20 ستمبر 2019
تازہ ترین

’’بھارت نامہ‘‘ ’’بھارت نامہ‘‘

سیکولرازم کے خود ساختہ دعویدار، بھارت میں مسلمانوں کے خلاف انتہاپسندی اور تعصب کی روش اب اس نہج پر آن پہنچی ہے کہ ریاست اترپردیش میں قائم بی جے پی کی حکومت نے بین الاقوامی شہرت یافتہ تاریخی یادگار، تاج محل کو اس سرکاری پمفلٹ سے خارج کر دیا ہے جو ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو قابل دید مقامات کی نشاندہی اور رہنمائی کے ضمن میں فراہم کیا جاتا تھا۔ اس سے پہلے جون میں یو پی کے وزیراعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ نے تاج محل کے حوالے سے یہ ہرزہ سرائی کی تھی کہ سفید رنگ کی یہ عمارت بھارت کی ثقافت کی آئینہ دار نہیں۔ غیر ملکی سرکاری مہمانوں کو گیتا اور مہا بھارت کا تحفہ پیش کیا جاتا ہے حالانکہ اس سے پہلے ان کو تاج محل کے ماڈل پیش کئے جاتے تھے۔ مذکورہ سرکاری فیصلے کا اصل سبب اور پس منظر اسلام دشمنی اور مسلمانوں سے نفرت ہے۔ ایسے میں اس حقیقت کو یکسر فراموش کر دیا گیا ہے کہ اب تاج محل کی حیثیت اور اہمیت کا سبب محض یہ نہیں کہ اس کو ایک مسلمان بادشاہ نے اپنی ملکہ کی یاد میں تعمیر کرایا تھا بلکہ اب یہ عمارت بین الاقوامی شہرت حاصل کرنے کے بعد یونیسکو کے ثقافتی ورثے میں شامل ہے اور دنیا بھر میں اس کو محبت کی یادگار تسلیم کیا جاتا ہے۔ خوب اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بی جے پی کی حکومت نے تاج محل کو سیاحوں میں تقسیم کئے جانے والے تشہیری پمفلٹ میں سے خارج کر کے دراصل اپنی تنگ نظری، مذہبی تعصب اور ’’ثقافتی جہالت‘‘ کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ شنید رہا کہ جب امریکی صدر لنڈن بی جانسن نے تاج محل کو دیکھا تو موصوف نے برجستہ کہا ’’امریکی امداد کے بغیر یہ عجوبہ کیسے تعمیر ہو سکا‘‘۔
بھارتی حکومت کے مذکورہ فیصلے کو بھی بجا طور پر عجوبہ ہی تصور کیا جا رہا ہے اور اس بارے خبر کا مطالعہ کرتے ہوئے مجھے اردو کے مقبول رومانی شاعر اور گیت نگار ساحر لدھیانوی کا بار بار خیال آتا رہا جنہوں نے گزشتہ صدی کے 40ویں عشرے میں ہی تاج محل کے حوالے سے اپنی نظم میں کہا تھا ’’اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر، ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق‘‘۔ اس خبر اور ساحر لدھیانوی کے دھیان میں کئی ایسی خبروں کی یاد بھی تازہ ہو گئی جو حالیہ دنوں میں اشاعت پذیر ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک خبر کے مطابق بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں ایک شخص نے اپنی بیوی کو 60 ہزار روپے میں فروخت کر دیا، ستیندر لودھی نے چھ ماہ قبل شادی کی تھی، پولیس نے ملزم سمیت پانچ افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے ان کی تلاش شروع کر دی ہے۔ بھارت میں عورتوں کے ساتھ سماجی اور معاشرتی سطح پر جو ناانصافی، زیادتی اور بدسلوکی کی جاتی ہے اس کے نتیجہ میں بھارتی عورت کی زندگی ایک جبر مسلسل بنی ہوئی ہے۔ اس کا اندازہ اس خبر سے ہوا کہ ریاست گجرات کے دارالحکومت احمد آباد میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران بی جے پی کی رکن اسمبلی پونم مہاجن نے اپنے ملک میں اخلاقی زوال کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ہر بھارتی عورت جنسی ہوس کا نشانہ بنتی ہے۔ انہوں نے یہ اعتراف اور انکشاف بھی کیا کہ انہیں بھی جنسی طور پر ہراساں کیا گیا جبکہ بھارت میں ہر عورت زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر جنسی حملے کا نشانہ بنتی ہے۔ پونم مہاجن نے کہا کہ وہ زمانہ طالب علمی میں ٹرین میں سفر کرتی تھیں تو انہیں بھی مردوں کی غلط نگاہوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا لیکن میں نے کبھی خود پر ترس نہیں کھایا، بھارت میں ہر عورت کے ساتھ یہی ہوتا ہے، ہر بھارتی عورت پر جملے کسے جاتے ہیں اور اس کو نامناسب طور پر ہاتھ بھی لگایا جاتا ہے۔
