بھارت: نظام کی تبدیلی میں تعلیمی نظریات کی اہمیت! بھارت: نظام کی تبدیلی میں تعلیمی نظریات کی اہمیت!

عام طور پر تصورات کسی نہ کسی نظریے پر مبنی ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے جس کے نتیجے میں افراد متاثر ہوتے ہیں، اس کے دوررس نتائج سامنے آتے ہیں۔ برخلاف اس کے وہ باتیں اور سرگرمیاں جو نظریے سے خالی ہوں، ان کی زندگی ہوتی ہے اور نہ پختگی، ساتھ ہی تصورات کو شکل دینے میں بھی دشواری ہوتی ہے۔ غالباً اسی تناظر میں نظریے کے فروغ کے لیے جو سب سے موثر طریقہ اختیار کیا جاتا ہے، وہ کسی بھی گروہ کا تعلیمی نظام ہے۔ تعلیمی نظام جہاں نظریات کو فروغ دینے کا آسان ذریعہ ہے اور تصورات کو ایک خاص رنگ میں ڈھالنے میں مددگار، وہیں ماضیٔ قریب میں یہ احساس بھی شدت سے اجاگر ہوا ہے کہ تعلیم کے تصور کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے سماجی نقطۂ نظر سے اس کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ تعلیم جو اپنے تئیں سماجی مظاہر ہی میں سے ایک ہے، کا مکمل احاطہ اسی نقطۂ نظر سے ممکن ہے۔ یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ تعلیمی کاوشیں انفرادی کوششوں کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ ناصرف بہت حد تک نظریات سے متاثر ہیں بلکہ اکثر اوقات نظریات ہی ان کی بنیاد ہوتے ہیں۔ تعلیمی عملیات (Educational Practices) کے تجزیے کے لیے تعلیم اور نظریات کے تعلق کو سمجھنا بھی ضروری ہے اور یہ بھی کہ نظریات تعلیم کے تصور اور عمل میں کیا حیثیت رکھتے ہیں؟ سماجی عملیات میں نظریے کی اہمیت کا مزید تجزیہ کرنے سے قبل ضروری ہے کہ لفظ نظریہ Ideology کی وضاحت ہوجائے۔ نظریے کو عام طور پر منفی معنی میں بیان کیا جاتا ہے اور لوگوں کو باور بھی کرایا جاتا ہے کہ فلاں نظریہ غالب آنے والا ہے، فلاں کے غلبے کے لیے یہ کوششیں ہورہی ہیں اور فلاں نظریات کے حاملین کو مخصوص نظریے کے فروغ کے نتیجے میں نقصانات کا اندیشہ ہے۔ لیکن موجودہ زمانے میں ’نظریہ‘ کو فلاسفی کا نعم البدل لفظ گردانا جانے لگا ہے۔ نظریے کو سادہ لفظوں میں عقائد کا مجموعہ بھی کہا جاسکتا ہے۔ ایسے عقائد جو انفرادی نہیں، بلکہ گروہی طور پر اپنائے گئے ہوں۔
معاشرتی اداروں میں تعلیم کا سماجی عمل Socialization اہم کردار ادا کرتا ہے۔ چونکہ تعلیمی ادارے مخصوص نظریات کی تشکیل اور تسلسل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور مخصوص نظریات کی بنیاد پر معاشرے کے بااثر اورممتاز افراد کے مفادات کی نگہبانی کاکام انجام دیتے ہیں، لہٰذا عموماً نظریات پر مبنی تعلیمی اداروں سے ایک خاص گروہ اپنی دورے بنائے رکھتا آیا ہے، لیکن مضحکہ خیز یا حیرت کی بات یہ کہ یہ گروہ اور اس سے وابستہ افراد خود اپنے آپ میں چند نظریات سے وابستہ ہوتے ہیں اور اپنی مخصوص شناخت بھی رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی مخصوص شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے اور جن نظریات سے وہ وابستہ ہیں، اس کے فروغ کی خاطر، نظریات کے حاملین اداروں سے دُوری بنائے رکھتے ہیں اور ظاہراً یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ کسی مخصوص نظریے سے تعلق نہیں رکھتے۔ موجودہ بھارت کا تذکرہ ہو یا آزادی سے قبل انگریز کے ہندوستان کا ہر دو ادوار میں تعلیمی نظریات کو بنیاد بناکر مخصوص نظریات کو فروغ دیا گیا، وہیں مخصوص نظریات کو کمزور کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی اور یہ کوششیں آج 2018 کے ہندوستان میں بھی پوری آن، بان اور شان سے جاری ہیں۔
