17 نومبر 2018
تازہ ترین

بھارت کی صنعتی ترقی اور ہماری معاشی تباہی بھارت کی صنعتی ترقی اور ہماری معاشی تباہی

نیو ورلڈ آرڈر کے دوسرے مرحلہ میںنئی مارکیٹوں کی تلاش اور اس پر گرفت مضبوط کرنا تھی۔ بھارت کی طرف ملٹی نیشنل کمپنیوں کی رغبت اسی منافع خوری کے بنیادی فلسفہ کے باعث تھی جو سرمایہ داری نظام اور اجارہ دار کمپنیوں کا اصول اور حصول ہے۔ یہاں ایک حقیقت تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ:
ان کمپنیوں کے اپنے ملکوں میں جو قوانین محنت کشوں کیلئے مخصوص ہیں، جو سہولتیں اور مراعات انہیں دینا پڑتی ہیں وہ ناقابل برداشت بھی تھیں اور ہیں، دوسرا یہ کہ ان کے باعث منافع میں بھی کمی آتی تھی۔ تیسرا یہ بھی کہ ان مصنوعات سے ان ملکوں کے عوام فیض حاصل کر چکے تھے، ان کی ڈیمانڈ ختم ہو چکی تھی جبکہ سپلائی زیادہ تھی لہٰذا انہیں منڈیوں کے ساتھ ایسے معاشروں کی ضرورت تھی جہاں ڈیمانڈ بھی ہو اور قوت خرید بھی ہو۔ چنانچہ ایک تصور یوں بھی سامنے آیا کہ سرمایہ دار ملک اور ملٹی نیشنل کمپنیاں معاشرتی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کریں گی تاکہ عوام کی قوت خرید میں اضافہ ہو سکے۔ لہٰذا اگر بھارت میں پچھلے تیس سال میں ہونے والی صنعتی ترقی کو دیکھا جائے تو اس میں یہ پہلو بھی نمایاں ہوتا ہے۔ اس ترقی نے جی ڈی پی کی سالانہ شرح 9.8 فیصد تک پہنچا دیاہے جو دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ ہے۔
اس ترقی نے اگرچہ پسماندہ اور پسے ہوئے طبقات کو کچھ نہیں دیا بلکہ بعض اعداد و شمار میں غربت کی لکیر کے نیچے روندے جانے والے افراد میں اضافہ ہوا۔ اول ترجیح لوئر اور مڈل کلاس کی ترقی اور خوشحالی تھی کیونکہ یہی کلاس ملٹی نیشنل کمپنیوں کی مصنوعات پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ بھارتی مارکیٹ میں آج لوئر مڈل کلاس پچاس فیصد کے قریب پہنچ چکی ہے جس کیلئے یہ پراپیگنڈا بھی لازم سمجھا گیا کہ یہی کلاس ہے جو جمہوریت کی محافظ ہوتی ہے اور اسی کی وجہ سے بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا اعزاز حاصل کر چکا ہے، ورنہ کون نہیں جانتا کہ بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ کہاں سے آئے تھے اور انہوں نے بھارت کی مارکیٹ کو ’’اوپن‘‘ کرنے میں کیا کردار ادا کیا تھا۔ بہرحال اس ترقی میں میڈیا کی آزادی نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ اپنی تہذیب، ثقافت کو اس انداز میںگلیمرائز کیا کہ مصنوعات کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوا۔ اس نے عورت کے حسن اور خوبصورتی کو مغربی انداز میں ملبوس کر کے منافع کمایا جس کی ایک مثال سونی کمپنی ہے جس نے بھارت کی’’ترقی پذیر سوسائٹی‘‘ میں سالانہ دس ارب ڈالر کا منافع کمایا ہے۔ سرمایہ دارانہ ذہنیت کی وحشت، منافع خوری کی بربریت اور اس کیلئے طریقہ کار کی مثال یوں بھی سامنے آ چکی ہے کہ پچھلی صدی میں بھارتی لڑکیوں کو ملکہ حسن، مس ورلڈ اور مس یونیورس کے خطابات سے نوازا گیا اور پھر یہی کام مس انڈیا اور ویمن آف انڈیا کے اعزازات کی تقسیم کے ذریعے ہوا۔ اعزازات کی اس بندر بانٹ کا یہ نتیجہ بھی برآمد ہوا کہ ہر شہر، ہر قصبے بلکہ محلے میں جم اور بیوٹی پارلرز کھل گئے اور ان میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی کالی کو گوری اور گوری کو مزید صاف شفاف بنانے والی مصنوعات کی بھرمار ہو گئی، جس کا فائدہ کاسمیٹکس کمپنیوں کو ہوا۔ گویا میڈیا پر گرفت نے کنزیومر سوسائٹی بنانے کے ساتھ مصنوعات کی فروخت میں بنیادی اور معاون کردار ادا کیا۔
اب یہاں ایک اہم سوال اور اس کا جواب بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اولین ترجیح بھارت ہی کیوں؟ سستی لیبر اور قوانین کی سہولت اپنی جگہ لیکن وہ نام نہاد سیکولرازم اور روشن خیالی کی تشہیر جو ریاست کی سرپرستی میں ہوتی رہی اس نے کنزیومر سوسائٹی کی تخلیق میں بھی معاون کردار ادا کیا، جو پاکستان کے مخصوص ماحول میں تیزی کے ساتھ سامنے نہیں آیا۔ انتہا پسندی، شدت پسندی، فرقے بازی، خودکش حملے اور بم دھماکے اگرچہ جنرل ضیاء الحق کی ’’افغان باقی کہسار باقی‘‘ کی پالیسیوں کا نتیجہ تھا لیکن بعد میں اسے ان قوتوں نے بھی استعمال کیا جو بھارت کی وسیع تر مارکیٹ یا پھر پچاس فیصد کے قریب لوئر مڈل کلاس کو اپنی گرفت میں لینا چاہتے تھے جبکہ اس کے بالمقابل پاکستان میں لوئر مڈل کلاس پانچ 
فیصد کی تھی اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی شرح پچاس فیصد سے بھی زائد بتائی جاتی ہے بلکہ اس میں روزانہ تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ پندرہ ہزار افراد سفید پوشی کا بھرم اتار دیتے ہیں حالانکہ تلخ سچائی تو یہ بھی ہے کہ اس ’’مملکت خداداد‘‘ کی بے سمتی ہی پائوں کی زنجیر بنی ہوئی ہے۔ چار کروڑ سے زائد نوجوان مین پاور رکھنے والی یہ ریاست کئی بار دیوالیہ ہونے سے بچی ہے، آج کل پھر اسی زد میں ہے اور یہ مختلف اداروں، ہمدردوں اور دوست ممالک کی طرف رحم طلب نگاہوں سے دیکھ رہی ہے مگر افسوس اپنی معاشی سمت تبدیل کرنے پر تیار نہیں۔ بہرحال پاکستان میں داخلی بدامنی میں بھارت کا بھی اہم کردار ہے، اس کا بنیادی مقصد پاکستان میں معاشی تباہی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری روکنا اور اس کا رخ اپنی طرف موڑنا تھا جس میں وہ بہت حد تک کامیاب بھی ہوا ہے۔
بقیہ: پس حرف