پونم مہاجن نے اپنے خیالات کا اظہار کر کے دراصل بھارتی معاشرے کے اس مکروہ چہرے کو بے نقاب کیا جس کو بھارتی فلموں اور دیگر ثقافتی میک اپ سے چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس تناظر میں یہ خبر نہایت فکر انگیز محسوس ہوئی کہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اپنے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ قوت گویائی اور سماعت سے محروم لڑکی گیتا کے خاندان کی تلاش میں مدد کریں۔ اس کے علاوہ انہوں نے پیشکش کی کہ جو کوئی بھی گیتا کے والدین کی تلاش میں مدد کرے گا، اس کو ایک لاکھ ہندوستانی روپے بطور انعام دیے جائیں گے۔ سشما سوراج نے گیتا کے والدین پر زور دیا کہ وہ سامنے آئیں اور اپنی بیٹی کو لے جائیں، آپ کی بیٹی آپ سے ملنے کے لئے بے چین ہے۔ انہوں نے یہ وعدہ بھی کیا کہ گیتا کی تعلیم سے لے کر شادی تک کے اخراجات ہندوستانی حکومت ادا کرے گی۔ واضح رہے کہ پاکستان رینجرز نے 2003ء میں سرحد عبور کر کے لاہور پہنچنے والی ایک 11 سالہ بھارتی لڑکی کو تحویل میں لیا تھا جس کے بعد اسے ایدھی فاؤنڈیشن کے حوالے کر دیا گیا، جہاں بلقیس ایدھی نے اسے گیتا کا نام دیا تھا۔ اکتوبر 2015ء میں گیتا کو بھارتی حکام کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ اس مرحلے پر متعدد خاندانوں نے دعویٰ کیا کہ گیتا ان کی بیٹی ہے تاہم وہ کسی کو بھی شناخت کرنے میں ناکام رہی۔ گیتا آج کل ایک بھارتی این جی او کے ساتھ رہائش پذیر ہے جہاں پر اس نے کمپیوٹر چلانا سیکھ لیا ہے لیکن وہ اپنے والدین سے ملنے کے لئے پریشان رہتی ہے۔
بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کی گیتا کے ساتھ ہمدردی اپنی جگہ درست اور جائز سہی لیکن کاش بھارتی وزیر خارجہ ان احوال کا بھی احساس کریں جو بھارت کے سینئر سیاست دان اور سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا نے ایک انٹرویو میں بیان کئے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک اور واضح الفاظ میں کہا کہ بھارت نے کشمیر کو جذباتی طور پر گنوا دیا ہے۔ فوجی طاقت سے اس مسئلے کا حل نکالے بغیر نا صرف پاکستان کے ساتھ فوری طور پر مذاکرات سے شروع کئے جائیں بلکہ حریت سمیت تمام متعلقین کے ساتھ بات چیت کر کے کشمیر مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ یشونت سنہا نے کچھ عرصہ قبل کشمیر میں مقامی افراد کے ساتھ بات چیت کر کے اپنی رپورٹ مرکزی سرکار کو پیش کی تھی جس میں نشاندہی کی گئی تھی کہ اب لوگوں میں گزشتہ سال کی نسبت زیادہ مایوسی پائی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو مجھے سب سے پریشان کر رہا ہے۔ آپ کشمیر کا دورہ کریں تو اس بات کو محسوس کریں گے کہ لوگوں نے ہم پر یقین کرنا چھوڑ دیا ہے۔ اگر فوری طور پر کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا تو لوگوں میں یہ احساس وسیع ہو جائے گا کہ مرکزی حکومت کو ان کی پروا نہیں ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بھارتی اخبار ’’ہندوستان ٹائمز‘‘ کے مطابق بھارتی ریاست بہار میں محرم کے جلوس کے دوران نوجوانوں نے پاکستان اور پی سی بی کے لوگو والی سبز رنگ کی ٹی شرٹس پہن کر پاکستان کے حق میں نعرے لگائے جس پر 21 افراد کے خلاف بغاوت اور سماج مخالف اقدام کے الزامات کے تحت مقدمات درج کر لئے گئے۔ پولیس نے ان افراد کی گرفتاری کے لئے ان کے گھروں پر چھاپے مارے تاہم وہ تمام افراد مفرور پائے گئے۔
ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں کسی کو اس بات کی کیا فکر ہو گی کہ بھارت میں ریلوے ٹریک پر سیلفی لینے کی کوشش میں کالج کے تین طلبا ایکسپرین ٹرین کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے، پولیس کے مطابق یہ واقعہ جنوبی ریاست کرناٹکا کے علاقے بداوی میں پیش آیا، تینوں نوجوان ریلوے پل پر اپنی تصاویر بنانے میں مصروف تھے کہ اس دوران ٹرین نے انہیں کچل دیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ریاست اڑیسہ میں ہاتھی نے اس وقت ایک شخص کو کچل دیا تھا جب وہ اس کے ساتھ سیلفی بنانے کی کوشش کر رہا تھا، کارنیگی میلن یونیورسٹی اور اندرا پر ستھھا انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن دہلی کے مطابق مارچ 2014ء سے ستمبر 2016ء میں دنیا بھر میں سیلفی لیتے ہوئے 127 اموات ہوئیں جس میں سے 76 ہلاکتیں صرف بھارت میں ہوئی تھیں۔