19 ستمبر 2018

تاریخ نویسی سرسیّد اور غالب تاریخ نویسی سرسیّد اور غالب

سرسیّد نے جہاں مذہبی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر لکھا ہے وہیں ان کی تاریخ سے دلچسپی بھی ان کی لکھی ہوئی کتابوں یا ایڈٹ کئے ہوئے مسودات سے ظاہر ہوتی ہے۔ ان کی ایک اہم کتاب آثارالصنادی ہے یہ دہلی کی پرانی عمارتوں کے بارے میں ہے۔ سرسیّد اور ان کا خاندان دہلی کے رہنے والے تھے اور اس کی عمارتوں اور گلی کوچوں سے ان کی محبت کے جذبات گہرے تھے۔ دہلی کی بہت سی تاریخی عمارتیں عہد سلاطین اور مغل عہد میں تعمیر ہوئیں تھیں۔ دورِ اقتدار میں تعمیر ہونے والی یہ عمارتیں اپنی شان و شوکت اور عظمت کا اظہار تھیں۔ مثلاً عہد سلاطین میں جب کوئی نیا خاندان اقتدار میں آتا تو اپنی شان کے لئے نئے محلات، باغات تعمیر کراتا اور پچھلے دور کی عمارتیں شکستہ اور خستہ ہو کر رفتہ رفتہ ویران ہو جاتی تھیں۔ حکمرانوں کے مقبرے اُجڑ جاتے تھے۔ عبادت گاہیں اور صوفیاء کے مزارات ضرور باقی رہتے تھے کیونکہ وہاں عبادت گزار اور مرید ان کا خیال رکھتے تھے۔
تاریخی عمارتیں اپنے اندر گزشتہ عہد کی یادداشتیں محفوظ رکھتے ہیں۔ اگر یہ خستہ ہو کر مٹ جائیں تو ان کے ساتھ ان کا اپنا عہد اور زمانہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔ سرسیّد نے اسی کو محسوس کرتے ہوئے دہلی کی قدیم اور تاریخی عمارتوں کی تفصیل لکھی۔ کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ ان عمارتوں کی حفاظت اور مرمت کے لئے کسی کی دلچسپی نہیں ہے۔ اس لئے اگر اُنہیں دستاویزات میں محسوس کر لیا جائے تو ماضی کی یادداشتیں ختم نہیں ہوں گی۔ اگرچہ وہ کوئی آثارِ قدیمہ کے ماہر اور تربیت یافتہ نہیں تھے۔ مگر انہوں نے ان عمارتوں کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہوئے نقشوں کے ساتھ ان کا جائزہ لیا۔ انہوں نے شاہ جہاں آباد کو دوبارہ سے زندہ کر کے خوبصورتی کے ساتھ اس کا نقشہ کھینچا۔ چاندی چوک اس کی چہل پہل اور اس کے کلچر کو گمشدگی سے نکال کر کتاب کے صفحات پر زندہ کیا۔
اس لئے ان کی یہ کتاب دہلی کی مسلمان اشرافیہ کے لئے ایک سبق تھا۔ یہ اشرافیہ جو اپنی پرانی عظمت کھو کر دہلی پر حملہ آوروں کے نتیجے میں آباد ہو گئی تھی اور اب برطانوی حکومت کی رعایا تھی اور ان شکستہ حویلیوں، ویران مقبروں اور اُجڑی گلیوں میں رہ رہے تھے۔ سرسیّد نے انہیں ان تاریخی عمارتوں کی تفصیل دے کر انہیں قدیم دہلی کی شان و شوکت کی یاد دلائی۔ شاید اس نے ان کے افسردہ دلوں کو کوئی اعتماد بخشا ہو۔
اس کے علاوہ سرسیّد نے اپنے نانا کی پُرسیرت مزید لکھی ہے۔ یہ مغل زوال کی کہانی ہے کہ جب بادشاہ اور شاہی قلعہ اور اس کے ملازمین غربت و مفلسی کا شکار تھے اور پرانی روایتوں اور ادب آداب کے درمیان اپنے ماضی کے بوجھ کے لئے زندہ تو تھا۔ مگر غم و الم دنیا میں بے مقصد زندگی گزار رہا تھا۔
