بیورو کریسی وینٹی لیٹر پر، ڈاکٹر غائب…؟ بیورو کریسی وینٹی لیٹر پر، ڈاکٹر غائب…؟

دیوانہ اپنے آپ سے تھا بے خبر تو کیا
کانٹوں میں اک راہ بنا کر چلا گیا
(باقی صدیقی)
تحریک انصاف کی حکومت ’’ٹامک ٹوئیاں‘‘ مار رہی ہے۔ اگلے چند ہفتوں میں انہیں ادراک ہو گا کہ حکومت ہوتی کیا ہے؟ فی الحال سب کے اپنے اپنے ’’پیج‘‘ ہیں۔ میں کئی وزارتوں کو ’’کور‘‘ کرتا ہوں، سب طرف یہی صورتحال ہے۔ ارباب شہزاد اور اعظم خان میں اختلافات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ اعظم خان بنیادی طور پر صاف شہرت کے آدمی ہیں۔ فواد کے چار یار ہر جگہ پر ہیں، وہ بیورو کریسی میں ہر جگہ پر اپنا ’’کھونٹا‘‘ گاڑھ گیا ہے۔ وہ لوگ جو (ن)لیگ کے دور میں ذلیل ہو رہے تھے۔ اب ان کے حالات ویسے تو نہیں رہے اور بدتر ہو گئے ہیں۔ ایک سیکرٹری دوست سر پکڑے بیٹھے تھا، ان کی پوری وزارت میں اس کے موضوع کو سمجھنے والا افسر نہیں ہے۔ ایک تھا، وہ کورس پر چلا گیا، نیچے وہی ڈائریکوریٹس اور ان کے گھاگھ ڈی جی ہیں۔ وہ ایک تجربہ کار ایڈیشنل سیکرٹری لے کر آنا چاہتے تھے مگر اس کی فائل پر خاقان عباسی اپنے ’’آقاؤں‘‘ کے بیربل کی خواہش پر کچھ لکھ گئے تھے۔ صرف ایک ’’لفظ‘‘ نے اس محنتی، قابل، ویژنری آفیسر کا کیریئر برباد کر دیا۔ خاقان عباسی کو یہ لفظ اس کے سیکرٹری نے دیا تھا جو خود خاقان عباسی کے ایک قریبی عزیز سے دو پلاٹ چاہتا تھا۔ کبھی اس واقعہ کی تفصیل لکھوں گا۔ سیکرٹری صاحب ڈپٹی سیکرٹری لگنے کے اہل نہیں تھے۔ اے سی مری سے لے کر سیکرٹری تک کے سفر میں شاہد خاقان عباسی نے اہم ترین کردار ادا کیا۔ مجھے اس آفیسر سے ہونے والی زیادتیوں کا ہمیشہ کلک رہے گا۔ وہ اپنا مقدمہ اللہ کے حوالے کر چکے ہیں جیسے میں کر چکا ہوں مگر اصل نقصان تو ملک کا ہوا ہے۔
بیورو کریسی کے محاذ پر تحریک انصاف کا معذرت کے ساتھ کوئی ’’ہوم ورک‘‘ ہی نہیں تھا۔ وزارت داخلہ میں عمران احمد سپیشل سیکرٹری ہیں، بے داغ کیریئر رکھتے ہیں۔ وہ سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر سے سینئر ہیں۔ وہاں ان کی وزارت سے خدمات واپس لینے کی کوئی درخواست سننے کو تیار نہیں ہے۔ عجیب تماشا لگا ہوا ہے، ایسی ہی صورتحال پانی و بجلی میں ہے۔ ڈاکٹر عامر سینئر تھے، ناصر جامی جو جونیئر تھے ان کو سپیشل سیکرٹری لگا دیا گیا، اب وہاں سے دو سینئر آفیسر جانا چاہتے ہیں۔ یونس ڈھاگا اپنی جگہ پر براجمان ہیں۔ گیس کی قیمتوں کے حوالے سے سب فیصلے رُک گئے ہیں۔ یہ ساڑھے تین سو سیٹھ کھربوں روپے کی گیس کیپٹو پاور کے چکر میں ہڑپ کر گئے ہیں۔ یہ سستی ترین بجلی خود پیدا کرتے ہیں۔ دوسرے 15 روپے یونٹ کی بجلی خریدتے ہیں۔ خاقان عباسی نے ان کو دس روپے یونٹ بجلی دینے کی اس شرط پر پیشکش کی کہ وہ کیپٹو پاور کنکشنوں سے دستبردار ہو جائیں انہوں نے انکار کر دیا۔ شاہد خاقان عباسی ان کا کچھ نہیں کر سکے۔ ان کے پاس بھاری فنڈز ہر وقت ہوتے ہیں۔ آپ تبدیلی کے دعویدار ہیں تو سب کے لیے ’’لیول پلینگ فیلڈ‘‘ دیں۔ سب صنعت کاروں کو برابر کے ریٹ پر بجلی اور گیس ملنی چاہیے۔ حکومت نے ابھی اپنے ابتدائی قدم بھی نہیں رکھے تھے مگر کھاد والوں کے فیصلے بھی کر دیے۔ بھائی سیٹھ، سیٹھ ہیں۔ یہ کل بھی طاقتور تھے آج بھی طاقتور ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اسد عمر اور رزاق داؤد مل کر بھی اسحاق ڈار کے پیدا کیے مسائل کو دور نہیں کر سکیں گے۔ طارق بشیر چیمہ نے بھی سیفران سے ہاؤسنگ تک کا سفر تین ہفتوں میں ہی طے کر لیا ہے۔ عمر ایوب خان بہرحال اچھا اضافہ ہیں۔ وہ تجربہ کار کے ساتھ ساتھ نیک نیت بھی ہیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ڈلیور کر دیں۔ اگر یہاں ٹیم بنانے دی گئی تو، ایسا فی الحال نظر نہیں آ رہا۔ جس طرح سے وزارتوں پر لوگ مسلط کیے جا رہے ہیں، اس سے نتائج اور کامیابی مشکوک ہو جائے گی۔
اس وقت وفاق میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو گروپ اور دوسرے گروپوں میں بطور خاص سیکرٹریٹ گروپ میں جو محاذ آرائی ہو رہی ہے وہ نظام کے لیے انتہائی مضر ہے۔ ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں سول سروس ریفارمز کی جو کمیٹی بنائی گئی وہ پہلے ہی دن سے متنازع ہو گئی ہے، اس کی تشکیل اسے مشکوک بنا رہی ہے۔ اس میں 12 میں سے 9 لوگ پی اے ایس کے ہیں، انہی کا غلبہ ہے۔ سیکرٹریٹ گروپ کے فواد حسن فواد کے ایس آر او پر تحفظات بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ معاملہ عدالت میں آخری مراحل میں ہے کسی بھی وقت اس پر فیصلہ آ سکتا ہے۔ ایف بی آر میں جہانزیب خان کی بطور چیئرمین تعیناتی کے بعد انکم ٹیکس اور کسٹم گروپ میں شدید بے چینی دکھائی دے رہی ہے۔ یہی صورتحال سیکرٹریٹ گروپ میں ہے جہاں پر ان کی سیٹیں چھینے جانے پر بہت غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ سیکرٹریٹ گروپ حجم کے حوالے سے سب سے بڑا گروپ ہے مگر اس کی سیٹیں کم ہیں حتیٰ کہ سیکرٹریٹ کے اندر بھی ان سے زیادتی ہو رہی ہے۔ سیکرٹریٹ گروپ کی تشکیل کے پیچھے جو ذہن تھا کبھی کسی حکومت نے اس ذہن اور سوچ کو سامنے نہیں رکھا۔ ان کا سب سے بڑا کام پالیسی میکنگ ہے ان کی ’’گرومنگ‘‘ میں یہ عنصر سب سے پہلے مدنظر رکھا گیا۔ دوسرے حکومتی قوانین کی بندشوں اور پُرخار راستوں کے درمیان سے یہ راستہ بناتے ہیں، انہیں انکار کی عادت بھی ہوتی ہے۔ یہ کبھی گیلی زمین پر راستے نہیں بناتے اور نہ ہی اس طرف جاتے ہیں جہاں پر قدموں کے نشان ملتے ہوں۔ سیکرٹریٹ گروپ کو مسلسل نظرانداز کرنے سے حکومتی کام کی رفتار ایک عرصہ سے متاثر ہو رہی ہے۔ ’’پاس‘‘ کے لوگ حکومتوں کو یہی بتاتے ہیں کہ وہ تیز رفتاری سے کام کرتے ہیں، اس سوچ کے تحت ہی ہمیشہ ’’بلنڈرز‘‘ ہوتے ہیں اور ہوئے ہیں۔