موجودہ تعلیمی نظام جس میں بہت ساری خوبیاںہیں تو وہیں کافی خامیاں بھی موجود ہیں، جنہیں دُور کرنے کی ضرورت ہے۔ ٹھیک یہی معاملہ تعلیمی نظریات کا بھی ہے۔ موجودہ تعلیمی نظریات میں استاد ممتاز ہے اور علم کاسرچشمہ وہی ہے جب کہ شاگرد کا کام صرف وصول کرنا ہے۔ استاد نظریات کے ساتھ نصاب ترتیب دیتے، تاریخ لکھتے ہیں اور ان سے لکھوائی جاتی ہے اور ان معاشرتی اصولوں کو مرتب کرتے ہیں، جن کی بنیاد پر معاشرے کو پروان چڑھانے کی کوشش ہوتی ہے۔ پھر اس کے اردگرد تعلیمی اداروں میں وہ مخصوص ماحول پروان چڑھایا جاتا ہے جو ان تعلیمی نظریات کے فروغ میں معاون و کارگر ہوں۔ اس طرح آغاز تا اختتام طلبہ کو مخصوص نہج پر ہمارے تعلیمی ادارے نظام مہیا کرتے ہیں۔ نتیجے میں مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے جن نوجوانوں کو ہم پروان چڑھاتے ہیں، وہ عموماً کسی اور نظریہ، فکریا تصورکو قبول کے لائق ہی نہیں رہتے اور معاش سے وابستہ ہوکر انہیں کسی اور جانب سوچنے سمجھنے کے مواقع بھی میسر نہیں آتے، کیونکہ اب ان کی زندگی کا صرف ایک مقصد باقی رہ جاتا ہے جس میں آرام و آسائش اور دنیا کی لذتوں کا حصول ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ اس طرح اچھے خاصے گھرانے اور خاندانوں کے بچوں کی زندگیاں مقصدیت سے عاری ہوجاتی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ہمارا وہ تعلیمی نظام ہے، جو آج مروج ہے۔ اور اس میں بھی ہمارا وہ موجودہ امتحانی نظام جو غیرمربوط قسم کی زبانی یاد کی گئی چیزوں پر مرکوز ہے۔ جن میں ایسے سوالات سرے سے امتحانی پرچے میں شامل ہی نہیں ہوتے جن کا تعلق حاصل شدہ علم کے اطلاق Application of Knowledgeسے ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ صورت حال ہمیں اس طرف راغب کرتی ہے کہ ہم اس تعلیمی نظام کی آئیڈیالوجی کا ازسرنو جائزہ لیں، جس کی بنیاد پر معاشرے کے طاقتور گروہ مزید طاقتور بنتے جارہے ہیں اور غریب مزید غربت میں مبتلا ہوتا جارہا ہے۔ ہمارے مروجہ تعلیمی نظام میں جس طرح کی تعلیم دی جارہی ہے، اس کے مطابق تعلیمی ادارے موجودہ طاقتور افراد، گروہ اور برسراقتدار لوگوں کے معاون بنے ہوئے ہیں اور یوں امیر اورغریب کے درمیان فرق بڑھتا چلا جارہا ہے۔
موجودہ مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ ایک جانب ان تعلیمی نظریات کو فروغ دیا جائے جو صرف مادیت پر مبنی نہ ہوں، بلکہ ان کے اندر عدل و قسط کے پیمانے بھی موجود ہوں۔ وہیں مسائل کے حل کے لیے موجودہ امتحانی نظام کو بھی بدلنا ہوگا جو صرف یادداشت کا امتحان لیتا ہے۔ نتیجہ میں ایک طالب علم اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں ناکام رہتا ہے۔ ہمیں ایک ایسا نظام چاہیے، جہاں طلباء تخلیقی اور تنقیدی سوچ کا استعمال کرتے ہوئے مختلف صورتوں میں علم کو استعمال کرسکیں، کیونکہ یہ عیاں ہے کہ تحقیق کے نام پر ایم فِل اور پی ایچ ڈی کرنے والے طلبہ بھی قبل ازوقت موجود علم ہی کو الفاظ کے الٹ پھیر کے ساتھ استعمال کرتے ہوئے لفظ ’تحقیق‘ سے کھلواڑ کررہے ہیں۔ ہمیں ٹرانسمیشن کے ماڈل سے ٹرانسفارمیشن کے ماڈل کی طرف جانا ہوگا، کیونکہ موجودہ ٹرانسمیشن ماڈل صرف نظریات اور تصورات کی نسل درنسل منتقلی کو ممکن بناتا ہے۔ تعلیم کو بامعنی بنانے کے لیے ہمیں اب مکمل تبدیلی کے انداز کی طرف رجوع کرنا ہوگا، جہاں تعلیم کا مقصد سماجی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی نظام کی اصلاح اور عدل و انصاف کا حصول ہونا چاہیے۔