21 اگست 2019
تازہ ترین

بیوروکریسی، سیاستدان اور خطہ چکڑالہ بیوروکریسی، سیاستدان اور خطہ چکڑالہ

آج پھر افسر شاہی میں اصلاحات کا وہی شور و غلغلہ بلند ہے جس سے ہماری سماعتیں مدتوں سے آشنا ہیں۔ ان اصلاحات کے بارے میں ماضی میں ہر حکومت نے لب کشائی کی تاہم یہ بیل کبھی منڈھے نہ چڑھ سکی۔ آج عمران خان کی وفاقی حکومت بھی ماضی کی طرح اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہونے کی دعویدار ہے۔ افسرشاہی المعروف بیورو کریسی اس ملک میں ایک ایسا شعبہ ہے کہ جس پر تبصرے کے لیے جتنے منہ اتنی باتیں۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں اس ملک کی افسر شاہی کی بہت دھوم تھی کہ ان عشروں میں نابغہ روزگار افسروں نے ملکی تاریخ پر گہرے نقوش ثبت کیے۔ یہ افسر تقسیم ہند سے پہلے آئی سی ایس کا امتحان پاس کر کے انگریز افسروں کے ہاتھوں سے تربیت پا کر افسر شاہی کا حصہ بنے۔ اس افسر شاہی کے بعض افسروں کے کچھ اقدامات یقیناً ہدف تنقید بنائے جا سکتے ہیں کہ جب وہ سیاست کی راہداریوں میں ایک فریق بن کر اپنی غیر جانبداری کھو بیٹھے تھے، تاہم ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور گورننس کے معاملات کی باریکیوں اور نزاکتوں سے ان کی آگاہی درجہ کمال کو پہنچی ہوئی تھی۔ ان افسروں نے جن انگریز بیورو کریٹس سے تربیت حاصل کی، ان کی انتظامی معاملات پر گرفت اور اپنے زیر تحت علاقوں اور اضلاع کے بارے میں ان کی معلومات، آگاہی اور تحقیق بھی کمال تھی جس کا ثبوت انگریزی راج میں لکھے جانے والے وہ گزیٹر تھے جو تقریباً متحدہ ہندوستان کے ہر ضلع اور خطے کے بارے میں ان افسروں نے مرتب کیے۔ ان گزیٹروں میں کسی خاص علاقے کے جغرافیے، اس میں بسنے والے لوگوں کے رسم و رواج، بود وباش، زبانوں اور ذاتوں وغیرہ کے بارے میں چھوٹی سے چھوٹی بات سے لے کر بڑے بڑے حقائق اس طرح ترتیب دیے ہوئے ہیں کہ فقط ایک گزیٹر کے مطالعے سے کسی خاص علاقے کے متعلق مکمل معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ آج سے ایک ڈیڑھ صدی لکھی جانے والی یہ دستاویزات آج بھی کسی خاص علاقے کے بارے میں آگاہی کے لیے اپنے اندر بھرپور جامعیت سموئے ہوئے ہیں۔ ایک مہربان دوست کی وساطت سے اپنے آبائی ضلع میانوالی کا ڈسٹرکٹ گزیٹر ہاتھ لگا جو 1915ء میں مرتب کیا گیا تو اس کے مطالعے نے آنکھیں کھول کر رکھ دیں کہ اس وقت کی افسر شاہی انتظامی معاملات میں کس قدر مستعد اور متحرک تھی۔ ایک اچھے انتظام کے لیے زیر تحت علاقوں کے بارے میں مکمل معلومات اور آگاہی شرط اول ہے۔ ان معلومات کی بنیاد پر ہی گورننس کو معاملہ فہمی اور تدبر و حکمت سے چلایا جا سکتا ہے۔ اس ڈسٹرکٹ گزیٹر میں ضلع میانوالی کے بارے میں معلومات اس درجہ مکمل ہیں کہ اس کے مطالعے کے بعد اس ضلع کے جغرافیائی خدو خال اور اس میں بسنے والوں کے رسم و رواج اور بودو باش تک ہر شے کی مکمل معلومات درج ہیں۔ اس دھرتی کے باسیوں کی شادی بیاہ، فوتگی کی رسموں سے لے کر یہاں پائے جانے والے چرند و پرند اور فصلوں تک کی خفیف سے خفیف بات مل جائے گی۔ انگریزی راج کی افسر شاہی بلاشبہ ایک سامراجی قوت کے مفادات کی نگہبان تھی تاہم اس نے انتظامی طور پر گورننس کے معاملات پر مکمل دسترس رکھی ہوئی تھی جو کسی خاص علاقے کے بارے میں ان کی حیرت زدہ تحقیق سے عیاں ہے جس کا ثبوت ڈسٹرکٹ گزیٹر یے۔ آج سے ایک صدی قبل ذرائع آمد و رفت اور ابلاغ کی کمیابی کے باوجود افسر شاہی کی قابلیت و اہلیت شک و شبہ سے بالاتر تھی۔ آج وسائل و ذرائع کی بھرمار کے باوجود افسر شاہی کی گورننس کے شعبے میں اہلیت پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ ان سے انتظامی امور سنبھل ہی نہیں پاتے۔ بیوروکریسی میں اصلاحات کا بھاری پتھر عمران خان کی حکومت نے بھی اٹھانے کا قصد کیا ہے جس کے اعلان ماضی کی حکومتوں نے بھی کیے تھے، لیکن جن پر عمل کرنے سے یہ حکومتیں گریزاں رہیں۔ عمران خان کی حکومت کو بیوروکریسی میں اصلاحات کے اس ایجنڈے کو یقینی طور پر بروئے کار لانا چاہیے تاکہ گراس روٹ لیول اور ضلعی سطح تک گورننس کے امور کو سدھارا جا سکے اور وہ مقامی اور ضلعی سطح تک لوگوں کے جذبات اور خیالات کا پاس رکھتے ہوئے اقدامات کرنے پر مجبور ہوں۔ سیاسی افراد کے اپنے ایجنڈے ہوتے ہیں اور ویسے بھی سیاست کے سینے میں دل نہیں، پتھر ہوتا ہے ورنہ ضلع میانوالی کے دورافتادہ خطے چکڑالہ کے باسی اس ناانصافی اور امتیازی سلوک پر احتجاج نہ کرتے جو انہیں تحصیل میانوالی کے بجائے ایک نئی زیر تشکیل تحصیل داؤد خیل کا حصہ بنانے پر برپا ہے۔ آج کے دور میں لوگوں کو قریب سے قریب تر تحصیل ہیڈکوارٹر میں مسائل کے حل کے بجائے اس ’’نابغہ روزگار‘‘ منصوبے کے تحت اب چکڑالہ کے سوا لاکھ سے زائد نفوس کو تحصیل سطح پر اپنے مسائل کے حل کے لیے پینتیس کلومیٹر کے بجائے ستر کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑے گا۔ داؤد خیل سے تعلق رکھنے والے ایم پی اے صاحب نے سیاسی مفادات کے تحت یہ کارنامہ انجام دیا لیکن چکڑالہ نامی علاقے کے باسیوں کو بھول گئے کہ انہیں تحصیل کی تبدیلی سے کس کرب و تکلیف سے گزرنا پڑے گا۔ سیاسی افراد کے اپنے ایجنڈے ہوتے ہیں اور وہ ان کے تابع ہو کر جائز و نا جائز کام کر گزرتے ہیں۔ تاہم یہ ضلعی بیوروکریسی ہی ہوتی ہے جو کسی انتظامی فیصلے کے نشیب و فراز کو جانچنے کی صلاحیت کے حامل ہوتے ہیں تاکہ مقامی افراد کے لیے مصائب کے بجائے آسانیاں پیدا کی جا سکیں۔ چکڑالہ کے باسیوں نے تحریک انصاف کے امیدواروں کے پلڑے میں ووٹوں کے انبار لگا دیے تھے۔ اس خطے کے باسیوں نے ’’تبدیلی‘‘ کے حق میں حمایت و تائید کے اس طرح ڈھیر لگا دیے کہ مقامی سیاست کے بڑے بڑے برج الٹ کر رکھ دیے۔ تاہم اس خطے کے عوام کو ’’تبدیلی‘‘ کی اس طرح قیمت چکانا پڑے گی، یہ ان کے وہم و گمان بھی نہ تھا۔ وزیر اعظم عمران خان بیوروکریسی میں اصلاحات کا کام بحسن خوبی انجام دے دیں تو ضلعی سطح کے انتظامی امور سیاست کی نذر ہو کر ناانصافی اور امتیازی سلوک پر منتج نہ ہوں جیسا خطہ چکڑالہ کے کیس میں ہوا۔