بہاریہ سورج مکھی کی کاشت بہاریہ سورج مکھی کی کاشت

خوردنی تیل انسانی خوراک کا اہم حصہ ہے لیکن آبادی میں مسلسل اضافے کی وجہ سے اس کی درآمد ہر سال بتدریج بڑھ رہی ہے۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا ناگزیر ہے، خاص طور پر ملک میں خوردنی تیل کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہر سال کثیر زرمبادلہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ موجودہ حکومت تیل دار اجناس خاص طور پر سورج مکھی کی پیداوار میں اضافے کے لیے جامع منصوبے پر عمل کررہی ہے جب کہ محکمہ زراعت پنجاب کے تحت تیل دار اجناس کی کاشت کے فروغ کے لیے خصوصی مہم بھی جاری ہے، تا کہ سورج مکھی کے زیر کاشتہ رقبہ اور پیداوار میں اضافے سے خوردنی تیل کی پیداوار بڑھائی جاسکے۔ 
صوبہ پنجاب میں اس سال سورج مکھی کی کاشت کا ہدف 2 لاکھ 10ہزار ایکڑ رقبہ مقرر کیا گیا ہے جب کہ صرف ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں سورج مکھی کے کاشت کے لیے 1لاکھ 10ہزار 571 ایکڑ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت پنجاب نے سورج مکھی کی کاشت کے فروغ کے لیے 5 ہزار فی ایکڑ سبسڈی دینے کا بھی اعلان کیا، تاکہ سورج مکھی کے زیر کاشت رقبہ اور پیداوار میں اضافہ کیا جاسکے۔ آل پاکستان سالونٹ ایکسٹریکڑز ایسوسی ایشن (APSEA) کے تعاون سے صوبہ بھر میں سورج مکھی کے خریداری مراکز بھی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ کاشت کار بآسانی سورج مکھی فروخت کرسکیں۔ سورج مکھی کی فصل کا دورانیہ قریباً 100سے 125دن ہوتا ہے۔ یہ فصل سال میں بآسانی دو دفعہ کاشت کی جاسکتی ہے، تاہم خزاں میں کاشت ہونے والی فصل بہاریہ فصل کے مقابلے میں کم پیداوار دیتی ہے۔ سورج مکھی کی فصل کو صحیح وقت پر کاشت کرنا فصل کی زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ زراعت نے بھی سورج مکھی کی پنجاب میں کاشت کا شیڈول جاری کردیا۔ سورج مکھی کی کاشت کے لیے پنجاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے حصے میں ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں سورج مکھی کی کاشت 31جنوری تک، دوسرے حصے میں بہاولپور، رحیم یار خان، خانیوال، ملتان، مظفر گڑھ، ڈیرہ غازی خان، لیہ، لودھراں، راجن پور، بھکر، وہاڑی اور بہاولنگر کے اضلاع میں سورج مکھی کی کاشت کا وقت یکم تا 31جنوری جبکہ تیسرے حصے میں میانوالی، سرگودھا، خوشاب، جھنگ، ساہیوال، اوکاڑہ، فیصل آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالا، لاہور، منڈی بہاؤ الدین، قصور، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، نارووال، اٹک، راولپنڈی، گجرات اور چکوال میں سورج مکھی کی کاشت کا وقت15جنوری تا15 فروری تک مقرر کیا گیا ہے۔
 سورج مکھی کی کاشت کے لیے اچھے اگاؤ والے صاف ستھرے دوغلی(ہائبرڈ) اقسام کے بیج کی فی ایکڑ مقدار 2 کلوگرام رکھیں۔ سورج مکھی کی موزوں اقسام میں ہائی سن- 33 ، ٹی- 40318، اگورا- 4، ایگسن 5264- اور یو ایس 666- شامل ہیں۔ سورج مکھی کی زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لیے موزوں وقت پر کاشت انتہائی ضروری ہے کیونکہ تاخیر سے کاشت کی صورت میں ناصرف سورج مکھی کی فی ایکڑ پیداوار میں کمی واقع ہوتی ہے بلکہ تیل کی مقدار میں بھی کمی ہوتی ہے۔ مختلف پرائیویٹ کمپنیاں دوغلی اقسام کے بیج فروخت کرتی ہیں، اس لیے کاشت کار محکمہ زراعت کے توسیعی کارکنان کے مشورہ سے ان کمپنیوں کے بااختیار ڈیلرز سے بیج خریدیں۔ کاشتکار اپنے علاقے میں وقتِ کاشت کے مطابق زمین کی تیاری مکمل کرلیں۔ بھاری میرا زمین سورج مکھی کی کاشت کے لیے بہت موزوں ہیں۔ سیم زدہ، کلراٹھی اور بہت ریتیلی زمین اس کے لیے موزوں نہیں ہے۔ زمین کی تیاری کے لیے راجہ ہل یا ڈسک ہل پوری گہرائی تک چلائیں تاکہ پودوں کی جڑیں گہرائی تک جاسکیں۔ سورج مکھی کو اگرچہ پلانٹراور ٹریکٹر ڈرل کے طریقے سے کاشت کیا جاسکتا ہے مگر بہتر پیداوار کے حصول کے لیے اسے ڈھائی فٹ کے فاصلہ پربنائی گئی کھیلیوں پرچوپے کی مدد سے کاشت کرنا چاہیے۔ عام طور پر سورج مکھی کی بھرپور پیداوار حاصل کرنے کے لیے پوٹاش 25کلو گرام، فاسفورس 34کلو گرام اور48 کلو گرام نائٹروجن فی ایکڑ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک تہائی نائٹروجن زمین کی تیاری کے بعد کھیلیاں نکالنے سے پہلے زمین میں بکھیردیں اور ایک تہائی نائٹروجن فصل کی چھدرائی کے بعد جبکہ باقی ماندہ نائٹروجن فصل کو مٹی چڑھانے سے پہلے ڈال دیں۔ آب پاش علاقوں میں ڈی اے پی اور پوٹاشیم سلفیٹ کی پوری مقدار زمین تیار کرتے وقت اور یوریا کی آدھی بوری پہلے پانی پر، آدھی دوسرے پانی پر اور باقی مقدار پھولوں کی ڈوڈیاں بنتے وقت پانی کے ساتھ ڈالنا بہتر ہے۔ توقع ہے کہ زرعی سائنسدان اور کاشت کاروں کی مشترکہ کاوشوں سے سورج مکھی کی پیداوار میں اضافہ ممکن بناکر ہم خوردنی تیل کی پیداوار بڑھانے میں کامیاب ہوں گے، جس سے خوردنی تیل کی درآمد پر آنے والے اخراجات میں کمی کے ساتھ زرمبادلہ کی بھی بچت ہو گی۔