تشدد کی بجلیاں،بہادر اور اولوالعزم اکالیوں پر تشدد کی بجلیاں،بہادر اور اولوالعزم اکالیوں پر

(16 ستمبر1923 ء کی تحریر ) 
جیتو منڈی میں تشدد کا جو محشر برپا ہو رہا ہے، جو گرفتاریاں ہو رہی ہیں، جو زد و کوب جاری ہے اور جس قسم کے دہشت انگیز طریقے اختیار کئے جا رہے ہیں وہ دفتری حکومت کیلئے شرمناک ہیں۔ پربندھک کمیٹی نے اس پرامن جنگ کو بھی کامیابی تک پہنچانے کا عزم مصمم کر لیا ہے۔ خدا جانے اس کا انجام کیا ہو مگر ہم اتنا کہے دیتے ہیں کہ فتح صداقت اور اولوالعزمی کی ہوگی جس کا نام و نشان تک دفتری حکومت کے نامہ اعمال میں نہیں ہے اور جس سے ایک ایک اکالی کا ضمیر مالامال ہو رہا ہے۔
سری مہاراجہ رپودمن سنگھ بہادر (معزول والیِ نابھہ‘‘ کی ہردلعزیزی کا اس سے زیادہ ثبوت کیا ہوگا کہ نابھہ اور دوسری ریاستوں کے لوگ بھی ان کی یاد کا تیوہار منانے کے سلسلے میں سربکف ہو کر قید و بند کیلئے طیار نظر آتے ہیں۔ پنجاب کے تمام مقامات پر تو سکھ بھائیوں نے محض جلوس، نگر کیرتن اور دیوانوں کے انعقاد ہی سے مہاراجہ صاحب کی خدمت میں عقیدت کے پھول پیش کئے لیکن رعایائے نابھہ نے جو اپنے عزیز و محبوب حکمران کی جدائی میں بے قرار ہے صرف انہی باتوں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ 9 ستمبر کو نابھہ کے شہر میں مکمل ہڑتال تھی اور تمام لوگوں نے مہاراجہ صاحب کی معزولی کیخلاف احتجاج کے طور پر اپنے کاروبار بن کر رکھے تھے۔
ہمارے بعض دوست جن کا یہ دعویٰ ہے کہ نابھہ کی رعایا علیٰ العموم مہاراجہ صاحب کو ناپسند کرتی تھی یا ان کے مفروضہ مظالم سے نالاں تھی اہلِ نابھہ کے اس مظاہرہ کی خدا جانے کیا توجیہہ کریں لیکن ہمیں تو صاف نظر آ رہا ہے کہ اہلِ نابھہ کے دلوں میں مسٹر اوگلوی اور ان کے خواجہ تاشوں کی مستبدانہ حکومت کے مقابلے میں مہاراجہ صاحب کے ظلِ عاطفت کی قدر و وقعت بہت زیادہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کونسلوں کا قضیہ اور جمعیۃ العلماء
ہندوئوں اور مسلمانوں کے موجودہ افتراق نے ہندویت کے نہایت عجیب و غریب خصایص کے چہرے سے نقاب اٹھا دیا ہے۔ منجملہ ان خصایص کی ایک یہ خصوصیت بھی ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے جو تحریک ہواس کی فی سبیل اللہ مخالفت کی جائے اور ہمیشہ ایسے کلمات استعمال کئے جائیں جس سے ان کے دلوں کو صدمہ پہنچے۔ چنانچہ ابھی کل کی بات ہے کہ کیسریؔ، لالہ شام لال کپور کا کیسریؔ حکومت ہند کو مشورہ دے رہا تھا کہ وہ اطالیہ کی شانِ خودداری کو ملحوظ رکھتے ہوئے افغانستان کو الٹی میٹم دے کیونکہ ’’ظالم سرحدیوں‘‘ نے اسی طرح دو برطانی افسروں کو قتل کر ڈالا جس طرح کہ یونانیوں نے اطالوی وفد کے ارکان کو قتل کر ڈالا ہے۔ بندےؔ ماترم اتنی زبردست مہموں کا تو ابھی اہل نہیں ہوا لیکن حتی المقدور وہ بھی اس میدان میں اپنے بھائیوں کی امداد کرتا رہتا ہے۔ چنانچہ پرسوں کی اشاعت میں اس نے سوامی شردھا نند کو مشہور ’’وطن پرست‘‘ کا خطاب دیا تھا۔ کل کی اشاعت میں وہ اس بات پر بگڑا ہے کہ کونسلوں کے متعلق کانگرس کے فیصلے کو جمعیۃ العلماء کے فتوے سے قطعاً متاثر نہیں ہونا چاہئے۔ ہم پہلے یہ ظاہر کر چکے ہیں کہ ہم کانگرس کو جمعیۃ العلماء کے ماتحت نہیں رکھنا چاہتے لیکن اگر وہ تئیس کروڑ ہندوئوں اور دوسرے ہندوستانی بھائیوں کی طرح آٹھ کروڑ مسلمانوں کو بھی نمایندہ ہے تو اسے کوئی ایسا فیصلہ نہیں کرنا چاہئے جو جمعیۃ العلماء کے متفقہ فتوے کے خلاف ہو۔ جمعیۃ العلماء نے کانگرس سے پیشتر کونسلوں میں جانے کی ممانعت کا فتویٰ دیا تھا اور وہ فتویٰ اس وقت تک قایم ہے۔ پھر اگر کانگرس آج کوئی ایسا فیصلہ کرے گی جو اس فتوے کے خلاف ہو گا تو وہ آٹھ کروڑ فرزندان توحید کے دین کی توہین کا موجب ہوگی اور اسے قطعاً یہ حق حاصل نہ ہوگا کہ اپنے فیصلوں کو ناطق سمجھے۔حکومت برطانیہ کیخلاف ہماری سب سے بڑی شکایاتِ دینی میں سے ایک شکایت یہ بھی ہے کہ اس نے ہمارے علما ءکے فتوے کی توہین کی۔ اگر کانگرس نے جمعیۃ العلماء کے فتوے کا احترام ملحوظ خاطر نہ رکھا تو ہمیں وہی شکایت کانگرس سے پیدا ہو جائے گی۔ یہ ایک ایسی صاف اور کھلی ہوئی بات ہے جس سے بندےؔ ماترم کا ناواقف ہونا نہایت تعجب انگیز ہے۔
آج ہم کو سنایا جاتاہے کہ اگر علما ءکو سیاسیات میں دخل دینے کا موقع دیا گیا تو ہندوئوں کے پنڈت، سکھوں کے گرنتھی اور عیسائیوں کے پادری بھی دخل دیں گے اور سب آپس میں لڑ پڑیں گے۔ لیکن جمعیۃ تو گزشتہ تین چار سال سے قایم ہے اور اس کا فتویٰ سب کے نزدیک مسلم ہے۔ کیا پنڈت یا عیسائی کا بھی کوئی مذہبی فتویٰ جاری ہوا؟ یا ان کی بھی کوئی جمعیۃ تھی؟ پھر سمجھ میں نہیں آتا کہ آج جمعیۃ کے فتوے کی آبرو زائل کرنے کیلئے کیوں ایسے بے بنیاد اور لغو غدر تراشے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہی کہ ہندوئوں کیلئے کونسلوں میں جانا حرام نہیں ہے اور نہ عیسائیوں کیلئے اس لئے وہ کیوں علما کے فتوے کی پابندی کریں۔ یہ صحیح ہے کہ لیکن جب مسلمانوں کے علما اسے ممنوع قرار دے چکے ہیں تو مسلمان کس طرح فیصلہِ شرکت کو تسلیم کر سکتے ہیں۔ پھر ہندوئوں کو تو کل ہوش آیا کہ کونسلوں پر قبضہ کرنا چاہئے اور اس کے خاص وجوہ ہیں جنہیں ہم ابھی ظاہر کرنا نہیں چاہتے البتہ اجلاس خاص کے بعد بتائیں گے۔     (جاری ہے)