20 ستمبر 2019
تازہ ترین

ترجمہ اور سماجی ہم آہنگی ترجمہ اور سماجی ہم آہنگی

کسی کا دعویٰ ہے کہ ہمارا زمانہ علم وتحقیق کا ہے، کوئی کہتا ہے یہ عہد تہذیب و تمدن کا ہے، کوئی نعرہ بلند کرتا ہے ہمارا زمانہ علوم و فنون کی کثرت کا ہے، کوئی اعلان کرتا ہے کہ یہ زمانہ اختراعات و ایجادت کا ہے۔ بلاشبہ آج زندگی کے ہر شعبے میں ترقی کے آثار نمودار ہیں مگر اس دور میں جو شے اوروں سے زیادہ ممتاز اور نمایاں ہے، وہ ترجمہ ہے۔ اس لیے آج کے دور کو ’’دور ِتراجم‘‘ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ اس دور کی تصنیف و تالیف ترجمے کے رنگ میں ڈوبی ہوئی ہے۔
 تراجم کا عمل انسانی تمدن، مزاج اور تاریخ کی دریافت اور شناخت کا بھرپور ذریعہ ہے۔ انسان جو رنگوں، زبانوں، جغرافیائی بندشوں اور سیاسی تفرقات کی بدولت انسان ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہے۔ ترجمے کے ذریعے ایک زبان کو اپنی زبان کے حروف تہجی میں ڈھالنے سے انسانی سطح پر ایک دوسرے سے تعارف حاصل ہوتا ہے۔ عام طور پر ہمارا غیر ملکی دنیا سے تعلق صحافتی اور اخباری سطح پر ہوتا ہے۔ یہ معلوماتی طور پر افادی تو ضرور ہے لیکن وہاں کے جمہور کے مزاج، تمدن اور زندگی کے ذہنی و جذباتی رنگ و آہنگ کی خبر یہ نہیں دیتا۔ چنانچہ انسانوں کا اردگرد کی دنیا سے جذباتی اور ذہنی سطح پر سماجی ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ترجمہ ہی ایک وسیلہ ہے جو محض خبر ہی کا ذریعہ نہیں بنتا بلکہ انسانوں میں اشتراک کا قرینہ بھی پیدا کرتا ہے۔ زبان کی توسیع، تمدن کے تعارف، انسانی کائنات کی دریافت اور تاریخ کے وقوف کے لیے ترجمہ ہی سب سے اہم ذریعہ ہے۔
ترجمے کی اسی اہمیت کے پیش نظر ہر سال 30ستمبر کو ’’ترجمے کا عالمی دن‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ 30ستمبر مترجمین کے روحانی پیشوا، بائبل کے مترجم سینٹ جیروم کا یوم وفات ہے۔ مترجمین کی عالمی فیڈریشن جو 1953ء میں قائم ہوئی اسی کے زیر اہتمام یہ دن منایا جاتا ہے۔ باقاعدہ طور پر یہ دن1991ء سے منایا جا رہا ہے تاکہ دنیا بھر کے مترجمین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہو اور ان کوششوں کی قدر افزائی کی جا سکے اور ترجمہ کی اہمیت اجاگر ہو، عالمی یوم ترجمہ کی تقریبات کا مقصد دنیا بھر میں موجود مترجمین کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی کو فروغ دیناہے۔ 
جامعہ گجرات کامرکز السنہ و علوم ترجمہ جو 2012ء میں قائم ہوا، انہی مقاصد و عزم کاعلمبردار ہے اور2012ء سے یونیورسٹی آف گجرات میں یوم ترجمہ ہر سال علمی و فکری جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے ۔ اسی مرکز السنہ و علوم ترجمہ کے زیر انتظام چلنے والے ’’دارالترجمہ ‘‘ نے اس سال بھی عالمی یوم ترجمہ کے حوالے سے آگاہی واک کرنے کے ساتھ ساتھ ’’ترجمہ اور سماجی ہم آہنگی‘‘کے موضوع پر فکر انگیز سیمینار کا انعقاد بھی کیا جس کی صدارت ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم وائس چانسلر یونیورسٹی آف گجرات نے کی جبکہ نامور دانشور جناب احمد جاوید مہمان خصوصی اور مقتدرہ قومی زبان کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور سربراہ پورب اکادمی ڈاکٹر صفدر رشید مہمان اعزاز تھے۔ پروفیسر ڈاکٹر صاحبزادہ احمد ندیم، پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال بٹ اور ماہر تعلیم انجم گیلانی نے خصوصی شرکت کی۔