آج نیب میں آدھے سے زیادہ وہ انکوائریز اور مقدمات ہیں جہاں پر قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے، ضابطوں کو نظرانداز کیا گیا یا ان کو روند کر راستہ بنایا گیا۔ حضور، قواعد و ضوابط ویسے ہی تو نہیں بنے۔ سیکرٹریٹ کے لوگ کہتے ہیں کہ ’’پاس‘‘ والے صبح سے شام تک، کیریئر کے پہلے دن سے لے کر آخری دن تک ’’کمپرومائزز‘‘ کرتے ہیں، انہیں ’’کھڑا‘‘ رہنا آتا ہی نہیں ہے۔ اگر یہ انتظامی گروپ سے ہیں تو انہیں انتظامی سیٹیں دی جائیں اور اس کا تعین کیا جائے، جیسے سیکرٹری داخلہ ’’فورس‘‘ کا آدمی ہونا چاہیے۔ اس کے نیچے رینجرز، پولیس، لیویز، آئی بی سے لے کر ایف سی تک فوج سے بڑی فورس ہے۔ وہ فورس کا مزاج تو سمجھتا ہو۔ مثلاً وزارت اطلاعات و نشریات والوں کا بھی یہی گلہ ہے۔ ان کی اپنے سیکرٹری سے یہی لڑائی رہتی ہے۔ سردار احمد نواز سکھیرا انتہائی قابل افسر ہیں، انفارمیشن والے مانتے ہیں مگر وہ اپنے حق سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہیں۔ آئی آر ایس اور کسٹم بھی بہت بڑے گروپ ہیں، وہاں پر بھی یہی لڑائی ہے۔ پولیس سروس کی بات کریں۔ ان کی سیٹیں طے کریں۔ ایف آئی اے، آئی جیز، آئی بی سے آگے بھی تو بڑھیں۔ اگر آپ کل ’’پاس‘‘ والے کو آئی جی لگا دیں یا ڈی جی ایف آئی اے لگا دیں تو کیا ہو گا، جیسے مولانا فضل الرحمٰن کے بھائی کا لطیفہ سامنے آیا ہے۔ اس کا تعلق پی ٹی سی ایل سے تھا۔ ضیاء الرحمٰن ڈی سی خوشاب بھی رہا، افغان کمشنر بھی رہا۔ یہ سب کیا ہے، یہاں جس کا زور ہے اس کا ہی شور ہے۔ ہم جا کس طرف رہے ہیں؟ آج جس کیخلاف سب کو شکایت ہے، وہی ریفارمز کرے گا تو اللہ ہی حافظ ہے۔
ریفارمز کمیٹی کی ازسر نو تشکیل ضروری ہے۔ عشرت حسین سے اسٹیٹ بینک 
 کے حوالے سے مشورے لیں۔ اگر ریفارمز کرنی ہیں تو تمام گروپس کو جن میں ’’پاس‘‘ پولیس، سیکرٹریٹ، انکم ٹیکس، کسٹم، فارن سروس، اطلاعات و نشریات، ریلوے، ڈاکخانہ، آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس اور ایکس کیڈر شامل ہیں، سب کو برابر کی نمائندگی دی جائے، سب کی سیٹیں طے کی جائیں۔ پرموشن کا بڑا واضح ضابطہ طے کیا جائے۔ ’’کیریئر گرومنگ‘‘ ابھی سے طے کی جائے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو خواجہ سرا نہ بنایا جائے، ٹرانسفر، پوسٹنگ میں وزیراعظم سیکرٹریٹ کا کردار ختم کیا جائے۔ 9 ہزار سے زائد مقدمات سرکاری ملازمین نے اپنی ہی حکومتوں اور محکموں کیخلاف کیے ہوئے ہیں۔ سول سروس تباہ ہو گئی ہے، اس کی صرف نبض چل رہی ہے اور وہ وینٹی لیٹر پر ہے۔ بیورو کریسی کی باڈی میں صرف دماغ اور دل کو ہی نہیں، باقی اعضا کو بھی ٹھیک کرنا ہو گا وگرنہ اس کی موت یقینی ہے۔ بیورو کریسی کی موت خدا نخواستہ ریاست کی موت ہو گی۔
اے جنوں دشت میں دیوار کہاں سے لاؤں
میں تماشا ہی سہی… بازار کہاں سے لاؤں
کس سے پوچھوں کہ میرا حال پریشاں کیا ہے
تجھ کو اے آئینہ بردار کہاں سے لاؤں
اب مرے کفر کو ایماں نہیں کہتا کوئی
تجھ کو اے چشم طرفدار کہاں سے لاؤں
(شاد تمکنت)
بقیہ: محاسبہ