تاریخ کا اندھا موڑ تاریخ کا اندھا موڑ

اسے وقت اور حالات کا جبر کہیں یاتاریخ کے دہرانے کا عمل، ہم امیدپرستوں کی یہ بستی ایک بار پھر سنگین موڑ پر آن کھڑی ہے۔ خاکم بدہن یہ ایسا اندھا موڑ ہے جس کے اگلی طرف کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگلے سفر کا اندازہ صرف اس کو ہو سکتاہے جو اس موڑ سے گزرا ہو یا پھر اس سے بھی آگے راستے کی پتھریلی ناہمواریاں بھی دیکھی ہوں، اسے ڈھلوانوں اور کھائیوں کا بھی پتا ہو۔ ہم ایسے پچھلی سے بھی پچھلی صف میں کھڑے مجاہدوں یا پھر گھڑ سواروں کی اڑائی ہوئی دھول یا دھند میں چلنے والے مسافروں کو بھلا اس کی کیا خبر؟ اس اندھے موڑ سے آگے کی مسافت کیا ہوگی، نہ کوئی اندازہ نہ قیاس؟؟ ہم ایسے مسافرو ںکے پاس ماضی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ وہ بس ماضی میں جھانکتے اور بس اس کو کریدنے کی کوشش کرتے ہیں، ان سنگین اور نازک لمحات کی تصویریں بناتے اور پھر ان کے خد و خال سے مستقبل کے ممکنہ چہرے بناتے ہیں۔
لوگ کہتے ہیں ماضی کے خد و خال کی ترتیب سے ہی مستقبل کی نشاندہی ہوتی ہے اور جب اجتماعی شعور کی رسائی اور دسترس کے نتائج بھی سامنے رکھے جائیں، اپنی غلطیوں اورکوتاہیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے دشمنوں کی سازشوں اور الزام تراشیوں میں پناہ ڈھونڈی جائے مستقبل کے محفوظ راستے تلاش نہ کئے جائیں بلکہ خود کو ایک گمراہی کے بعددوسری گمراہی کا قیدی بنا لیا جائے تو پھر بہترین نتائج کی امید رکھنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ایسی قوموں کے سامنے ایک کے بعد دوسرا سنگین موڑ آنا کچھ عجیب نہیں۔ لیکن افسوس وہ جو قائد ہیں یا جنہوں نے قیادت اور سیادت کا ذمہ خود اپنے ہاتھوں لیا ہوا ہے عوام کے اجتماعی شعور کو اس قابل نہیں سمجھتے صرف اپنی مجلس شوریٰ یا حلقہ احباب کو ہی عقل و فہم کی انتہا سمجھتے ہیں۔ وہ ماضی کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے رہنمائی کشید نہیںکرتے حالانکہ اب اس سچائی کو ہر کسی 
نے تسلیم کر لیا ہے کہ تاریخ دہرانے کیلئے نہیں سبق حاصل کرنے کیلئے ہوتی ہے بلکہ تاریخ اسی لئے لکھی اور پڑھی جاتی ہے کہ اسے بار بار دیکھا اور سمجھا جائے اور پھر ماضی کی غلطیوں کا تجزیہ کر کے ان سے بچتے ہوئے مستقبل کی راہیں استوار کی جائیں۔ لیکن افسوس آج تک کسی نے بھی ایسا نہیں کیا جس کے ہاتھوں میں کمانڈ ہوتی ہے، ذہن میں فیصلوںکا اختیار ہوتا ہے وہ ماضی سے سبق حاصل کرنے کے بجائے نئی تاریخ رقم کرتا ہے اور ہم ایسے اخبار نویس جو محض رپورٹنگ کرتے ہیں حال کے اس فیصلے کو بھی بروقت قرار دیتے ہوئے مستقبل کیلئے اہم اور ناگزیر قرار دینے لگتے ہیں۔ ہمیں پتا اس وقت چلتا ہے جب زمین پائوں کے نیچے سے سرک چکی ہوتی ہے۔ ہم اپنا جسمانی توازن برقرار نہ رکھتے ہوئے گہری کھائی میں گر چکے ہوتے ہیں۔