سربراہ دارالترجمہ جامعہ گجرات ڈاکٹر غلام علی نے استقبالیہ کلمات میں کہا کہ دورحاضر کی عالم گیر صورتحال میں ترجمہ کی اہمیت دو چند ہو چکی ہے۔ ترجمہ اصلاً تہذیبی و ثقافتی مکالمہ ہے جو نا صرف لسانی تنوع کو اجاگر کرتا ہے بلکہ افکار و نظریات کے باہم تبادلہ کے ذریعے ملکی سالمیت کا باعث اور سماجی، سیاسی اور ثقافتی سطح پر عمل ترجمہ پہلو دار اہمیت کا حامل ہے۔ ڈاکٹر صفدر رشید کا کہنا تھا کہ ترجمہ لسانی تعصب کو ختم کرتے ہوئے مختلف قومیتوں میں باہمی اتحاد و ہم آہنگی کی فضا کو پروان چڑھاتا ہے۔ پاکستان جیسے کثیر اللسانی ملک میں ہم آہنگی ،برداشت اور رواداری کے جذبات کو مہمیز کرنے کے لیے علوم ترجمہ او ترجمہ نگاری کا فروغ لازم ہے۔ دانشور و مفکر جناب احمد جاوید جنہیں فلسفے کو پانی کر دینے کا فن خوب آتا ہے، نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علمی تراجم کی باضابطہ اور مربوط تحریک سماجی ہم آہنگی کے لیے ناگزیر ہے ۔ نسل انسانی کے افکار و نظریات میں تنوع نظام ہستی کی خوبصورتی کا مظہر ہے۔ انسان بذات خود ایک تہذیبی وجود ہے۔ ایک اجتماعی وجود کی تشکیل کے لیے انفرادی طور پر انسانی کاوشیں لازم ہیں۔ علمی و ادبی تراجم تہذیب و ثقافت کی باہمی تفہیم اور سماجی حدود کی وسعت میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے انسان دوستی کا درس دیتے ہیں۔ احمد جاوید نے علمی و ادبی تراجم کی سماجی وثقافتی اہمیت پر ورشنی ڈالتے ہوئے مزید کہا کہ انسانی تہذیب کے ارتقا میں وحدت و تنوع کے مظہر نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ سماجی ہم آہنگی کے اصول کی دریافت کے لیے وحدت و کثرت میں مطابقت پیدا کرنا ضروری ہے۔ پاکستان نسلی ولسانی تنوع کی حامل ایک قومی وحدت ہے۔ پاکستان کے مختلف صوبوں اور لسانی گروہوں میں سماجی ہم آہنگی کے لیے تہذیبی و ثقافتی تراجم ناگزیر ہیں۔ کمال ادارک اور حسن اظہار ترجمہ کے عمل میں ممدومعاون ہوتے ہیں۔ سماجی ہم آہنگی اصلاً امن کار استہ ہے۔ ترجمہ کا عمل تہذیبوں، قوموں اور ثقافتوں کے مابین رواداری اور برداشت کو فروغ دیتے ہوئے انسانیت کے تقدس کو بحال کرتا ہے۔ سماجی ترقی کا شعور ہی قوم کو کئی ممکنات سے ہمکنار کرتا ہے۔ 
