20 ستمبر 2019
تازہ ترین

بین الاقوامی تماشے بین الاقوامی تماشے

 موجودہ حالات پوری دنیا کیلئے موافق دکھائی نہیں دے رہے، شمالی کوریا کو امریکی دھمکیاں ہوں یا مملکت خدا داد پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے بڑے صوبے بلوچستان کی علیحدگی کی تحریک کا شوشہ، یہ سب ایک سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہے۔۔ یہ صرف عالمی تماشے ہیں بین الاقوامی ٹھیکیداروں کے، جو اپنے مفادات کو تقویت دینے کیلئے دنیا میں کسی نہ کسی بہانے سے ہلچل پیدا کرتے رہتے ہیں۔ شمالی کوریا نے امریکی دھمکیوں کو خاطر میں نہ لا کر اقوام عالم کو پیغام دے دیا ہے کہ ’’امریکا بہادر‘‘ نے کسی بہادری اور دلیری کا مظاہرہ کیا تو ’’شمالی کوریا‘‘ اسے ہر میدان اور محاذ پر چوکس تیار ملے گا۔ اسی لئے وہ امریکی پابندیوں پر بھی کان نہیں دھرتا کہ اسے معلوم ہے وہ اس قدر طاقت رکھتا ہے کہ امریکا تر نوالہ سمجھ کر ڈکار نہیں سکتا۔ ’’امریکا بہادر‘‘ عراق، لیبیا اور مصر میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کر کے سمجھتا ہے کہ وہ پوری دنیا کا فاتح ہے حالانکہ وہ ’’شام اور یمن‘‘ میں تمام تر کوششوں کے باوجود بے بس نظر آیا، بلکہ افغانستان میں بُری طرح ناکام ہوا۔ اب ’’روس اور چین‘‘ بھی کسی بڑی طاقت سے کم نہیں لہٰذا امریکا، پینٹا گون اور امریکی صدر ٹرمپ کو اپنے کردار پر غور کر نا ہو گا۔ شمالی کوریا نے امریکی دھمکیوں کو کتے کے بھونکنے سے تشبیہ دی ہے۔ کہتے ہیں سردی اور بے عزتی صرف محسوس کرنے سے لگتی ہے۔ دنیا کے ایک بڑے پہلوان ’’امریکا‘‘ کو کتا کہنا کوئی معمولی بات نہیں، بظاہر ’’امریکا بہادر‘‘ اس اعزاز کے بعد بھی مطمئن پائے جا رہے ہیں لیکن اندرون خانہ اور پینٹا گون میں سوچ و بچار جاری ہے کہ شمالی کوریا پابندیوں سے خوفزدہ نہیں تو اس کے خلاف کون سا ہتھیار استعمال کیا جائے۔ دوسری جانب گزشتہ دنوں ’’شمالی کوریا‘‘ میں آنے والے زلزلے کو ایٹمی دھماکے سے منسوب کیا جا رہا ہے، دنیا کے سیانے کہہ رہے ہیں کہ ’’شمالی کوریا‘‘ نے ’’ایٹم بم‘‘ کا تجربہ کر لیا ہے، ایسا ہے تو یہ ’’امریکا بہادر‘‘کی عالمی بد معاشی کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں۔ اس لئے کہ ’’شمالی کوریا‘‘ کے حکمران بآواز بلند دھمکیوں کے جواب میں واضح کر چکے ہیں کہ ’’امریکا‘‘ نے کسی چالاکی اور طاقت کا مظاہرہ کیا تو
اسے نا صرف آگ میں دھکیل دیا جائے گا بلکہ راکھ کا ڈھیر بنا دیا جائے گا۔ عوامی جمہوریہ چین نے عالمی افق پر جنگی ہلچل کا اندازہ کرتے ہوئے دونوں ممالک کو مذاکرات کا سہارا لینے کا مشورہ دیا ہے اور اس تجویز کی روس نے بھی تائید کی ہے۔ دوسری جانب امریکا کی لگائی پابندیوں پر بھی عمل درآمد کا آغاز کر دیا ہے، دراصل اَب لڑائی خالصتاً مفاد کی ہے کیونکہ معاملہ ’’معیشت‘‘ کی بنیاد پر مرکوز ہو چکا ہے۔ تمام تر بہادریوں اور دلیری کے باوجود امریکی معیشت بھی قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہے۔ صدر ٹرمپ ایک تاجر کی حیثیت سے ’’معیشت‘‘ کی بہتری کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں لیکن معاملات سلجھنے کے بجائے مزید الجھتے جا رہے ہیں۔ اس لئے کہ صدر ٹرمپ ملکی سطح پر ابھی تک اپنی پوزیشن مستحکم کرنے میں ناکام ہیں انہیں منتخب صدر ہونے کے باوجود سابق صدور کی طرح پذیرائی حاصل نہیں۔
تصویر کا دوسرا رخ جنوبی ایشیا کے معاملات ہیں جہاں افغانستان سے نیٹو فورسز کی نہ جان چھوٹ رہی ہے اور نہ ہی کامیابی دکھائی دے رہی ہے۔ صدر ٹرمپ کی نئی پالیسی برائے جنوبی ایشیا بھی سخت تنقید کی زد میں ہے لیکن یہاں امریکا بہادر اسرائیلی محبت اور اپنے مفادات کے باعث بھارت کو نمبردار بنانا چاہتا ہے جو کسی بھی طرح ممکن نظر نہیں آ رہا۔ افغانستان میں بد امنی کے باوجود سیکڑوں قونصلر خانے اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت سرحد پار سے پاکستان کے استحکام کو نقصان پہنچانے کی غرض سے وہاں موجود ہے۔ بلوچستان کی چمن سرحد اور کے پی کے طور خم بارڈر پر پاکستان نے سخت اقدام صرف بھارتی در اندازی کے شواہد پر کیے ورنہ اسلام آباد دہائیوں سے اپنے افغان بھائیوں کی میزبانی میں مصروف تھا اور اب بھی ہے۔ اس لئے کہ حقیقی اتحاد پاکستان اور افغانستان کا ہی بنتا ہے جو ہر لحاظ سے ایک دوسرے کے ناصرف قریب ہیں بلکہ مذہبی اور انسانی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں، پھر بھی بھارت اور مودی کو ’’آزاد بلوچستان‘‘ کی تکلیف ہے حالانکہ چند گمراہ اور بھارتی لابی کے علاوہ تمام بلوچی مملکت خدا داد پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور ماضی کی محرومیوں کے باوجود اپنا جینا مرنا وطن عزیز کے ساتھ ہی رکھنا چاہتے ہیں۔ سوئزر لینڈ کی حالیہ مہم جوئی وطن عزیز کے حکمرانوں کو یاد دہانی کرا رہی ہے کہ بھارتی جاسوس کل بھوشن یادیو کی گرفتاری اور اقبال جرم کے بعد بھی بھارت نے اس شر انگیزی سے توبہ نہیں کی بلکہ وہ کسی نہ کسی طرح ’’پاکستان‘‘ کو مشکلات میں دھکیلنا چاہتا ہے۔ اس کی نشاندہی مودی جی بھی قبل ازیں کر چکے ہیں کہ ان کی ہمدردیاں آزادی کے خواہشمند بلوچوں کے ساتھ ہیں جبکہ حقیقت میں صورت حال بالکل مختلف ہے۔ دراصل حکومت پاکستان نے گزشتہ چار سال میں اپنے سفارتی اور خارجی محاذ پر مصلحت پسندی سے کام لیا جس کی وجہ مستقل وزیر خارجہ کا نہ ہونا تھا۔ اَب حالات کی نزاکت کا اندازہ کرتے ہوئے بھرتی کے وزیر خارجہ سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیں ماضی کی اس کمی کو پورا کرنے کیلئے بین الاقوامی اداروں، حقوق انسانی کی تنظیموں کے وفود کو بلوچستان کی حقیقی صورت حال سے آگاہی کیلئے مدعو کرنا چاہیے۔ میں نے بہت پہلے اپنی ’’جمع تفریق‘‘ میں یہ نشاندہی کی تھی کہ ہمیں ’’پاک چین اقتصادی راہداری‘‘ کی بھاری قیمت ادا کرنا ہو گی جوں جوں ہم کامیابی، ترقی اور خوشحالی کی طرف بڑھیں گے ’’امریکا، اسرائیل اور بھارت‘‘ اپنے گٹھ جوڑ سے (باقی صفحہ 13پر)
 راہ میں رکاوٹیں ضرور کھڑی کریں گے اس لئے کہ پاکستان کا اقتصادی میدان میں کامیاب ہونا ان کی موت سے کم نہیں۔ چین جیسے آزمودہ دوست کا جنوبی ایشیا میں در آنا کسی بھی طرح امریکا اور اس کے حواریوں کو ’’وارہ‘‘ نہیں کھاتا کیونکہ مسلم دنیا کی پہلی ’’ایٹمی طاقت‘‘ کا مضبوط ہونا یہود و نصاریٰ کی نیندیں اڑانے کے مترادف ہے۔ اس لئے وطن عزیز کے حکمرانوں کو ابھی سے اپنے قومی اور اجتماعی مفادات کی صف بندی کرنا ہو گی۔ اس لئے کہ حالات بتا رہے ہیں کہ ’’سی پیک‘‘ کے ردعمل میں پاکستان کی مشکلات میں دشمن اپنی سازشوں سے اضافہ کریں گے۔ ’’آزاد بلوچستان‘‘ کا شوشہ کوئی نیا نہیں لیکن جس انداز میں اس کی لانچنگ ایک بار پھر کی گئی ہے اس کا مطلب حکمرانوں کو سمجھ لینا چاہیے تا کہ دشمن ’’سقوط ڈھاکہ‘‘ جیسی کوئی منصوبہ بندی نہ کر سکے۔ خدا کا شکر ہے کہ بلوچستان میں مقبوضہ کشمیر کی طرح کرفیو کا سماں نہیں، حکومت کو سفارتی اور خارجی محاذ کیلئے ایک مثبت اور دیرپا خارجہ پالیسی سے کام لینا ہو گا۔ ہمارا دشمن مکار اور چالاک ہی نہیں انتہائی دھوکے باز ہے وہ صرف پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی خواہش میں کسی بھی سازش کا حصہ بن سکتا ہے۔ میں ماہر اقتصادیات نہ ہوتے ہوئے بھی دنیا کی معاشی لڑائی اور ’’سی پیک‘‘ کے ثمرات سے اچھی طرح واقف ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس ترقی اور خوشحالی کے معاہدے میں روس، اسلامی ریاستیں، افغانستان، ایران، سعودی عرب ہی نہیں ازلی دشمن بھارت کو بھی شامل ہونا پڑے گا لیکن دشمن کی پہلی ترجیح امریکا اور اسرائیل کی خوشنودی کیلئے پاکستان کو ناکام بنانا ہی ہو گی۔ دشمن کی ہر سازش بے اثر ہو گی، انشاء اللہ۔ اس لئے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اور محب وطن عوام اس کے رکھوالے ہیں۔ جب جذبہ اور جنون عروج پر ہو تو عالمی تماشے ’’پاکستان‘‘ کے صبرو تحمل اور استقامت کے سامنے ریت کی دیوار سے زیادہ کچھ ثابت نہیں ہونگے۔