ویسے آپس کی بات ہے ایسا ایک بار نہیں کئی بار ہوا ہے لیکن ہم نے کوئی ’’بار نصیحت‘‘ نہیں اٹھایا، ہمیشہ خوش گمانیوں  اور خوش فہمیوں کے مصنوعی پودوں کے باغات لگا کر خود کو محفوظ بنایا۔ بلکہ اس دھرتی کے بیٹوں برگد اور پیپل کے درختوں کی کاشت کے بجائے کھجور کے درخت اس امید پر لگائے کہ ان سے ہمیں سایہ ملے گا مگر موسم کی تلخیوں کے باوجود ہمیںچھائوں نصیب نہیں ہو سکی۔ پھر ہم نے سوچا کہ اگر چھائوں نہیں تو کیا ہوا، پیٹ کو بھوکا نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ بھوکا پیٹ کفر کا گڑھ ہوتا ہے۔ اس میں منفی سوچیں پلتی اور ابلتی رہتی ہیں لہٰذا ایسے درخت برآمد ہونے چاہئیں جو بھوک مٹائیں۔ لیکن پھر بھی ہماری بدقسمتی آڑے آئی۔ وہ جو پھلدار درخت درآمد کئے گئے انہیں اس دھرتی نے قبول نہیں کیا۔ ہمارے امپورٹرز کو تو اس کے فوائد حاصل ہونے لگے مگر وہ جو بھوکے تھے انہیں کچھ حاصل نہ ہوا، وہ بھوکے تھے بھوکے ہی رہے۔ ہمارے پالیسی ساز اور فیصلہ کن اور بااختیار حکمرانوں کو ماہرین نے یہ نہیں سمجھایا یا پھر انہوں نے سمجھنے کی کوشش نہیں کی کہ ہر مٹی کی اپنی زرخیزی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ پودے ایسے ہوتے ہیں جو فطری عمل میں آگے بڑھتے ہیں اور ہر مٹی کی اپنی تاثیر اور ذائقہ ہوتا ہے۔ اگر وہاں مصنوعی پیداواری طریقے اختیار کئے جائیں تو اس سے پیداوار میں تو اضافہ ہو جاتا ہے لیکن اس میں مٹی کی تاثیر اور فطری ذائقہ نہیں ہوتا۔
سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارے ارد گرد امپورٹڈ پودوں کی کثرت ہے اور ہم ان سے سائیوں کے ساتھ پھلوں کی امید رکھے ہوئے ہیں حالانکہ یہ خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ بدقسمتی تو یہ بھی ہے کہ اس دھرتی کو ایک ’’تجربہ گاہ‘‘ بنا دیا گیا ہے جانے کتنے تجربے ناکام ہوئے پھر بھی دھرتی کی تاریخ تہذیب، ثقافت ، روایات اور اخلاقیات کا ادراک کسی بھی تجربہ میں شامل نہیں ہونے دیاگیا شاید اس لئے کہ وہ حکومت اور حاکمیت کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ بہت کچھ الٹ پلٹ سکتا ہے اس لئے نظریاتی تشکیل کے ساتھ درس و تدریس کی نہج بھی تبدیل کر کے رکھ دی لیکن پھر وہی  افسوس کی بات کہ ممکنہ اور متوقع نتائج 
حاصل ہونے کے بجائے گومگو کی کیفیت پیدا ہو گئی۔
بات ایک سمت کی نہیں، بے شمار سمتوں کی ہے۔ ہمارے سامنے کچھ بھی واضح نہیں۔ تمام مناظر دھند میں لپٹے ہوئے ہیں ہمارے سامنے الجھن ہی الجھن ہے۔ اسی کیفیت میں ہم ایک بار پھر اندھے موڑ پر آ گئے ہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا کہ ہمارا مستقبل کا سفر کیسے طے ہوگا۔ تحفظ اور بقا کی یہ تلخ مسافت کیسے طے ہوگی۔ اس سفر کی کٹھنائیاں اور ناہمواریاں کیسے عبور ہوں گی۔ وہ جو قیادت اور صیادت کے عہدے پر براجمان ہیں یا پھر جنہیں خوش نمائی کے باعث نمائش کیلئے پیش کیا گیا وہ سوائے ایک دوسرے پر الزام تراشی اور ماضی کی نوحہ گری کے کچھ نہیں کر رہے۔ انہیں مستقبل کی کوئی فکر نہیں شاید وہ حال کو ہی ذمہ داری سمجھے ہوئے ہیں۔ کل کیا ہوگا اس اندھے موڑ کے آگے کیا ہے، انہیں کوئی پروا نہیں۔ اس ملک کے بدقسمت اور مفلوک الحال عوام کی ضرورت کیا ہے، انہیں دو وقت کی روٹی نصیب ہوتی ہے یا نہیں۔ ملک خداداد میں ’’انسان نما‘‘ کیڑے مکوڑے خودکشیوں پر مجبور ہیں یا وہ استحصالی نظام تلے روندے چلے جا رہے ہیں تو کیوں؟؟ محلات کے مکینوں کو اس کی خبر نہیں۔ یا پھر وہ جان بوجھ کر غفلت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہم زندہ قوم ہیں لیکن ان کی بھی کچھ ذمہ داری ہے۔
کوئی بتلائو کہ ہم بتلائیں کیا
بقیہ: پس حرف