جامعہ گجرات کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم نے صدارتی خطبے میں کہا کہ نسل انسانی کو باہمی افہام و تفہیم اور ہم آہنگی کی جتنی آج ضرورت ہے ، شاید پہلے کبھی نہ تھی۔ سماجی ہم آہنگی کے کئی ذرائع ہیں۔ فن ترجمہ ان ذرائع میں اہم ترین ذریعہ ہے۔ ترجمہ کو انسانی تہذیب کے اوائل سے ہی ایک خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ انسانی تہذیب کے ارتقا کے ساتھ ساتھ ترجمہ کی خوبی اور وسعت میں بھی اضافہ ہوتا رہا۔ اب ہمارے دور تک پہنچتے پہنچتے ترجمہ باقاعدہ فن اور علم کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ یہ صرف بین الزبانی سرگرمی نہیں رہا بلکہ اس کی تعلیمی و تدریسی اہمیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ جامعات علم کے تدریجی ارتقا اور نئے علوم و فن کی نمو کے ادارے ہیں۔ جامعات تراجم کے اداروں کی سرپرستی کرکے اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ڈاکٹر صاحبزادہ احمد ندیم، ڈاکٹر محمد اقبال بٹ، ڈاکٹر ریاض احمد مانگریو، ڈاکٹر کنول زہرا، پروفیسر راشد بٹ، ڈاکٹر شفقت محمود سمیت طلبہ و طالبات نے فکر انگیز سوالوں اور جناب احمد جاوید کے خیال افروزجوابات نے سیمینار کی افادیت کو دوچند کر دیا۔ 
سماجی ہم آہنگی دراصل سماجی انصاف سے جڑاہوا تصور ہے اور ایسا صرف معاشرہ کے تمام طبقات کے مابین باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ فن ترجمہ سماجی خلیج کوپاٹنے اور معاشرہ و سماج کے ہر طبقے کو بنیادی حقوق کے شعور سے آگاہ کرتے ہوئے سماجی ترقی کے نئے دروا کرتا ہے۔ فکری حوالے سے ’’سماجی ہم آہنگی‘‘ کا تصور سیاسی و سماجی جہت کا حامل ہے۔ دنیا کی ہر ثقافت اور اسکے زمانی مظاہر میں سماجی ہم آہنگی کا ایک مخصوص تناظر اور بیانیہ پایا جاتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ بیانیے کی تشکیل ان مختلف النوع عناصر سے ہوتی ہے جو کسی مخصوص سماج کا تانا بانا تشکیل دیتے ہیں ۔ عصر رواں میں ابلاغ کی تیز رفتاری اور گلوبلائزیشن کے نتیجے میں بین الثقافتی اور بین التہذیبی ابلاغ کے نتیجے میں سماجی ہم آہنگی کا عالمی بیانیہ بھی تشکیل پایا ہے جسے عالمی امن کی طرف اہم قدم قرار دیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں ترجمہ کاری، ترجمہ نگاری اور علوم ترجمہ کی طرف غور سے رجوع کریں تو یہ دلچسپ انکشاف بھی ہوتا ہے کہ کسی سماج کی داخلی ہم آہنگی اور عالمی سماج کی تشکیل ، دونوں محاذوں پر ترجمہ فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ ترجمہ کاری مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے درمیان ابلاغی رشتہ قائم کرنے کا عمل ہے۔ یہ ابلاغ بیانیے کی جنگ بھی ہو سکتا ہے اور اسے کلامیہ کی تشکیل کا عمل بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اور یہ بین الثقافتی اور بین التہذیبی مکالمہ کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے۔ ترجمہ کے عالمی دن کے حوالے سے جامعہ گجرات کے مرکز السنہ و علوم ترجمہ نے اس عظیم تہذیبی مظہر کو سمجھا اور جامعہ گجرات کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ ترجمہ اور اس کی اہمیت پر سنجیدہ غور و فکر کے ساتھ اسے پاکستان کی ثقافت کی مضبوطی ،سماجی ہم آہنگی کی تشکیل اور علمی و فکری انقلاب کے ایک سنگ میل کے طور پر لیا جا رہا ہے