کہ وہ آنے والے ایام میں اس قسم کے واقعات کی روک تھام یا ان واقعات پر اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے راہنمائوں اور دانشوروں کی طرف سے اٹھنے والے اعتراضات کا بروقت ادراک کرتے ہوئے جوابی موقف تیار رکھے اور فوراً بذریعہ پریس کانفرنس مطلع کرے کہ معاملہ یوں نہیںیوں تھا۔ 
باخبر ذرائع کے مطابق آنے والے ایام میں  بعض سابق سرکاری دانشور اس اہم قومی مسئلے پر دست وگریبان نظر آسکتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان جو شلوار سوٹ پہنتے ہیں اس کی شلوار میں کمربند ہوتاہے یا لاسٹک ڈالا جاتاہے ،اگر کمر بند ہوتاہے تو اس کے فوائد اور نقصانات کیاہیں،لاسٹک ڈالا جاتاہے تو اس صورت میں حکومت کوکیا کیا مسائل درپیش ہوسکتے ہیں۔ عین ممکن ہے ٹی وی ناظرین اور اخبارات کے قارئین کو یہ بحث بھی میڈیا پر نظر آئے کہ وزیراعظم گھیردار شلوار پہنتے ہیں یا بیلٹ والی شلوار استعمال کرتے ہیں۔بیلٹ والی شلوار عموماً خواتین استعمال کرتی ہیں لیکن کچھ سمجھدار مرد بھی اس فیشن کو اپنا چکے ہیں، بالخصوص وہ مرد جو خود جہاں بھی جائیں ان کا پیٹ ان سے پہلے وہاں پہنچ جاتاہے، فلمی مردوں میں بیلٹ والی شلواروںکا استعمال بہت پرانا ہے جبکہ پنجابی فلموں کے ہیرو اور ہیروئن دونوں بیلٹ والے لاچے استعمال کرتے ہیں۔
شلوار میں کمربند ڈالنے والے خواتین وحضرات کے سر پر ایک خطرہ ہمیشہ تلوار کی طرح لٹکتا رہتاہے وہ زندگی کے معاملات میں کتنے ہی محتاط کیوں نہ ہوں، ایک نہ ایک روز یہ خطرہ ان کے سامنے آ کھڑا ہوتاہے کسی بھی روز کسی بھی تقریب میں کوئی بدترین مخالف یا سیاسی مخالف آکر اطلاع دیتاہے کہ جناب آپ کا کمربند لٹک رہاہے اسے سنبھالیے،یہ اطلاع رازداری کے ساتھ کان میں نہیں بلکہ بھرے مجمعے میں بآواز بلند دی جاتی ہے تاکہ آس پاس موجود لوگوں کو باور کرایاجاسکے کہ جو شخص اپنا لٹکتا ہوا کمربند نہیں سنبھال سکتا، وہ کچھ بھی نہیں سنبھال سکتا۔ایک سابق وزیراعظم شلوار قمیض پہننے کے بہت شوقین تھے ان کی خوش لباسی بہت مشہور تھی وہ لباس کے معاملے میں بہت محتاط واقعہ ہوئے تھے لیکن گھر میں ان کا کمربند اکثر لٹکتا پایاگیا، وہ تیار ہوکر باہر جانے سے پہلے اپنی بیگم سے ملنے آتے تو وہ انہیں بتاتیں کہ آپ کا کمربند لٹک رہاہے، اسے سنبھالیے جس پر وہ ، اوہ ہو، کہہ کر اسے سنبھالتے، بعض ایسے موقع پر بھی آئے، جب ان کی بیگم ملک سے باہر تھیں ایسے نازک لمحوں میں انہیں بتانے والا کوئی نہ تھا کہ ان کا کمربند لٹک رہاہے اس طرح وہ تمام دن ہاتھ لٹکائے اور کمربند لٹکائے پھرتے رہے، شام کو گھر پہنچے تو دروازے پر ننھی نواسی نے انہیں روکا اور بتایا کہ نانا ابو آپ کا کمربند لٹک رہاہے۔
ایک دور ایسا بھی گزرا ہے جب بوسکی کی قمیض کے ساتھ سفید براق لٹھے کی سرخ ڈوروں والے شلواریں بہت زیادہ ان فیشن تھیں ان شلواروں میں سرخ رنگ کے ریشمی موٹے موٹے اور لمبے لمبے کمربند ڈالے جاتے تھے، سستی ترین کنوینس سائیکل ہوا کرتی تھی، سائیکلوں پر سوار دوستوں کی ٹولیاں عید شبرات پر سیر کیلئے نکلتیں تو سرخ کمر بند قمیض کے نیچے سے نکل کر ہوا میں لہراتے نظر آتے، کوئی کسی کو نہ کہتاکہ آپ کا کمربند لٹک رہاہے، اسے سنبھالیے، یہ اس دور کا فیشن تھا جبکہ نوجوان لڑکیاں سرخ پراندہ استعمال کرتی تھیں، سہیلیاں دوپٹہ کمرسے باندھ کربانہوں میںبانہیں ڈال کر گول دائروں میں گھومتیں تو سرخ پراندے ہوا میں لہراتے، اس کھیل کو کیکلی کہتے تھے، وقت کیا بدلا بہت کچھ بدل گیا، اب نہ کوئی سرخ پراندہ پہنتاہے نہ کوئی سرخ ڈوروں والی شلواروں میں سرخ کمربند ڈالتاہے اب تو میلے لٹکتے نالے نظرآتے ہیں یا سیاہی مائل پانی سے بھرے ابلتے نالے۔
کہتے ہیں لاہور، لندن وپیرس بن گیاہے ہم نے لندن و پیرس میں یہ دونوں چیزیں نہیں دیکھیں، نہیں معلوم ابھی قسمت میں کیا کیا دیکھنا لکھاہے، خواہش ہے کہ ہم گم شدہ پاکستان دیکھ سکیں، پیار امن ومحبت کا گہوارہ پاکستان، جہاں حکمران عام شہری کی طرح بودوباش اختیار کرے تو اس کی تعریف ہو اس پر طنز نہ ہو، اچھے کاموں پر  طنز زندگی نہیں درندگی ہے، نماز خدا کیلئے ہے تشہیر ضروری نہیں۔تصویر کا ماتم ختم ہونا چاہیے۔