20 ستمبر 2019
تازہ ترین

تاریخ سے سبق کون سیکھے گا؟ تاریخ سے سبق کون سیکھے گا؟

ہمارے بعض نادان دوستوں کی طرح آپ بھی اختلاف کر سکتے ہیں کہ جمہوری حکومت میں بھی بھلا افواج کو بڑا بجٹ کیوں دیا جاتا ہے؟ مضبوط جمہوری حکومت میں افواج پر خرچ کیا جانے والا بجٹ کم کر کے عوامی فلاحی منصوبوں پر زیادہ توجہ دینی چاہیے لیکن میں جمہوری اور جمہوریت پسند ہونے کے باوجود اس سوچ سے اختلاف رکھتا ہوں کہ عسکری اداروں کے بجٹ میں کمی کی جائے۔ میرے مطابق عسکری بجٹ میں وقتاً فوقتاً اضافہ ہونا چاہیے اس لئے کہ موجودہ دنیاوی حالات اور مکار و نادان ہمسایہ ممالک کی موجودگی میں آزادی اور شان سے جینے کا واحد راستہ یہی ہے کہ ہمارے عسکری ادارے مضبوط اور مستحکم ہوں ورنہ (خاکم بدہن)کسی بھی طالع آزما کی منصوبہ بندی یا سازش سے ہمارا حال افغانستان، بوسنیا، فلسطین اور کشمیر جیسا نہ بھی ہو تو عراق، لیبیا، یمن اور مصر جیسا ضرور ہو سکتا تھا۔۔۔ ہم بہت سوں سے اچھے صرف اسی لئے ہیں کہ ہماری افواج ہر لحاظ سے دنیا کی ’’نمبر ون‘‘ عسکری طاقت تصور کی جاتی ہے۔
مملکت خدا داد پاکستان کی آزادی اور خود مختاری اپنے ایٹمی اثاثوں کے باعث نا صرف محفوظ ہے بلکہ کسی دشمن اور طالع آزما کو مملکت کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ اسے پتا ہے ردعمل ناقابل برداشت ہو سکتا ہے لہٰذا اگر کہا جائے کہ آزادی اور خود مختاری کے ساتھ چین سے جینے کی یہ قیمت بہت کم ہے تو بے جا نہ ہو گا جسے یقین نہیں، وہ محکوم مسلمانوں یا قوموں سے پوچھ کر اپنا ذہن صاف کر سکتا ہے۔پاکستان نے نا مساعد حالات میں عسکری طاقت کو پر عزم جوانوں، افسران، باصلاحیت سائنسدانوں اور ہنر مندوں کی معاونت سے ایسا فعال کیا کہ آج دنیا بھر میں امن کے قیام کیلئے جانے والی بہترین افواج کی کار کردگی بھی ’’پاکستان‘‘کے بغیر قابل فخر نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ اس کی تربیت ہی ملکی،خطے اور بین الاقوامی امن کے حصول کے نظریہ کو بنیاد بنا کر کی گئی ہے۔ پاکستان خطے ہی میں نہیں، دنیا کے کسی کونے میں بھی ’’ایڈونچر‘‘کا خواہشمند نہیں ، اس کے تمام عسکری اثاثے ملک و ملت کی امانت اور انکے تحفظ کی ضمانت ہیں مسئلہ صرف اتنا ہے کہ عسکری اور جمہوری ادارے اپنی اپنی حدود میں رہیں۔
ہمارے ہاں ماضی میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ جمہوریت کے چیمپئن بھی اپنی مدد کیلئے عسکری طاقتوں کو پکارتے رہے ہیں بلکہ ان کے ذمہ داروں نے از خود خطوط لکھ کر حکومتوں میں مداخلت کی راہ ہموار کی،یہی وجہ ہے کہ ہمیں ایک سے زیادہ مرتبہ آمریت کے مزے چکھنے پڑے۔دراصل دور ’’آمریت ہو یا جمہوریت‘‘ دونوں جانب سے ایک دوسرے کو فتح کرنے کا جذبہ کار فرما رہا، آمرانہ دورمیں آئین و قانون کو پاما ل کر کے مختلف ترامیم راتوں رات کر لی گئیں تو کم جمہوری ادوار میں بھی نہیں ہوا۔ ہر کسی نے اپنے اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے آئین کا حلیہ بگاڑا لیکن اداروں کی مضبوطی اور فعالیت کیلئے کبھی ’’پارلیمنٹ‘‘ کا سہارا نہیں لیا گیا۔ ہمارے منتخب ارکان ماضی میں ایسی مثبت ترامیم کر لیتے جن سے اداروں کے استحکام اور ’’مڈ بھیڑ‘‘کے معاملات سے بچا جا سکتا تو آج ایسی گو مگو کی صورت حال کا سامنا قوم کا مقدر نہ ہوتا۔ افسوسناک پہلو ہے کہ ہم بحیثیت قوم ’’وقت گزاری‘‘کے عادی ہیں اسلئے ہر حکومت نے صرف اپنا وقت گزارنے کے سوا کچھ نہیں کیا ۔نہ کبھی کسی کا ’’احتساب‘‘ہوا اور نہ ہی کسی کو اس کے کیے کی سزا ملی بلکہ آنے والی حکومتوں نے ماضی کے حکمرانوں میں کیڑے نکال کر قوم کو ’’سبز باغ‘‘دکھائے اور اپنے وجود کو ایسے تسلیم کرایا کہ قوم نے بلا سو چے سمجھے مٹھائی بانٹنے اور کھانے پر ہی اکتفا کیا۔ ہم نے ماضی سے سبق سیکھا اور نہ آئندہ سیکھنے کو تیار ہیں۔
’’ہم اور آپ‘‘بخوبی واقف ہیں کہ تاریخ کبھی عذر قبول نہیں کرتی ،اسے اس بات سے کوئی سرو کار نہیں کہ کیوں ہوا ؟کیسے ہوا؟وہ کامیابیوں کے ساتھ نا کامیوں کو بھی ہمیشہ کیلئے محفوظ کر دیتی ہے۔ اَب یہ دنیا میں بسنے والوں کی مر ضی کے وہ ان اوراق کی چھان بین کر کے ’’کامیابی اور ناکامی‘‘کی وجوہات تلاش کریں یا نہ کریں۔ ۔ تاریخ کی ورق گردانی کی جائے تو ہر کوئی اس راز کو جان جائے گا کہ کس حکمران کی تجوری بھری تھی اور کس کی خالی۔ یہی نہیں یہ بھی پتا چل جائے گا کہ کن شہنشاہوں کے تاج میں ہیرے جواہرات جڑے تھے یا ایسے کون سے بادشاہ تھے جن کے درباروں میں خوشامدیوں ، وظیفہ خواروں اور جی حضوری کر نے والوں کا جھر مٹ ہوا کرتا تھا۔ انہیں یہ بھی معلوم ہو سکتا ہے کہ جب انگریز اپنے اتحادیوں کے اشتراک سے بر صغیر پاک و ہند کے دروازے پر آن کھڑے ہوئے تھے اس وقت یہاں کے حکمران شراب و کباب اور رقص و سرور کی محفلوں میں مد ہوش پڑے تھے کیونکہ انہیں عیش و عشرت نے کہیں کا نہیں چھوڑا تھا۔ اسی طرح جب مغرب میں اسلامی علوم و فنون کے پس منظر میں خلق خدا کی بھلائی کے راستے تلاش کئے جارہے تھے تو اسلامی تہذیب و تمدن کے متوالے بے راہ روی کا شکار ہو کر ’’استاد تان سین‘‘کے نت نئے راگوں میں اپنا سکون تلاش کررہے تھے، خوبصورت دوشیزائیں اپنے رقص اور ادائوں کی وجہ سے حکمرانوں کی منظور نظر بن کر ایوانوں میں خصوصی احترام و انعام کا باعث تھیں۔ان ہی کرتوتوں نے ’’مغلیہ سلطنت‘‘ کو زوال پذیر کر دیا اور تاریخ ان کا تمسخر اڑاتے ہوئے غیر ملکیوں کی فتوحات کی گنتی کرنے میں مصروف ہو گئی۔ اس نے یہ شمار ہی نہیں کیا کہ مغلیہ بادشاہوں کے پاس کتنے محل،پوشاک،ہیرے جواہرات تھے یا ان کے خانسامائوں کو کس قدر لذیز پکوان بنانے آتے تھے۔
حقیقی اقتدار اعلیٰ یقیناً مالک کائنات ہی ہے وہ اپنے بندوں کو اقتدار اور اختیار دے کر آزماتا ہے کہ کون کتنے پانی میں ہے؟لیکن جنہیں اقتدار و اختیار کی نعمت کسی بھی بہانے ملتی ہے ان کے پائوں پھر زمین پر نہیں لگتے، وہ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں ان سے اچھا کوئی دوسرا نہیں۔ تصور کریں کہ جب زمانہ تحقیقی اور تجرباتی مراکز بنا رہا تھا تو ایک شہنشاہ دولت کا سہارا لے کر اپنی محبوبہ کی یاد میں ’’تاج محل‘‘بنوارہا تھا بھلا انسانیت کو اس ’’تاج محل‘‘سے کیا ملا ۔تحقیقی تجر باتی مراکز نے تو انسان اور انسانیت کو بچانے کیلئے سیکڑوں راستے ڈھونڈ لئے ۔مجھے اس موقع پر عباسی خلیفہ معتصم بااللہ کی بے بسی یاد آ گئی کہ ہلاکو خاں نے سادہ برتن میں کھانا کھاتے ہوئے جب اس کے سامنے سونے کے تھالوں میں ہیرے،جواہرات رکھ کر کھانے کا حکم دیا تو بغداد کا تاجدار بے چارگی میں بولا ’’میں کیسے کھائوں؟‘‘ہلاکو خاں نے فوراً کہا:پھر تم نے یہ ہیرے جواہرات جمع کیوں کئے تھے؟اگر تم یہ ہیرے جواہرات اپنے سپاہیوں میں تقسیم کر دیتے تو تمہارے سپاہی بہادری اور دلیری سے میری افواج کا مقابلہ کرتے کیونکہ ان کے پاس ہتھیار بھی ہوتے۔۔ خلیفہ نے سر جھکا کر جواب دیا ’’اللہ کی یہی مرضی تھی‘‘۔