ان کتابوں کے علاوہ سرسیّد نے تزکِ جہانگیری اور تاریخ فیروز شاہی کو ایڈٹ کر کے شائع کرایا۔ ان کے نزدیک ان کی کیا اہمیت تھی تاریخِ فیروز شاہی تو یقیناً عہد سلاطین کی ایک اہم کتاب تھی۔ کیونکہ یہ صرف خاندانوں کی تاریخ ہی نہیں ہے، بلکہ اس میں ان سماجی تبدیلیوں کا بھی ذکر ہے جو اس عہد میں واقع ہو رہی تھیں، معاشرے کے طبقاتی ڈھانچے میں اس وقت تبدیلی آئی۔ جب کاریگر اور ہنرمند طبقوں کے لوگ دولت مند ہوئے اور معاشرے میں اپنے لئے عزت و احترام کی جگہ پیدا کی۔ ضیاء الدین برنی، انہیں رذلیل اور کمینہ کہہ کر ان سے اپنی نفرت کا اظہار کرتا ہے۔ سرسیّد کے دور میں شاید اس کتاب کی اہمیت یہ رہی ہو کہ وقت کے ساتھ مغل اشرافیہ زوال پذیر ہو رہی تھی اور نچلے طبقے کے لوگ نئے ماحول میں تعلیم اور تربیت کے بعد معاشرے میں اہم مقام بنا رہے تھے۔ شاید سرسیّد کا پیغام یہ ہو کہ مسلمان اشرافیہ کو اپنے خول سے نکل کر نئے تقاضوں کے تحت خود کو تبدیل کرنا ہو گا۔ نفرت اور تعصب ترقی کا ذریعہ نہیں ہیں۔ تزک جہانگیری مغل بادشاہ کی زبانی اس کی اپنی کہانی ہے اور مغل تاریخ کا ایک اہم مآخذ ہے۔
لیکن سرسیّد کا ایک اہم کارنامہ ابوالفضل کی آئین اکبری ہے یہ کتاب اکبر کے نظامِ حکومت پر تفصیل کے ساتھ لکھی گئی تھی کہ کس طرح اکبر نے حکومت کے ہر شعبے کو منظم کیا اور اس کے قوانین بنائے۔ انہوں نے کتاب کے آخر میں مغل عہد کے جھنڈے اور موسیقی کے آلات کی تصاویر بھی خاص طور سے بنوا کر شامل کیں۔ انہوں نے مرزا غالب سے اس کتاب کی تقریظ لکھنے کو کہا۔ غالب نے لکھا تو سہی مگر سرسیّد کو مشورہ دیا کہ وہ مغل دور کے آئین و قوانین کے بجائے برطانوی حکومت کے طور طریق کو دیکھے اور ماضی کے بجائے مستقبل کی طرف توجہ دیں۔ اس پر سرسیّد ناراض ہوئے اور کافی عرصہ بعد ان کی یہ ناراضگی ختم ہوئی۔ مرزا غالب چونکہ شاعر تھے مؤرّخ نہیں تھے انہیں اس کا احساس نہیں تھا کہ ماضی، حال اور مستقبل پر کس قدر اثر انداز ہوتا ہے۔ کیونکہ خود انگریزی حکومت نے مغل دور کے انتظام کو سمجھنے کے لئے آئین اکبری کے کئی ترجمے انگریزی میں کرائے۔ اس کا سب سے اچھا ترجمہ ایک فارسی زبان کے جرمن عالم بلاخ من (Bloch Mann) نے کیا جو کلکتہ کے مدرسہ عالیہ کے صدر مدرس بھی رہے تھے۔ اس کتاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ اکبر نے حکومت کے ہر شعبے کو منظم کر کے انتظامِ سلطنت کو مستحکم کیا۔
جہاں تک مرزا غالب اور تاریخ کا سوال ہے تو بہادر شاہ ظفر نے انہیں مغل خاندان کی تاریخ لکھنے پر مامور کیا تھا۔ غالب کا کام محض یہ تھا کہ پرانی تاریخوں کے مواد کو لے کر اس کو نئے سرے سے اپنی زبان میں خوبصورت اسلوب میں لکھیں۔ اس میں انہوں نے نہ تو تحقیق کی اور نہ تاریخ کی کوئی تشریح اور نہ کوئی نئے مواد کا اضافہ کیا۔ یہ کتاب مکمل بھی نہ ہو سکی۔ 1857ء کے بعد اس کی ضرورت بھی نہ رہی۔ اس لئے تاریخ نویسی میں ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