ہلاکو خاں نے غصے میں جواب دیا’’ اور جو کچھ تمہارے ساتھ ہونے والا ہے وہ بھی اللہ ہی کی مر ضی ہو گی‘‘۔ پھر ہلاکو خاں نے مخصوص لبادے میں لپیٹ کر گھوڑوں کی ٹاپوں تلے اسے روند کر بغداد کو قبرستان بنا ڈالا ۔ تاریخ ایسے اَن گنت واقعات لئے بیٹھی ہے کہ شاید کوئی اس سے سبق حاصل کر کے اپنا اور اپنے بندوں کی بھلائی کا کوئی راستہ تلاش کرے لیکن ہم تو سقوط ڈھاکہ سے کچھ سیکھنے کو تیار نہیں تو تاریخی حقائق کا سامنا کس طرح کر سکتے ہیں۔ ہمیں تو ہر آنے اور جانے والا حکمران یہی دھمکی دیتا ہے کہ اس کے بغیر کچھ بہتر نہیں ہو سکتا بلکہ اگر اس کی راہ میں کسی قسم کی بھی رکاوٹ آئی تو خدا نخواستہ وطن عزیز کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے گا۔ حالانکہ سیکڑوں بلکہ ہزاروں شہر خموشاں اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ ماضی میں اس غلط فہمی کے شکار سب کے سب منوں مٹی تلے چلے گئے اور مملکت خدا داد قائم ودائم ہے اور یقیناً موجودہ دعویداروں کا انجام بھی کچھ ایسا ہی ہو گا۔
میں نے یہ مؤقف کیوں اختیار کیا اس کامطلب یہ ہرگز نہیں کہ مجھے فوج سے کوئی خصوصی محبت ہے۔ میں اس محبت میں اتنا ہی ملوث ہوں جتنا ہر پاکستانی کو ہونا چاہیے لیکن میں تمام اداروں کی بات کرتا ہوں کیونکہ جس ریاست میں قومی ادارے مستحکم نہ ہوں، وہاں ایسی ہی افراتفری پائی جاتی ہے جس کا شکار ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مملکت خدا داد پاکستان کو کیا جا رہا ہے۔بظاہر یہ اندرونی لڑائی دکھائی دے رہی ہے لیکن یقین جانیے ایسا نہیں، اس میں بھی بیرونی ہاتھ کار فر ما ہیں اور ہمارے نادان دوست اس صورت حال میں بھی خطرات کی بُو سونگھنے سے قاصر ہیں۔ وزراء کی فوج ظفر فوج پروٹوکول اور مراعات کے مزے لوٹ رہی ہے لیکن کوئی نہیں جانتا کہ ان کی وزارت میں کیا ہو رہا ہے اور کیا ہو نا چاہیے؟ کہتے ہیں’’محبت اور جنگ‘‘میں سب کچھ جائز ہے پھر بھی ہمارے منفرد لہجے کے شاعرمسرور انور کہا کرتے تھے کہ ’’محبت اور جنگ‘‘کے آئینی فارمولے پر مفاد پرستوں نے تر میم کرا لی ہے کہ ’’محبت ،جنگ اور پاکستان‘‘میں سب کچھ جائز ہے۔ آج آئین و قانون اور پارلیمنٹ کی موجودگی میں جو کچھ اور جس طرح ہو رہا ہے اس نے مر حوم مسرور انور کے تر میمی بل کی یاد تازہ کر دی۔ جو ہونا چاہیے اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں اور جو نہیں ہو نا چاہیے اسے فخریہ انداز میںپیش کرکے داد حاصل کی جا رہی ہے۔ خود کوئی تاریخ اور ماضی سے سبق سیکھنے کو رضا مند نہیں لیکن پوری قوم کو ’’سقوط ڈھاکہ‘‘سے ڈرا دھمکا کر ازلی دشمن کو نہ چاہتے ہوئے بھی خوش کیا جا رہا ہے اس ٹکرائو کے نتائج بھی اچھے نہیں دکھائی دے رہے۔ اچھے دنوں کے خواہشمند نجانے کیوں خوش نظر آرہے ہیں؟ہم لولی لنگڑی جمہوریت کو آمریت سے بہتر سمجھتے ہیں خواہ آمریت پارٹی کی ہو یا شخصی ہی کیوں نا ہو؟؟؟اس لئے کہ ایسی صورت حال میں ’’قومی سلامتی‘‘کے اداروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